طوفانِ اقصیٰ کے اثرات اور نئی نسل کی بیداری

بہت سے لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں کہ "طوفانِ اقصیٰ" کے نمایاں اثرات اور اس کے بعض ایسے نتائج بھی سامنے آئے ہیں جنہیں ہر شخص نہیں دیکھ پاتا۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے بہت سے نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ راستوں پر ازسرِ نو غور کرنے کی ترغیب دی ہے، اور یہ سوچنے پر آمادہ کیا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں، ایجادات اور علمی مہارتوں کو کس سمت میں صرف کریں۔
ایک طویل عرصے تک ایسے حالات رہے کہ ہر نسل کی تخلیقی صلاحیتیں اور غیر معمولی استعداد یا تو دبا دی جاتی تھیں، یا پھر نوجوان اپنی مہارتیں لے کر غیر مسلم ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔
میں نے ایسے نوجوان مرد و خواتین کو دیکھا ہے جنہوں نے اپنی تعلیم کے شعبے تبدیل کر لیے تاکہ وہ ایسے میدان میں کام کر سکیں جسے وہ اپنی مقدس قومی و دینی ذمہ داری کی زیادہ مؤثر خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض طلبہ نے یونیورسٹی کے تیسرے سال میں پہنچنے کے باوجود اپنی سابقہ تعلیم چھوڑ کر نئے شعبے میں ابتدا سے تعلیم شروع کر دی۔
جب میں نے ایک طالب علم کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے والا شعبہ مکمل کر لے، تو اس نے جواب دیا:
”یہ بات شاید پہلے ممکن تھی، مگر جو کچھ اب ہو چکا ہے، اس کے بعد نہیں ۔“
حال ہی میں میری ملاقات ایسے نوجوانوں سے بھی ہوئی جو ایسے تحقیقی منصوبوں پر کام کر رہے تھے جن کا مقصد ان کے نزدیک اس مقصد کی خدمت کرنا تھا۔ یہ منصوبے عام حالات میں کئی سال لیتے، مگر انہوں نے انہیں چند ہی مہینوں میں مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
غیب کے پردے میں اللہ تعالیٰ نئی نسلیں، نئی صلاحیتیں اور باہمت نوجوان تیار کر رہا ہے، جن کا مقابلہ دشمن اور اس کے حامیوں کے لیے آسان نہیں ہوگا، حالانکہ انہیں دنیا کے مختلف حصوں سے مسلسل وسائل، اسلحہ، افرادی قوت، منصوبہ بندی اور تعاون حاصل ہے۔
تمام مشکلات اور تکالیف کے باوجود مستقبل، اللہ کے حکم سے، بہتر ہو سکتا ہے۔ آنے والی نسل صرف وہ نوجوان نہیں جو تفریحی سرگرمیوں میں دکھائی دیتے ہیں، بلکہ اس کی مثال برفانی تودے (آئس برگ) کی سی ہے، جس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ پانی کے اوپر نظر آتا ہے، جبکہ اس کا بڑا حصہ نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے اور مسلسل مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
میں والدین اور اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں چاہیے کہ وہ آنے والے وقت کے لیے ایسے نوجوان تیار کریں جو اپنے اپنے میدان میں مضبوط، باصلاحیت، اپنی اقدار کے محافظ اور اپنی امت کے دکھ درد کو محسوس کرنے والے ہوں۔
جیسا کہ شاعر کہتا ہے:
«میں لوٹ کر آؤں گا، میں نے قسم کھائی ہے کہ ضرور واپس آؤں گا۔
حق میرے ساتھ گواہی دے رہا ہے، اور وہ بہترین گواہ ہے۔
میرے ساتھ ایک طرف ہتھیار ہے اور دوسری طرف ہمیشہ زندہ رہنے والی کتاب (قرآن)۔
اور میری رہنمائی ایمان کر رہا ہے، جو بہترین راہنما ہے۔»
آخر میں والدین اور مربیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ پوری کوشش کریں کہ ان کے بچوں اور شاگردوں میں سے کم از کم کچھ ایسے افراد ضرور تیار ہوں جو عزت، آزادی اور اعلیٰ مقاصد کے لیے کردار ادا کر سکیں، تاکہ ایک نہیں بلکہ دو نسلیں بے بسی کا شکار نہ ہوں: ہماری نسل بھی، اور ہمارے بعد آنے والی نسل بھی، جسے ابھی بھی بہتر راستے پر لانے کا موقع موجود ہے۔
"کتنے ہی سوئے ہوئے افراد کو اس طوفان نے بیدار کر دیا، اور کتنی ہی پوشیدہ صلاحیتوں کو منظرِ عام پر لے آیا، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔"

خالد حمدی · مصنف
شیخ ڈاکٹر خالد حمدی دوحہ (قطر) میں مقیم ایک مصری اسلامی داعی، خطیب اور محقق ہیں جو دعوتِ دین، معاشرتی اصلاح، مسلمان خاندان کی تعمیر اور اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت جیسے موضوعات پر کام کرتے ہیں۔ وہ اپنے تربیتی دروس، خطبات اور مختلف مجلات و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والے علمی مضامین کے ذریعے دعوتی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جبکہ ان کی اصلاحی ویڈیوز ان کے یوٹیوب چینل "خالد حمدی" اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی بآسانی دستیاب ہیں۔

عرفان كرم · مترجم
موصوف نے ابتدائی دینی تعلیم کے بعد مرکز الدعوة السلفیة، ستیانہ بنگلہ (نزد فیصل آباد) سے ثانویہ عامہ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے بی اے اصول الدین، اور ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان سے بیچلر آف کمپیوٹر سائنس مکمل کیا، جبکہ فی الوقت وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بی اے عربی کے طالبِ علم ہیں۔ عملی زندگی میں وہ 10 سال سے زائد عرصے سے دبئی اور شارجہ میں travel & tourism کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ عربی ادب کے تراجم میں انہوں نے معروف اردنی ناول نگار ایمن العتوم کے شہرۂ آفاق ناول "الرعب" کا اردو ترجمہ "خوف" کے عنوان سے کیا، نیز ان کے ناول "یسمعون حسیسها" کا ترجمہ مکمل کر چکے ہیں جبکہ "أنا يوسف" فی الوقت زیرِ ترجمہ ہے؛ مزید برآں انہوں نے لبنان میں مقیم فلسطینی نژاد مصنف ادہم شرقاوی کی ایک کتاب اور چند تحاریر کے بھی اردو تراجم کیے ہیں۔