آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

ایڈیڈاس کی کارپوریٹ منافقت

دورِ حاضر میں ملٹی نیشنل کمپنیاں خود کو امن، مساوات اور انسانی اقدار کے علمبردار کے طور پر پیش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ مگر جب مفادات، معیشت اور عالمی طاقتوں کے گٹھ جوڑ کی بات آتی ہےتو کارپوریٹ دنیا کا یہ اخلاقی لبادہ تار تار ہو جاتا ہے۔ کھیلوں کے سامان کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی 'ایڈیڈاس' کا حالیہ اشتہاری اقدام اس کارپوریٹ بے حسی اور منافقت کی ایک بدترین مثال بن کر سامنے آیا ہے۔

ایڈیڈاس کی جانب سے ایک ایسے جوتے کی باقاعدہ تشہیر اور مارکیٹنگ کی گئی جس کی نسبت ایک معذور قابض فوجی سے جوڑی گئی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایک فرد کی معذوری کو کس طرح پیش کیا جا رہا ہے، بلکہ اصل سوال اس سیاق و سباق، وقت اور ارادے کا ہے جس کے تحت یہ مہم چلائی گئی۔ یہ اشتہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قابض اسرائیلی ریاست کی مسلح جارحیت غزہ میں کھلی نسل کشی کی مرتکب ہو رہی ہے، روزانہ کی بنیاد پر بے گناہ شہری لقمہ اجل بن رہے ہیں، اور ہزاروں بچے اور نہتے افراد اپنے ہاتھ پاؤں کٹوا کر عمر بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔

کسی بھی تجارتی ادارے کے لیے ایک ایسی فوج کے سپاہی کو ہمدردی یا ہیرو ازم کی علامت بنا کر پیش کرنا محض ایک "تجارتی فیصلہ" نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک کھلی سیاسی اور اخلاقی جانبداری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جب ایک برانڈ حملہ آور صفوں میں کھڑے فرد کے گرد بیانیہ بُنتا ہے اور اسی جنگ کے نتیجے میں معذور ہونے والے ہزاروں معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کی تکلیف کو سرے سے پسِ پشت ڈال دیتا ہے، تو وہ دانستہ مظلوم کی تذلیل اور ظالم کی پردہ پوشی کا مرتکب ہوتا ہے۔

کارپوریٹ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوامی شعور بیدار ہو، تو کمپنیاں اکثر اپنے متنازع فیصلوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن ایڈیڈاس نے جس کھلے پن اور اشتعال انگیزی کے ساتھ یہ قدم اٹھایا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقتور عالمی تجارتی گروپس عام صارفین کے ضمیر اور انسانی جانوں کے تقدس کو کتنا بے وقعت سمجھتے ہیں۔ کیا ایک باضمیر معاشرے میں صارفین کو محض خریداری کرنے والا ایک خاموش ہندسہ سمجھ لیا گیا ہے، جن کے احساسات اور انصاف پسندی کی کارپوریٹ بورڈ رومز میں کوئی قدر نہیں؟

یہ مسئلہ کسی مخصوص جذبے یا وقتی غصے کا نہیں، بلکہ بنیادی انسانی وقار اور اصولوں کا ہے۔ جب ادارے منافع کے حصول کے لیے اخلاقیات کا گلا گھونٹ دیں، تو بحیثیت انسان یہ ہر فرد اور سماج کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس تماشے پر خاموش نہ رہے۔ تجارتی اداروں کو یہ باور کرانا ناگزیر ہے کہ جارحیت کو گلیمرائز کرنا، انسانی المیوں پر منافع کمانا، اور مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکنا کبھی بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اگر اخلاقیات کا درس دینے والے ادارے خود جارحیت کے وکیل بن جائیں، تو ان کی ساکھ اور مصنوعات دونوں ہی اپنی معنویت کھو بیٹھتی ہیں۔

ابوبکر صدیق · مصنف