جنگ اور قلت کے باعث غزہ کا طبی نظام خطرے میں

غزہ شہر، غزہ پٹی – الشفا ہسپتال کے ڈائلیسس والے حصے میں ہر روز ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ مشینیں بغیر رکے چل رہی ہیں۔ مریض قریب قریب کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ نالیاں انہیں چند گھنٹوں کے لیے زندگی سے جوڑے ہوئے ہیں۔
ایک کرسی پر ۱۴ سالہ رووا منتصر عبدالکریم بیٹھی ہے، جو شمالی غزہ کے جبالیا سے ہے۔ اس کا چھوٹا قد مریضوں سے بھری کمرے میں اسے الگ ہی دکھاتا ہے۔اس کے والد منتصر پاس ہی بیٹھے ہیں، چہرے پر فکر صاف نظر آ رہی ہے۔منتصر کہتے ہیں: ”میری بیٹی پہلے چلتی پھرتی اور کھیلتی تھی۔ سرجریوں اور ڈائلیسس کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ ہر سیشن اسے زندہ رکھتا ہے۔ اگر رک جائے تو شدید تھکاوٹ اور سانس پھولنے لگتی ہے۔“ لیکن وہ شعبہ جو رووا کو زندہ رکھ رہا ہے، خود بھی مشکل میں ہے۔ ہزاروں مریضوں کا بوجھ ہے اور وسائل نہیں ہیں۔الشفا میں رووا چھت کو دیکھ رہی ہے۔ کچھ بوڑھے مریض سو رہے ہیں۔
وارڈ میں تھکن کا ماحول ہے۔منتصر مسلسل مانیٹر دیکھتے رہتے ہیں۔ پہلے بیٹی 65 کلو تھی، اب 35 کلو رہ گئی ہے۔ ہفتے میں تین سیشن کی جگہ اب صرف دو ملتے ہیں۔اصل حل گردے کی پیوند کاری ہے۔ منتصر کہتے ہیں: “سب تیار ہے۔ ماں عطیہ دے رہی ہے، ٹیسٹ میچ ہیں۔” لیکن اسرائیل رکاوٹ بن رہا ہے۔ بیرون ملک جانے کی منظوری چھ ماہ سے لٹکی ہوئی ہے۔ غزہ میں یہ آپریشن ممکن نہیں، اس لیے رووا انتظار کر رہی ہے۔
نحن في وزارة الصحة وصلت لدينا قوائم الأدوية والمستهلكات الطبية الصفرية إلى نسب كبيرة جدًا، وهذا يؤثر بشكل كبير على المرضى في المستشفيات والرعاية الأولية... لدينا الآن كارثة حقيقية تخص مرضى السكر، إذ إن أكثر من 11 ألف مريض سوف يتأثرون بسبب عدم توفر سرنجات الإنسولين... أكثر من 250… pic.twitter.com/UZVK1HDSqx
— Dr.Muneer Alboursh د.منيرالبرش (@Dr_Muneer1) May 24, 2026
خان یونس میں فزیو تھراپسٹ آیا الشلتونی بتاتی ہیں کہ مصنوعی ٹانگیں، وہیل چیئر کی شدید کمی ہے۔ مانگ بہت زیادہ ہے، سپلائی بہت کم۔ وہ کہتی ہیں: “بہت سے مریض لمبے عرصے انتظار کرتے ہیں، کچھ کو کچھ نہیں ملتا۔”یہ کمی صرف جسمانی درد نہیں بڑھاتی، پورے زندگی کا راستہ بدل دیتی ہے۔ مناسب آلات کے بغیر ٹھیک سے بحال ہونا مشکل ہے۔“
زکی جمعہ سالم ابو حرب، شمالی غزہ کے ۶۰ سالہ کسان، مارچ 2025 کے حملے میں ایک ٹانگ کھو بیٹھے ہیں۔وہ کہتے ہیں: ”ایک لمحے میں سب بدل گیا۔ پہلے کھیتوں میں کام کرتا تھا، اب دوسروں کے سہارے گھر سے ہسپتال جانا پڑتا ہے۔” مہینوں انتظار کے بعد انہیں مصنوعی ٹانگ مل گئی۔ یہ بڑی راحت ہے، لیکن وہ جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ ابھی انتظار کر رہے ہیں۔“
ڈبلیو ایچ او کے مطابق جنگ کے شروع سے5,000 سے 6,000 لوگ اعضاء کھو چکے ہیں۔
زکی کہتے ہیں: ”بہتوں کے پاس وہیل چیئر یا کراچ بھی نہیں۔ درخت کی لکڑی یا جو بھی ملے اس سے چلتے ہیں۔ بچے بھی ہیں جن کے اعضاء نہیں رہے۔ انہیں دیکھ کر دل دکھتا ہے۔ زندگی کے سادہ سے حق سے بھی محروم کر دیے گئے ہیں۔“
الاقصیٰ ہسپتال کے قریب ایک چھوٹے خیمے میں ۲۲ سالہ ہدیل بیٹھی ہے۔ یونیورسٹی جانے کی بجائے وہ اپنے سات بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کرتی ہے، خیمے میں ضروریات پوری کرتی ہے اور کسی طرح زندگی چلانے کی کوشش کرتی ہے۔ ہدیل بتاتی ہیں: ”رات کو بچوں اور عورتوں کے چیخنے کی آواز سے جاگے بھاگ رہے تھے، ایک دوسرے کو ڈھونڈ رہے تھے۔ ماں ملبے کے نیچے تھی، صرف انگلیاں نظر آ رہی تھیں۔ پڑوسیوں نے نکالنے میں مدد کی۔ ماں کا نام پکارنا اور وہ منظر ابھی تک نہیں بھولا۔“
ہدیل کی کہانی اکیلی نہیں ہے ۔ وسطی غزہ کی ۲۷ سالہ ماہر نفسیات اسیل ابو شاویش بتاتی ہیں کہ جنگ، بار بار بے گھر ہونا، پیاروں کا جانا اور گھروں کی تباہی نے سب کو متاثر کیا ہے۔ وہ ایک بین الاقوامی تنظیم کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ کہتی ہیں: ”ان حالات میں ہر کسی کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت آگے بھی رہے گی، اس لیے ذہنی صحت کو ترجیح دینی چاہیے۔“
انہوں نے ڈپریشن، اضطراب، پی ٹی ایس ڈی، بے خوابی، پینک اٹیکس دیکھے ہیں۔ بچوں میں بستر گیلا کرنا، جارحانہ رویہ، توجہ نہ لگانا، ڈراؤنے خواب اور والدین سے زیادہ چمٹنا عام ہے۔ مدد دینا ضروری ہے، لیکن کام کرنے والوں پر بھی دباؤ ہے۔ تحفظ نہیں، طلب بہت زیادہ، وسائل کم، اور مریضوں تک پہنچنا مشکل، پھر بھی اسیل جانتی ہیں کہ ان کی مدد کتنی اہم ہے۔ اس لیے جتنا ہو سکے، وہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
حنین عبید · مترجم