طوفان الاقصیٰ، پہلے اور بعد

غزہ میں جاری نَسل کُشی جو کہ اکتوبر 23 سے قبل بھی جاری تھی اور اَب اُس کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہو گیاہے، کو دیکھ کر یہ سوال بھی اٹھائے جاتے ہیں کہ آخر دشمن کو یہ موقع دینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اور اس تمام کاوش سے حاصل وصول کیا ہے؟
جوابات کے لیے غزہ نامی مہیب عقوبت خانے کے حالات کا بغور جائزہ لینا ہو گا کہ کیسے اسرائیل وہاں ہر گزرتے لمحے غَزہ کے بچوں کے ساتھ امید کا گلا بھی گھونٹ رہا تھا ۔ اور ابراہیم اکارڈ کے نام پر مُسلم دنیا کے سَرکَردہ مُمالک اِسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پر تول رہے تھے۔ کیسے سعودی عرب اپنے 2030 وژن کو پروان چڑھانے کے لیے نیوم شہر کی نیو رکھ رہا تھا، نیوم کہ جس کی ترقی اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیے بغیر ممکن ہی نہیں۔۔ بلکہ سعودی عرب نے پس پردہ اِسرائیل سے مذاکرات کیے تاکہ نیوم سے نکلتا مجوزہ پل بحیرہ احمر کے جزائر سے گزر کے مصر جا سکے ۔ اور عَرب اَمارات نے تو سیدھا اسرائیل کو تسلیم ہی کر لیا۔ امریکہ کے سیکورٹی آرکیٹیکچر کے تحت IMEC کوریڈوربھارت سے شروع ہو کر بذریعہ عَرب امارات، سعودی عرب اور پھر اسرائیل کی حائفہ پورٹ کے ذریعے یورپی تجارت کے منصوبے سامنے آئے۔ اِس سارے منظر نامے میں فلسطینوں کی قسمت نوشتہ دیوار تھی جو اپنوں کے ہاتھوں ہی سے لکھی جا رہی تھی۔۔
اس صورتحال کو بدلنے، فلسطینی مسئلے کو زندہ رکھنےاِسرائیل کو اندر سے توڑنے اور عالمی رائے عامہ کو بدلنے کے لیے طوفان الاقصی کےمنصوبہ سازوں نے ایک طویل المدتی منصوبہ بنایا جو ڈومینو ایفیکیٹ پر مبنی تھا اورجہاں ایک واقعے نے دوسرے واقعےکو جنم دینا تھا تاکہ مشرقِ وسطیٰ کا سیکیورٹی اور مُعاشی تاروپود جَوہری طور پر بدل دیا جائے۔
پہلا مرحلے میں جو پہلے دن سے لے ایک ہفتے تک تھا، اسرائیل کو ایک اسٹرٹیجک دھچکا پہنچایا جائے جس میں اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کے تاثر کو ایک ہی دن میں پاش پاش کیا جائے اور اس کی ڈیٹرنس کا خاتمہ کیا جائے۔ خلیجی ممالک خصوصا سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات میں فوری رَخنہ پیدا کیا جائے اور ابراہیم اکارڈ کو مٹی میں ملا دیا جائے۔ اتنی بڑی تعداد میں جنگی قیدی بنائے جائیں جو دو سال تک اسرائیل سے ڈیل کرنے کی بنیادی کڑی بنیں۔
دوسرے مرحلہ جو پہلے ماہ سے چھٹے ماہ تک ہے، میں جنگ کو پھیلانا۔ یہ ظاہر و باہر تھا کہ اتنی زبردست ہزیمت کے بعد اسرائیل رَدِعمل میں نہ صرف غزہ بلکہ اپنے وہ اسٹریٹیجک اہداف بھی پورے کرنے کی کوشش کرے گا جنہیں پورا کرنے کے لیے بصورت دیگر اسے کافی گراونڈ بنانا پڑتا۔ جس میں حوثیوں کے خلاف کاروائی، حِزب اللہ کے خلاف اہداف کا حصول، شام میں انقلابی حکومت کو کمزور کرنا، ایران حکومت کی تبدیلی کی کوشش شامل ہے۔
چھٹے سے بارہویں مہینے پر مشتمل تیسرے مرحلے میں اسرائیل کی معیشت کو نشانہ بنانا اور اس کے اندرونی خلفشار کو بڑھاوا دینا شامل ہے۔ یہ اس جنگ کا اہم ترین مرحلہ ہے۔ قابض اسرائیلی ریاست کی کچھ کمزوریاں ایسی ہیں جس کا اس کے عالمی پشت پناہوں کے پاس بھی کوئی حل نہیں۔ مختصر جغرافیہ، کم آبادی وہ بھی خوشحال زندگی کی تلاش میں دنیا بھر سے آئی ہوئی اور سب سے بڑھ کی یہود کی لمبی عمر جینے کی خواہشں جس کا اللہ سبحان وتعالی نے قران میں بھی تذکرہ فرمایا ہے۔ اِن وجوہات کی بنا پر اسرائیل ہمیشہ مختصر اور تباہ کن جنگ لڑنے کی حکمت عملی بناتا ہے جس میں جَلد از جَلد اپنے اہداف حاصل کیے جا سکیں اور حماس کے منصوبہ سازوں نے اسرائیل کی انہی کمزوریوں کے پیش نظر جنگ کو لمبا کھینچنے کی منصوبہ بندی کی جو بالاخراسرائیل سے ہجرت کی رفتارمیں اضافے کا باعث ہو۔ اور داخلی خلفشار براہ راست اسرائیلی معیشت اور نیتن یاہو کی کمزور حکومت پر دباو میں اضافے کا باعث بنے۔
