انتفاضہ الاقصىٰ کی نسل کی یادیں اور نمایاں ترین رہنما کون ہیں؟

غزہ سے تعلق رکھنے والے دو بچوں محمد الدرة اور فارس عودة کی تصاویر ان تمام لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو چکی ہیں جنہوں نے 'انتفاضہ الاقصىٰ' کے دور کو دیکھا، جس کی چنگاری 28 ستمبر سنہ 2000ء میں اس وقت کے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر ایرئیل شارون کے المسجد الاقصىٰ میں داخل ہونے سے بھڑکی تھی۔ اس کے آغاز کو 26 سال بیت جانے، اور اس کے بعد سامنے آنے والے متعدد عوامی تحاریک اور قطاعِ غزہ و مغربی کنارے پر اسرائیلی جنگوں کے باوجود، اس دور کے شاہدین کی یاداشتیں آج بھی ان تاریخی واقعات سے بھری ہوئی ہیں۔ اسی طرح اس انتفاضہ کے متعدد رہنما اور مزاحمت کار تاریخ کے اوراق میں داخل ہو کر آج بھی فلسطینی و بین الاقوامی منظر نامے پر مختلف طریقوں سے موجود ہیں۔ الجزیرہ نیٹ نے انتفاضہ کے آغاز کو دیکھنے والے متعدد فلسطینیوں سے گفتگو کی ہے کہ ان کی یادداشت میں اس وقت کے کون سے مناظر اور واقعات محفوظ ہیں، نیز میدانی اور سیاسی محاذ پر ابھرنے والے نمایاں ترین ناموں کا بھی احاطہ کیا ہے۔
جامعات سے میدانِ عمل تک
غزہ شہر کے رہائشی وسام زغبر نے ستمبر 2000ء کے آغاز میں اسلامی یونیورسٹی غزہ سے اپنی اعلیٰ تعلیم کے پہلے سال کا آغاز کیا تھا، اس وقت ان کی عمر 18 سال تھی، اور ان کا اسکول سے یونیورسٹی جانے کا زمانہ انتفاضہ اقصیٰ کے آغاز کا زمانہ ہے۔اس دور میں تعلیم جدوجہد آزادی کے ساتھ خلط ملط ہو گئی۔ طلبہ اور عوام کے احتجاجی مظاہرے اسرائیلی فورسز کے ساتھ تصادم کے مقامات کی طرف بڑھتے تھے، بالخصوص غزہ شہر کے جنوب میں واقع شہداء چوک کی طرف۔
زغبر — جو آج 'ڈیموکریٹک فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین' کی سینٹرل کمیٹی کے رکن ہیں الجزیرہ نیٹ سے بات کرتے ہوئے اپنے متعدد کلاس فیلوز اور ساتھیوں کی شہادت کے لمحات کو یاد کرتے ہیں، جن میں سے ایک ان کے ساتھ ہی لیکچر ہال میں بیٹھتا تھا۔ مسلسل چھاپوں کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ معطل ہونے پر طلبہ نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جو جنازوں میں شرکت اور کلاس رومز میں واپسی کا امتزاج تھا، اور وہ تعلیم کے تسلسل کو ان حالات میں مزاحمت کی ایک شکل سمجھتے تھے۔
سنہ 2000ء سے لے کر اکتوبر 2023ء میں شروع ہونے والی جنگ تک کے طویل سفر کا تجزیہ کرتے ہوئے زغبر کہتے ہیں کہ اس چوتھائی صدی کے دوران فلسطینی معاملے میں آنے والی تبدیلیاں واقعات کی نوعیت میں تبدیلی کی عکاس ہیں۔ جہاں انتفاضہ الاقصىٰ کا رخ سیاسی مذاکرات کے تعطل سے جڑے عوامی و طالباتی احتجاجات سے متعین ہوا تھا، وہی حالات بعد میں ایک ایسے تصادم اور جنگوں کے سلسلہ وار دور میں تبدیل ہو گئے جس نے غزہ پر انتہائی پیچیدہ انسانی و سیاسی حقائق مسلط کر دیے۔
انتفاضہ سے نسل کشی کی جنگ تک
جہاں تک منذر الحايك کا تعلق ہے، وہ انتفاضہ الاقصىٰ کے وقت اپنی عمر کے بیسویں سال کے اختتام پر تھے، اور اس سے قبل وہ پہلی انتفاضہ (1987-1994) کے دوران اسرائیلی قید کا سامنا کر چکے تھے۔ پھر فلسطینی اتھارٹی (PA) کے قیام کے بعد انہوں نے پریذیڈنشیل گارڈز میں بطور سیکیورٹی افسر خدمات انجام دیں۔
