’یہ جہنم جیسا عذاب ہے‘: غزہ خیموں میں شدید حبس اور گرمی سے مقابلہ

شدید محاصرہ جاری، بجلی اور چھاؤں نہیں ہے اور عارضی پناہ گاہوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔شہری سخت خطرے سے دوچار۔
جب رواں سال جنوری میں ’مڈل ایسٹ آئی‘ (MEE) نے غزہ شہر میں رجاء جندیہ سے ملاقات کی تھی جو ایک بیوہ اور تین بچوں کی ماں ہیں ۔اس وقت انہوں نے بار بار ہجرت کے دوسال میں شدید سردی کو سخت ترین مرحلہ قرار دیا تھا۔
اب بارشیں تو تھم چکی ہیں، مگر وہی خیمہ جو اس فلسطینی بیوہ کو سردی سے بچانے میں ناکام رہا تھا،یہی خیمہ غزہ کی تپتی دھوپ میں شدید حبس کی وجہ سے ایک گرم تندور میں تبدیل ہو چکا ہے۔
رجاء جندیہ نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا: ”یہ بالکل کسی گرین ہاؤس میں رہنے جیسا ہے۔ خیمہ سورج کی حرارت کو جذب کر کے اندر کا درجہ حرارت اس قدر بڑھا دیتا ہے کہ دم گھٹنے لگتا ہے اور مجھے مجبوری میں بچوں کے ہمراہ باہر نکلنا پڑتا ہے۔“

رجاء کے شوہر 14 مارچ 2024 کو شمالی غزہ کے محاصرے کے دوران نام نہاد غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے تحت ”آٹے کے قتلِ عام“ میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔ اپنے مشرقی علاقے شجاعیہ میں گھر کی تباہی کے بعد وہ اب غزہ شہر کے وسط میں قائم ایک اسکول کی پناہ گاہ میں مقیم ہیں، جہاں ان کی طرح لاکھوں بے گھر افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
بنیادی سہولیات کی کمی اور گرمی سے بچاؤ کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث موسمِ گرما بے گھر خاندانوں کے لیے عذاب کی نئی لہر ثابت ہو رہا ہے۔
رجاء کا کہنا تھا: ”گرمی کے عذاب کے ساتھ کیڑے مکوڑوں کی یلغار ایک الگ مصیبت ہے۔ مچھروں کی وجہ سے ہم رات بھر سو نہیں پاتے اور دن چڑھے مکھیوں کا راج ہو جاتا ہے۔ اب تو ایسے کیڑے مکوڑے دکھائی دے رہے ہیں جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔“
جلد کی بیماریوں کا بے قابو پھیلاؤ بحرِ روم کے ساحل پر واقع ہونے کے باعث غزہ کا موسمِ گرما شدید حبس اور نمی کا حامل ہوتا ہے۔ یہاں اوسط درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری رہتا ہے، تاہم گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کے دوران یہ 35 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے۔
یونیسیف کے مطابق، غزہ کی 21 لاکھ کی آبادی میں سے 19 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہیں، جن کی اکثریت عارضی خیمہ گاہوں میں مقیم اور صحت و ماحولیات کے شدید خطرات کی زد میں ہے۔
رجاء بتاتی ہیں کہ کیمپ کے ناقابل بیان اور غیر صحت مند ماحول کے باعث ان کے بچے مسلسل بیماریوں کا شکار رہتے ہیں اور انہیں اکثر ہسپتال جانا پڑتا ہے۔
”ہم ہر دن سانس لینے کے لیے ایک لمحے کی تازہ ہوا کی تلاش میں گزار دیتے ہیں“
مونا الملاحی بھی بے گھر فلسطینی خاتون ہیں ۔انہوں نے بتایا: ”اسکول کے اندر اور اطراف میں سیوریج کا پانی ابل رہا ہے اور کچرے کے ڈھیر کیڑے مکوڑوں کو دعوت دے رہے ہیں۔ شدید گرمی نے حالات مزید خوفناک بنا دیے ہیں اور میرے بچوں کو بار بار جلدی بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں۔“
طبی عملے کے مطابق پوری غزہ کی پٹی میں خاص طور پر بچوں میں خارش، فنگل انفیکشن، دانے اور جوئیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
47 سالہ مونا الملاحی، جنہوں نے غزہ کی الازہر یونیورسٹی کے سامنے سڑک کے درمیانی گرین بیلٹ پر خیمہ لگا رکھا ہے، بتاتی ہیں کہ وہ خیمے کے اندر کی حبس سے بچنے کے لیے زیادہ تر وقت باہر گزارتی ہیں۔
"دن کے وقت خیمے کے اندر رہنا ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے، لیکن باہر بھی سائے کا کوئی وجود نہیں۔ ہم بس دن بھر سانس لینے کی کوئی جگہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔"
اسرائیل کی نسل کشی کی مہم کے دوران غزہ کا 81 فیصد سے زائد شہری ڈھانچہ، عمارتیں اور درخت زمین بوس ہو چکے ہیں، جس کے باعث بے گھر افراد سیدھے کھلے آسمان تلے شدید گرمی کی زد میں آ گئے ہیں۔ اور اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود ہنگامی پناہ گاہوں اور امدادی سامان کی آمد کی راہ میں اسرائیلی رکاوٹیں مسلسل برقرار ہیں۔
حنین عبید · مترجم