کرپشن کے الزامات میں لتھڑے ہوئے نیتن یاہو کے لیے حکومت میں رہنا اس کی سیاسی زندگی کی ضمانت ہے کیونکہ بصورت دیگر اس کے جیل جانے کے قوی امکانات ہیں۔ جنگ کے بڑھتے دباو اور اسرائیلی قیدیوں کی واپسی میں ناکامی پر کی وجہ سے نیتن یاہو نے دوسرے محاذ کھولے اور ایران کی پراکسیز حزب اللہ اور حوثیوں کے خلاف اقدامات کیے۔ جس کے رد عمل میں حوثیوں نے باب المندب کی ناکہ بندی کی اور اِس کے مُعاشی اثرات کی حِدت پُوری دنیا تک پھیلی ۔ یوں غَزہ کی مزاحمت نے بالواسطہ دنیا کو متوجہ ہونے پر مجبور کیا۔
جنگ کو دوسرے سال تک کھینچنے کی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے غاصب اسرائیلی ریاست کی سب سے بڑی طاقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ میڈیا پراپیگنڈا اور مغرب کی ہولو کاسٹ پر کی گئی قانون سازی کے باعث مغربی عوام اسرائیل کو ایک ایسی قوم کی شکل میں دیکھتی رہی جو نازی جبر کا شکار ہونے کے بعد اب بطور ایک ریاست کے قائم ہے اور اس کی جانب سے کیے گئے ہر ظلم کو "حق دفاع” کے نام پر قبول کرتی آئیں ہیں۔ ایک لمبی لڑائی اور سوشل میڈیا پربرپا بیانیے کی جنگ میں حماس کی قابلِ رشک کارکردگی نے حقیقتاً مغربی عوام کی آنکھیں کھول دیں۔ اس خون آشام نسل کشی کو اسکرین پر براہ راست دیکھ کر بھی "نیوٹرل” رہ پانا کسی "انسان” کے بس کی بات تو ویسے بھی نہیں۔ مغربی عوام میں بڑھتی اس زبردست نفرت نے اسرائیل کی اس بنیادی قوت میں جوہری کمی کر دی ہے۔ لیکن عالمی اسٹیبلشمنٹ اور مغربی ممالک کی مقامی مقتدرہ میں گہری رسائی ابھی باقی ہے جو اسرائیل کی لائف لائن ہے۔ غزہ میں جاری نسل کشی اور اس کےبعد ایران امریکہ جنگ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے اسرائیل ہائی ٹیک انڈسٹری اور جدید عسکری قوت ہونے کے باوجود مغربی بلکہ کہنا چاہیے کہ امریکی امداد کے بغیر جنگ نہیں لڑسکتا۔مغرب میں ہمدردی کی لہر سے لے کر اسرائیل کے جابر حکومت کے تصور میں تبدیلی ایک بنیادی ہدف تھا جس نے اسرائیلی کے سفارتی اور قانونی محاصرے ک راہ ہموارکی۔ مغربی عوام کے دباو میں یورپی حکومتوں کی اسرائیلی مخالفت سے زیادہ موثر ICJ میں اسرائیل اسے جارحانہ ریاست کے طور پر کٹہرے میں کھڑا کرناہے ۔ اسرائیل کے عریاں چہرے پر پردہ ڈالتی عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ناقابل تردید شواہد کی بنا پر اسرائیل کی حمایت مشکل تر ہوتی جا رہی ہے ۔
عالمی طاقتیں ایک زیرو سم (zero sum) کھیل کھیلنے پر مجبور ہوتی ہیں جس میں نمبرون طاقت کا فائدہ باقی طاقتوں کے نقصان میں ہی ہوتا ہے۔ یوں چین کا عروج امریکہ کے اضافی (relative) زوال کو لازم ہے۔ اور حماس نے اس امریکی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے بَروقت چوٹ لگائی جب اسرائیل کے پشتیبان کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ ابراہم اکارڈ کی طرف جلدی مچانے کی وجہ بھی یہی کم وقت تھا۔ اور اس وقت کی کمی ساتھ جب غزہ کی طرف سے پریشر آئے گا تو صہیونی ریاست گریٹر اسرائیل کے ضمن میں خطے میں بالادستی کے حصول کا پورا زور لگائے گی اور ہر طرف افرا تفری مچائے گی ۔ جس سے مشرق وسطی میں امریکی اسکیورٹی اور معاشی آرکیٹیکچر کو نقصان پہنچے گا اور چین کے لیے خلا پیدا ہوگا۔ یعنی غزہ عربوں کے لیے تزویراتی موقع پیدا کرے گا کہ امریکی چنگل سے نکل کر نہ صرف چین کے ساتھ معاشی اور عسکری مواقع تلاش کرے بلکہ خود اپنے لیے اور ترکی اور پاکستان کے ساتھ مل کر خود انحصاری کی طرف جائے اور یوں پیٹرو ڈالر کہ جس پر امریکن ایمپائرکا وجودی انحصار ہے، کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے۔
یعنی حماس نے ہارڈ پاور کی کمی کو گہری منصوبہ بندی، تزویراتی سوجھ بوجھ اور قربانیوں سے پورا کرکے اسرائیل کو ایسی گھمبیرتا میں دھکیل دیا ہے جس سے اس کی واپسی مغربی حمایت کے باوجود ناممکن ہے۔طوفان الاقصی کے معمار یحیٰی سِنوار نے اپنا کہا سچ کر دکھایا کہ یہ جنگ خطے کے توازن کو بدل دے گی۔
ابن منظور