الحایک — جو آج 'فتح' تحریک کے ثوری کونسل کے رکن اور قطاعِ غزہ میں اس کے سرکاری ترجمان ہیں — سنہ 2000ء کو ایک نیا تنظیمی موڑ قرار دیتے ہیں، جہاں مسجد اقصىٰ پر دھاوے اور سیاسی راستے کی ناکامی کے جواب میں فتح تحریک اور اس کے عوامی دھڑوں نے ان واقعات میں بھرپور حصہ لیا۔ الجزیرہ نیٹ سے گفتگو میں الحایک اس مرحلے کا ایک تنقیدی نقطہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔ ان کے مطابق فتح تحریک نے ابتدائی طور پر اس عوامی تحرک کو اسرائیل کے ساتھ مذاکراتی شرائط کو بہتر بنانے کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھا تھا۔
ان کا خیال ہے کہ دیگر تمام دھڑوں کی شمولیت اور واقعات کے "عسکریت پسندانہ" ہونے سے اس کا رخ بدل گیا، جس کے نتیجے میں ایسے نتائج سامنے آئے جنہوں نے "اسرائیلی عسکری اقدامات کو مزید بڑھانے کا موقع دیا اور بین الاقوامی سطح پر فلسطینی بیانیے کو متاثر کیا"۔ الحایک دوسری انتفاضہ اور موجودہ جنگ کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انتفاضہ کے دوران، شہداء کی بڑی تعداد کے باوجود، روزمرہ زندگی اور تصادم کا دائرہ نسبتاً محدود تھا۔ جبکہ موجودہ جنگ میں جو وسیع تباہی، صحت کے نظام کی مکمل ناکامی اور بنیادی ضروریات کی شدید قِلّت ہے، وہ انسان کے ذاتی نقصان کے ساتھ مل کر ایک بے مثال اور المناک المیہ بن چکی ہے۔
وہ انتفاضہ جس نے نقطہ نظر بدل دیا
صحافی اور سیاسی تجزیہ کار وسام عفيفة سنہ 2000ء میں اپنے بیسویں سال کے وسط میں تھے جب انتفاضہ الاقصىٰ کا آغاز ہوا۔ انہوں نے پہلے انتفاضہ (انتفاضة الحجارة) کی یادوں کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور پھر اوسلو معاہدے کے ان سالوں کو دیکھا جو اپنے اندر امیدیں اور مزاحمتی و مذاکراتی دونوں پروگراموں کے درمیان شدید اختلافات لیے ہوئے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس سے قبل اتنی وسیع عسکری جھڑپ پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، اور یہ پیش رفت ان کے لیے اس تنازع اور قابض طاقت کے سامنے فلسطینیوں کی صلاحیت کو جاننے کا ایک انتہائی اہم اور موڑ ثابت ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف اس محاذ آرائی میں مختلف فلسطینی دھڑوں اور طبقوں کو ایک ساتھ ملتے دیکھا، جن میں فلسطینی اتھارٹی کے عناصر اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار بھی شامل تھے۔
عفیفہ یاد کرتے ہیں کہ کس طرح روزمرہ زندگی کا منظر نامہ تبدیل ہو گیا؛ کیونکہ نسبتاً پرسکون سالوں کے بعد ٹینک، اپاچی ہیلی کاپٹر اور F-16 جنگی طیارے منظر نامے کا حصہ بن گئے۔ فلسطینی اتھارٹی اور سیکیورٹی اداروں کے دفاتر پر بمباری ایک گہرا اشارہ تھی، کیونکہ فلسطینی حکومت کے ابتدائی دنوں سے جڑی عمارتیں اب اسرائیلی اہداف بن چکی تھیں۔ غزہ میں یہ تصادم زندگی کے ہر موڑ پر سامنے آتا چلا گیا؛ مثلاً ابو ہولی، المطاحن چیک پوائنٹس (مرکزی غزہ) اور نتساریم چیک پوائنٹ (جنوبی غزہ) کے پاس موجود سیٹلمنٹس اور فوجی اڈے فلسطینیوں کی روزمرہ کی گنتی کا حصہ بن گئے کہ: کیا راستہ کھلا ہے؟ اور کیا آمد و رفت ممکن ہے؟
