طوفانِ اقصی کے تین سال: معرکے نے اسرائیلی فوج کی ساخت اور جنگی حکمتِ عملی کو کیسے بدلا؟

7 اکتوبر 2023 کو غطہ غزوۃ (غزہ) سے اٹھنے والے "طوفانِ اقصی" کے حملوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا رخ موڑ دیا، بلکہ اسرائیلی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور دفاعی ساخت کو بھی ایسی زبردست تبدیلیوں پر مجبور کر دیا ہے جس کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔
الجزیرہ کی جانب سے شائع کردہ ایک خصوصی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، اس معرکے کے بعد اسرائیلی فوج (IDF) کی جنگی حکمتِ عملی، انٹیلی جنس نیٹ ورک، اور آپریشنل ڈھانچے میں گہرے نقائص نمایاں ہو کر سامنے آئے، جنہیں سنبھالنے کے لیے تل ابیب کو اپنے روایتی سیکیورٹی عقیدے میں بنیادی تبدیلیاں کرنا پڑیں۔
1. "تکنیکی برتری" کا غرور اور انٹیلی جنس کی ناکامی
الجزیرہ کے دفاعی ماہرین اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، 7 اکتوبر سے قبل اسرائیلی فوج کا تمام تر انحصار جدید ترین ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، باڑ پر لگے سنسرز اور ڈرون سرویلنس پر تھا۔ طوفانِ اقصی نے یہ ثابت کر دیا کہ صرف ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرنا ایک ہلاکت خیز بھول تھی۔ غزہ کی سرحد پر جدید سیکیورٹی سسٹمز کا چند منٹوں میں ناکارہ ہو جانا اس بات کا ثبوت تھا کہ انسانی انٹیلی جنس کی غیر موجودگی میں اعلیٰ ٹیکنالوجی بھی مفلوج ہو سکتی ہے۔
2. روایتی زمینی جنگ اور ریزرو فورسز کا بحران
معرکے کے بعد اسرائیلی دفاعی قیادت کو شدید نفاذِ قوت (Manpower) کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق:
- طویل مدتی جنگ: اسرائیلی فوج کی روایتی حکمتِ عملی "چھوٹی اور تیز رفتار جنگ" پر مبنی تھی، لیکن غزوۃ کی طویل اور پیچیدہ گوریلا جنگ نے اسرائیلی ریزرو فورسز کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔
- سخت معاشی دباؤ: لاکھوں شہریوں کا طویل عرصے تک فوج میں خدمات انجام دینا اسرائیلی معیشت کے لیے ایک مستقل بوجھ بن گیا۔
- افرادی قوت کا بحران: مذہبی رجعت پسندوں (حريدی یہودیوں) کو فوج میں بھرتی کرنے کے معاملے پر سیاسی اور سماجی سطح پر شدید تنازعات جنم لے چکے ہیں، جس نے فوج کے اندرونی اتحاد کو متاثر کیا ہے۔
3. ڈرون ٹیکنالوجی اور سرنگوں کے حربے
حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے زبردست دفاع نے اسرائیلی فوج کو جنگی آلات کی تزئین و آرائش پر مجبور کیا۔ الجزیرہ کی تجزیاتی رپورٹ نشاندہی کرتی ہے کہ:
- سرنگوں کا چیلنج: غزہ کا زیرِ زمین نیٹ ورک اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کے لیے ایک دوزخ ثابت ہوا، جس کے توڑ کے لیے فوج کو خصوصی کور اور ٹیکنالوجی تشکیل دینی پڑی۔
- کواڈ کاپٹر اور بارود: چھوٹے ڈرونز کے ذریعے ٹینکوں کو نشانہ بنانے کے فلسطینی حربوں نے اسرائیلی بکتر بند بریگیڈز کو دفاعی زاویے پر سوچنے پر مجبور کیا۔
4. فوجی نفسیات اور 'ناقابل شکست' کے غبارے سے ہوا نکل گئی
عرب اور اسرائیلی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معرکے نے اسرائیلی فوج کے اس قائم کردہ تاثر کو ختم کر دیا کہ وہ "ناقابلِ شکست" ہے۔
حماس کے حملوں کے بعد سے اسرائیلی ملٹری لیڈرشپ میں شدید اندرونی تنازعات، اعلیٰ افسران کے استعفے، اور انٹیلی جنس اداروں (امان اور شاباک) کے درمیان ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال نے فوج کی اعلیٰ کمانڈ کے قد کاٹھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
5. سیکیورٹی نظریہ (Security Doctrine) کی مجبورا ًترمیم
الجزیرہ کی رپورٹ کے اختتام میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اب اپنے دفاعی عقیدے کو بالکل نئے سرے سے مرتب کر رہی ہے۔ جس میں سرحدوں پر صرف ٹیکنالوجی کے بجائے بھاری زمینی فوج کی مستقل موجودگی، طویل مدتی جنگوں کی تیاری، اور پیشگی حملوں کی پالیسی کو زیادہ شدت سے اپنانا شامل ہے۔ تاہم، ان تمام تر تبدیلیوں کے باوجود، طوفانِ اقصی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نفسیاتی اور استراتیجی اثرات اسرائیلی ملٹری کی ساخت پر ان کے گہرے نقوش چھوڑ چکے ہیں۔
مانیٹرنگ ڈیسک