آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

کپڑے کی دیواریں،غزہ میں 2023-24ء کی آنکھوں دیکھی داستان

غزہ پر جاری نسل کشی کی جنگ، خیموں کی زندگی،خوف،زندہ رہنے کی کوشش اور درد و الم کے حالات پر مشتمل فلسطینی مصنفہ نعمہ حسن کی کتاب "جدران من قماش: العام الأول من الإبادة" (کپڑے کی دیواریں: نسل کشی کا پہلا سال) منظر عام پر آ گئی ہے۔

جون 2026 میں 'دار الناشر' سے شائع ہونے والی یہ کتاب ایک روایتی ادبی تصنیف نہیں، بلکہ 7 اکتوبر 2023 سے 6 اکتوبر 2024 کے دوران مصنفہ کی فیس بک پر لکھی گئی ان ذاتی تحریروں اور نوٹس کا مجموعہ ہے جو انہوں نے حملوں کے وقت خیموں اور پناہ گاہوں میں لرزتے ہاتھوں سے اپنے موبائل فون پر درج کی تھیں۔

'شہری صحافی' کا کردار

جنوبی غزہ کے شہر رفح سے تعلق رکھنے والی نعمہ حسن نے سوشل میڈیا پر اپنے تقریباً 49 ہزار فالوورز کے سامنے ایک 'سٹیزن جرنلسٹ' (شہری صحافی) کا کردار خودبخود سنبھال لیا۔ انہوں نے نہ صرف جنگی مہم کے اعداد و شمار اور خونی لمحوں کو تاریخ کے لیے محفوظ کیا، بلکہ جبالیہ کے قتل عام اور امدادی ٹرکوں کے منتظر بھوکے شہریوں پر ہونے والی بمباری کے سانحات کو بھی تحریر کیا۔ 29 فروری کو امدادی قطاروں پر حملے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا: ”امدادی سامان سے لدے ٹرک آئے تھے، مگر وہ شہدا کے جنازے اٹھا کر واپس مڑے۔ شمالی غزہ میں آٹے کی ایک بوری کی قیمت 120 شہدا بنی۔“

خاندان پر گزرنے والی قیامت اور ذاتی صدمات

کتاب کی تحریروں میں عمومی تباہی کے ساتھ ساتھ مصنفہ کے خاندان پر گرنے والی جنگی قیامت کے مناظر بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 23 اپریل 2024 کی ایک پوسٹ میں انہوں نے اپنے اسکول کے قریب پناہ گاہ پر بمباری کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا: "اچانک ہر چیز اپنی جگہ چھوڑ گئی۔ اسکول کے ساتھ والے مکان پر بم گرا، دیواریں ڈھے گئیں، شیشے بکھر گئے اور میرے بیٹے محمد کے پاؤں کا انگوٹھا کٹ کر الگ ہو گیا۔" اس کے علاوہ مئی 2024 میں اپنے بھانجے کی شہادت کی خبر پر صبر و ضبط کے لمحات کو بھی تحریری دستاویز میں شامل کیا گیا ہے۔

جنگی اعداد و شمار کے پیچھے چھپے چہرے

نعمہ حسن نے اعداد و شمار کی خشک دنیا کے پس پردہ بکھری انسانی کہانیوں کو محفوظ کیا۔ انہوں نے الشفاء اور ناصر اسپتالوں کے دردناک واقعات رقم کیے؛ جس میں 6 سالہ یوسف ابو موسیٰ کی غمزدہ ماں کی اپنے گھنگھریالے بالوں والے بچے کی تلاش کا مشہور منظر ہو، یا 11 اگست 2024 کو ایک باپ کا ناقابل بیان درد، جس میں اس نے کہا: ”لاشیں اور اعضاء اس قدر خلط ملط ہو چکے تھے کہ ہر 70 کلوگرام کو ایک شہید کا وزن قرار دیا گیا۔ میں نے کہا کہ میرا بچہ 6 سال کا ہے، تو انہوں نے مجھے 18 کلو وزنی اعضا کی ایک بوری تھما دی کہ جاؤ اسے دفن کر دو، مجھے نہیں معلوم وہ ٹکڑے میرے بیٹے کے بھی تھے یا نہیں۔“

بمباری کے سائے میں شاعری کی گونج

نعمہ حسن، جن کے اس سے قبل بھی "حيث رقص اللهب"،(جب شعلہ رقص کرتا ہے) "لم يكن موتا"(وہ مرتا بھی نہیں) اور "رسائل بفعل فاعلة" جیسے شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں، نے جنگ کے ماحول میں ادب اور شاعری کو اپنے ذہنی وجود اور مزاحمت کے لیے بطور ڈھال استعمال کیا۔ کتاب میں ان کی جنگی ڈائریوں کے ساتھ ساتھ نثری و شعری ٹکڑے بھی شامل ہیں، جہاں وہ بجلی کے تار کٹنے پر موسیقی کی آواز کھو جانے کا ماتم کرتی ہیں اور دھواں اڑاتے ہوئے ملبے کے درمیان زندگی کے معمولات تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

"کپڑے کی دیواریں" جنگ کے المیے پر ایک ایسی ڈاکومنٹ ہے جو صرف واقعہ بیان نہیں کرتی، بلکہ خیموں کے کپڑوں کے پار ان تمام فلسطینیوں کی نفسیاتی اور وجودی بربادی کی شہادت دیتی ہے جنہوں نے اس خوفناک دور کا سامنا کیا۔

وہ زندگی جو ہم سے گزاری نہ جا سکی

فیض ہم نے وہ زندگی گزاری ہے۔

سورس: الجزیرہ

مانیٹرنگ ڈیسک