انتفاضہ کے نمایاں ارکان اور رہنما آج کہاں ہیں؟
انتفاضہ الاقصىٰ پر متعدد شخصیات کا گہرا اثر اور نقش رہا، جن میں سب سے نمایاں فلسطینی صدر ياسر عرفات تھے، جنہوں نے سنہ 2004ء میں زہر دیے جانے کی وجہ سے اپنی شہادت تک انتفاضہ کے سالوں میں فلسطینی قیادت کی۔ ان کے ساتھ ساتھ متعدد قومی و تنظیمی شخصیات ابھریں، جنہیں ان کی تنظیموں کے لحاظ سے درج ذیل گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
حرکۃ فتح (Fatah)
- مروان البرغوثی: فتح تحریک کے ممتاز رہنما اور مغربی کنارے میں انتفاضہ کے سب سے نمایاں قائدین میں سے ایک، جنہیں اسرائیل نے سنہ 2002ء میں گرفتار کیا اور وہ آج بھی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔
- ثابت ثابت: طولکرم میں فتح تحریک کے سیکرٹری، جنہیں اسرائیل نے دسمبر 2000ء میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کیا۔
- حسین عبیات اور رائد الكرمی: جنہیں اسرائیل نے بالترتیب 2000ء اور 2002ء میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔
حرکۃ حماس (Hamas)
- شیخ احمد یٰسین: حماس کے بانی، جنہیں اسرائیل نے مارچ 2004ء میں ڈرون حملے میں شہید کیا۔
- جمال منصور اور جمال سلیم: نابلس میں حماس کے دو بڑے رہنما، جنہیں اسرائیل نے جولائی 2001ء میں ٹارگٹ کلنگ میں شہید کیا۔
- عبد العزيز الرنتیسی، اسماعیل ابو شنب، ابراہیم المقادمہ اور صلاح شہادہ: حماس کے ٹاپ سیاسی و عسکری قائدین جنہیں انتفاضہ کے ابتدائی سالوں میں اسرائیل نے غزہ میں شہید کیا۔
پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین (PFLP)
- ابو علی مصطفیٰ: پاپولر فرنٹ کے سیکرٹری جنرل اور انتفاضہ کے انتہائی نمایاں چہروں میں سے ایک، جنہیں اگست 2001ء میں ان کے دفتر پر میزائل حملے کے ذریعے شہید کر دیا گیا۔
- احمد سعدات: ابو علی مصطفیٰ کی شہادت کے بعد ان کے جانشین بننے والے سیکرٹری جنرل، جو فی الوقت اسرائیلی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
اسلامک جہاد
- محمد سدر: الخلیل میں اسلامی جہاد کے نمایاں ترین رہنما، جنہیں 2003ء میں شہید کیا گیا۔
- محمود طوالبہ: جنین کیمپ میں اسلامی جہاد کے عسکری پر سرايا القدس کے اہم ترین کمانڈر، جنہیں سنہ 2002ء میں 'معرکہ جنین' کے دوران شہید کیا گیا۔
عوامی چہرے اور بچے
انتفاضہ کے رموز صرف سیاسی و عسکری قائدین تک محدود نہیں رہے، بلکہ روزمرہ کے تصادم نے ایسے عام نام بھی پیدا کیے جو تنظیمی خطوط سے بالاتر ہو کر عوامی جذبات کے عالمگیر نشان بن گئے؛ جن میں سرِفہرست یہ ہیں:
- محمد الدرة: وہ کمسن بچہ جسے ستمبر 2000ء میں قطاعِ غزہ میں اپنے والد کے سائے میں پناہ لیتے ہوئے اسرائیلی فوج نے گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر دیا تھا۔
- إيمان حجو: وہ شیر خوار بچی جو مئی 2001ء میں قطاعِ غزہ پر اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری کا نشانہ بن کر شہید ہوئی۔
- فارس عودة: وہ نو عمر لڑکا جس کی تصویر ایک اسرائیلی ٹینک کے سامنے چٹان کی طرح کھڑے ہو کر پتھر پھینکتے ہوئے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی، قبل اس کے کہ نومبر 2000ء میں اسے شہید کر دیا جاتا۔
مانیٹرنگ ڈیسک