القدس:اسرائیل کی جانب سےاقوام متحدہ کے ادارے انروا(UNRWA) کو مرحلہ وار نشانہ بنانےکی کہانی

مقبوضہ القدس
اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مشرقی القدس میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (اونروا) کے آخری اہم مرکز پر بھی قبضہ کر کے شہر میں اس بین الاقوامی ایجنسی کے تمام تر وجود اور سرگرمیوں کو عملاً ختم کر دیا ہے۔
الجزیرہ کی اوپن سورس یونٹ کی ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، 25 اگست کو اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی، اتمار بن گویر نے تقریباً 50 مسلح اہلکاروں کے ہمراہ مقبوضہ القدس کے شمال میں واقع اونروا کے تاریخی ادارے "قلندیہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹر" پر چھاپہ مارا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے عملے کو زبردستی نکال کر مرکز کا کنٹرول سنبھالنے کا اعلان کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تنصیب اقوام متحدہ کی ملکیت ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت استثنیٰ اور مکمل تحفظ حاصل ہے؛ لہٰذا بغیر اجازت اسرائیلی فورسز کا داخلہ اور عمارت پر قبضہ عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
قلندیہ سینٹر کی علامتی اور تعلیمی حیثیت
رپورٹ کے مطابق 70 برس سے زائد پرانا "قلندیہ ووکیشنل سینٹر" مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اونروا کا آخری مرکزی ادارہ تھا۔ 80 ہزار مربع میٹر رقبے پر محیط یہ ادارہ فلسطینی نوجوانوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتا تھا، جس میں کلاس رومز، تربیتی ورکشاپس اور ہاسٹلز موجود تھے۔
باقاعدہ قانون سازی سے بلڈوز کرنے تک؛کب کیا ہوا؟
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے باقاعدہ قانون سازی کر کے اس ادارے کو نشانہ بنایا جو دنیا میں باقاعدہ قانون سازی کر کے یو این کے اداروں کو نشانہ بنانے کی شاید واحد مثال ہے۔
- قانون سازی:فروری اور جولائی 2024 میں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے اونروا کی کارروائیوں پر پابندی اور اسے "دہشت گرد تنظیم" قرار دینے کی ابتدائی قانون سازی کی۔اکتوبر 2024 میں کنیسٹ نے حتمی طور پر اونروا کی تمام سرگرمیوں اور دفاتر کو نام نہاد 'اسرائیلی خودمختار حدود' میں کام کرنے سے قانونی طور پر روک دیا۔
- دسمبر کے اواخر میں اونروا کے دفاتر کو پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔
- نومبر میں اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ کو باضابطہ مطلع کیا کہ وہ 1967 کے "کومے-میکلمور (Comay-Michelmore) معاہدے" کو منسوخ کر رہی ہے، جس کے تحت اونروا کو سفارتی تحفظ حاصل تھا۔
- زمین پر کارروائیاں اور مسماری: سیٹلائٹ تصاویر کے شواہد تعلیمی اداروں کی بندش: مئی میں شعفاط کیمپ اور سلوان کے علاقوں میں اونروا کے زیر انتظام چلنے والے 6 اسکولوں کو بند کیا گیا، جن میں سے شعفاط کے اسکول کو اسرائیلی وزارتِ تعلیم اور یروشلم میونسپلٹی کے اسکول میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس موقع پر میونسپلٹی کے نائب میئر آریہ کنگ نے اقوام متحدہ کے بورڈز ہٹانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اعلانیہ کہا کہ اس کا مقصد "اونروا کے نام و نشان کو مٹانا" ہے۔
- ہیڈکوارٹر کا انہدام: جنوری 2026 میں اسرائیلی بلڈوزروں نے شیخ جراح میں واقع اونروا کے مرکزی ہیڈکوارٹر کو مسمار کیا۔ الجزیرہ کے مطابق 'پلینٹ' (Planet) کی سیٹلائٹ تصاویر تصدیق کرتی ہیں کہ ہیڈکوارٹر کی مرکزی عمارت، چار ذیلی ڈھانچے اور گاڑیوں کا احاطہ زمین بوس کر دیا گیا تھا۔
- صحت کے مراکز کی تالہ بندی: قدیم شہر میں 1949 سے قائم "زاویہ ہندیہ کلینک" اور شعفاط کیمپ کے ہیلتھ سنٹر پر چھاپے مار کر یوٹیلیٹی سروسز منقطع کر دی گئیں اور اقوام متحدہ کے طبی عملے کا داخلہ روک دیا گیا۔
اونروا اور عالمی برادری کا مؤقف
اقوام متحدہ کی ایجنسی اونروا کی ترجمان جولیٹ توما نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے 'فرانس پریس' (اے ایف پی) کو بتایا تھا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک رکن ریاست خود اقوام متحدہ ہی کی امدادی ایجنسی کو توڑنے اور ختم کرنے کے درپے ہے، جو کہ خطے میں سب سے بڑی انسانی امدادی تنظیم ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کا موقف برقرار ہے کہ مشرقی بیت المقدس بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک مقبوضہ علاقہ ہے، جہاں اسرائیلی مقامی قوانین اور پارلیمانی فیصلوں کی آڑ میں اقوام متحدہ کے اداروں اور ملازمین کے استثنیٰ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم قلندیہ پر قبضے کے بعد، اسرائیلی حکومت نے عملاً مشرقی بیت المقدس کے بلدیاتی حدود کے اندر اونروا کا بنیادی اور انتظامی نیٹ ورک مکمل طور پر معطل کر دیا ہے۔
اسرائیل؛لاڈلا بچہ یا 'بہترین دہشت گرد'
اس ساری صورتحال میں ادازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہی کام دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک نے کیا ہوتا تو عالمی قانون کی کون کون سی شق اس پر لاگو ہو چکی ہوتی، مغربی میڈیا اس پر کس درجے کی سفاکیت کا دھبہ لگا چکا ہوتا اور دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے تقدس کو پامال کرنے کا ناقابل معافی جرم قرار دے کر شاید اس پر حملہ کرنے کے لیے تیاریآں ہو رہی ہوتیں لیکن یہ اسرائیل ہے! یہ اسرائیل ہے جو باقاعدہ قانون سازی کر کے یو این کے ایک ادارے کو تباہ کرتا ہے اور اس معاہدے ہی سے نکلنے کا اعلان کرتا ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے اداروں کو سفارتی استثناء ہے۔۔۔۔لیکن نہ چینلز شور اٹھاتے ہیں نہ عالمی قانون کو اپنی بے حرمتی محسوس ہوتی ہے اور نہ مغرب اور امریکہ حرکت میں آتے ہیں۔ وہ ریاست جسے سات اکتوبر سے پہلے مشرق وسطیٰ میں 'واحد جمہوریت' قرار دیا جاتا تھا، آج شاید دنیا کا 'لاڈلا بچہ' ہے یا 'پرعزم دہشت گرد'!
آپ واچ ڈیسک
مانیٹرنگ ڈیسک