آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

طوفان الاقصىٰ: تاریخ کی غلطی کو درست کرنے کا آغاز

معرکہ 'طوفان الاقصىٰ' فلسطینی-اسرائیلی تنازع کے ایک مرکزی اور فیصلہ کن موڑ کے طور پر اب بھی عرب و عالمی مصنفین، ماہرین اور محققین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے پیدا کردہ عمیق اثرات کے باعث یہ واقعہ اب متعدد ایسے علمی و تحقیقی سٹڈیز کا بنیادی محور بن چکا ہے جو اس کے سیاسی و تاریخی ڈائمنشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں حال ہی میں ممتاز فلسطینی فکر و معیشت کی ماہر ڈاکٹر غانیہ ملحیس (Dr. Ghania Malhis) کی تین جلدوں پر مشتمل (Encyclopedia-style) کتاب "الطوفان: بداية تصويب اعوجاج التاريخ" (الطوفان: تاریخ کے ٹیڑھ کو درست کرنے کا آغاز) منظرِ عام پر آئی ہے۔ یہ کتاب اس تاریخی معرکے اور اس کے اثرات و نتائج کا ایک عمیق اور تجزیاتی جائزہ پیش کرتی ہے تاکہ ان تمام سیاسی و انسانی تبدیلیوں کا احاطہ کیا جا سکے جو اس آپریشن کے نتیجے میں واقع ہوئی ہیں۔ یہ کتاب مصنفہ کی تقریباً تین سال کی طویل ترین فکری و علمی محنت کا حاصل ہے، جس کے دوران انہوں نے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پر نظر رکھی اور انہیں فلسطینی، عرب اور علاقائی جدوجہد کے وسیع تر تناظر سے جوڑا، جس نے اس تحریر کو زبردست فکری گہرائی اور تجزیاتی پہلو عطا کیے ہیں۔

داکٹر ملحیس کا ماننا ہے کہ معرکہ 'طوفان الاقصىٰ' ایک ایسا سنگ میل (Milestone) ثابت ہوا ہے جس نے طاقت کے توازن (Balance of Power)، اثر و رسوخ کی حدود اور تنازع کے آئندہ راستوں کے بارے میں بنیادی سوالات کو دوبارہ جنم دیا ہے۔ ان کے نزدیک جو کچھ ہوا وہ محض ایک عارضی واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا اسٹریٹجک شفٹ (Strategic Shift) تھا جو طاقت اور ڈیٹرنس (Deterrence) کے تمام سابقہ مفاہیم پر ازسرِنو غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ کتاب مختلف سطحوں پر معاملے کا احاطہ کرتی ہے: زمینی و سیاسی پیش رفت سے لے کر بین الاقوامی میڈیا اور عالمی طاقتوں کے ردِعمل اور موقف تک، جو اس دور کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

انسانی پہلو اور مزاحمت کا فکری مفہوم

کتاب میں انسانی پہلو (Humanitarian Dimension) کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ ڈاکٹر ملحیس کی رائے میں بالخصوص غزہ کے فلسطینیوں کے مظالم اور مصائب اس تنازع کی اصل روح کو سمجھنے کا مرکزی نقطہ ہیں، جو کسی بھی جامع تحزیےکی بنیادی کلید ہے۔

علاوہ ازیں، کتاب 'مزاحمت' (Resistance) کے مفہوم پر ایک علمی بحث اٹھاتی ہے، اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ قوموں کی آزادی، زندگی اور حقِ خودارادیت کو ایک ذمہ دارانہ فکری نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہیے—نہ کہ سطحی سیاسی مقاصد یا پروپیگنڈے کی عینک سے!

معرکہ 'طوفان الاقصىٰ' نے مقامی اور عالمی ذرائع ابلاغ اور فکری حلقوں میں جو زبردست بحث چھیڑی ہے، یہ کتاب اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ متعدد تحقیقی کتب، مقالے اور میڈیا پروگرام اس کے مختلف زاویوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔

غزہ کے نام انتساب اور تعلیمی تعاون

ایک انتہائی اثر انگیز انتساب (Dedication) میں مصنفہ نے اس کتاب کو غزہ کے نام معنون کیا ہے اور وہاں کے عوام کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ کتاب غیر معمولی حالات کے مقابلے میں بچوں،والدین، طبی عملے، صحافیوں اور ثقافتی کارکنوں کی عظیم قربانیوں پر ایک زبردست تاریخی گواہی ہے۔

یہ کتاب 'الدار الأهلية للنشر والتوزيع' (عمان) اور 'مؤسسة الناشر' (رام اللہ) کے باہمی تعاون سے پہلے ایڈیشن میں شائع کی گئی ہے۔ تین جلدوں میں پھیلی اس کتاب کے صفحات کی تعداد 1,500 سے زائد ہے، جو مواد کی وسعت اور تنوع کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مصنفہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کتاب کی رائلٹی اور آنے والے ایڈیشنز کی آمدنی قطاعِ غزہ میں تعلیم کی حمایت و بحالی کے لیے وقف کی جائے گی، جو اس قومی و انسانی مسئلے سے ان کی عملی وابستگی کا مظہر ہے۔

مصنفہ کا تعارف

ڈاکٹر غانیہ ملحیس فلسطینی اور عرب معاشی و سیاسی مراکز میں متعدد اعلیٰ اور قيادی عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں اور سیاسی و اقتصادی امور پر گہری اور تنقیدی نظر رکھتی ہیں۔ وہ قوموں کے حقِ مزاحمت کی زبردست حامی جانی جاتی ہیں، اور ان کی یہ تازہ ترین کتاب ان کے طویل فکری سفر کا ایک قدرتی تسلسل اور فلسطینی و علاقائی تحولات کی بحث میں ایک معیاری اضافہ ہے۔

سورس: فلسطين أون الين

مانیٹرنگ ڈیسک