آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

عز الدین البيک:شمالی برگیڈ کے قائد جنہوں نے غزہ پر قبضے اور جبری ہجرت کے پلان کو ناکام بنا دیا۔

عز الدین البيك عز الدين القسام بریگیڈز کے نمایاں ترین عسکری کمانڈروں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے سنہ 2000ء میں القسام بریگیڈز میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی عسکری محاذ پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ وہ 'لواء الشمال' یعنی شمالی بریگیڈ کے پہلی اسپیشل یونٹ کے کمانڈر رہے، جبکہ تقریباً 10 سال تک 'کٹیبہ الشهيد عماد عقل' (عماد عقل شہید بٹالین) کی قیادت کی اور غزہ کی پٹی میں پیش آنے والی تمام جنگوں اور معرکوں میں عسکری آپریشنز کو لیڈ کیا۔

7 اکتوبر 2023ء کے حملے کے لیے انٹیلی جنس اور آپریشنل منصوبوں کی تیاری میں عز الدین البيك نے انتہائی مرکزیی کردار ادا کیا اور 26 نومبر 2023ء کو شمالی بریگیڈ کے سابق قائد احمد الغندور کی شہادت کے بعد انہوں نے 'لواء الشمال' کی قیادت سنبھالی۔

حماس تحریک نے انہیں "کاسر خطۃ الجنرالات" (جنرلز پلان کو ناکام بنانے والا) کا لقب دیا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے 2024ء میں شمالی غزہ پر قبضہ کرنے اور وہاں کی آبادی کو جنوب کی طرف نقل مکانی پر مجبور کرنے کے منصوبے کو 'جنرلز پلان' کہا جاتا ہے۔حماس کے ذرائع کے مطابق، البيك نے ایک ایسی مؤثر دفاعی حکمتِ عملی کی قیادت کی جس نے آپریشنز کی ایک طویل سیریز کے ذریعے اسرائیلی قابض فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا اور اس پلان کو فیل کر دیا۔

ولادت اور آغاز

عز الدین البيك 1981ء میں پیدا ہوئے اور انہوں نے کم عمری میں ہی حماس تحریک میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ ان کی تربیت جبالیا کیمپ کے وسط میں واقع 'مسجد العودہ' میں ہوئی، اور سنہ 2000ء میں وہ اپنے ساتھیوں سهيل زيادہ اور ابو انس الغندور (سابق قائد لواء الشمال) کے ساتھ مل کر القسام بریگیڈز کا حصہ بنے۔

پہلی اسپیشل یونٹ کے کمانڈر

حماس کے ذرائع کے مطابق، البيك کی میدانی صلاحیتوں کی بدولت عسکری میدان میں تیزی سے آگے بڑھے۔ انہوں نے ناردرن بریگیڈ کی پہلی اسپیشل یونٹ کی قیادت سنبھالی اور القسام کی جانب سے اعلان کردہ خصوصی کمانڈو مشنز کی نگرانی کی۔ انہوں نے 2004ء میں شمالی غزہ پر اسرائیلی حملے — جسے اسرائیل نے 'ایام الندم' (روزِ پشیمانی) کا نام دیا تھا — کے دوران القسام کے دفاعی آپریشنز کی قیادت میں مرکزی کردار ادا کیا۔ فلسطینی مزاحمت نے اس کا جواب 'ایام الغضب' (روزِ غضب) کے نام سے دیا، جو 17 دنوں تک جاری رہا۔ اس معرکے میں درجنوں آمنے سامنے کی جھڑپیں، مائنز اور راکٹ فائر کئے گئے اور بالآخر اپنے اہداف حاصل کیے بغیر اسرائیلی فورسز کو واپس جانے پر مجبورہونا پڑا۔

ان کا کردار 2008ء میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کردہ جنگ 'کاسٹ لیڈ' جسے فلسطینیوں نے 'معرکۃ الفرقان' کہا کے دوران بھی نمایاں رہا۔ البيك نے جبالیا کیمپ کے مغرب میں واقع القسام کی 'کٹیبہ الشهيد عماد عقل' کی مسلسل 10 سال تک قیادت کی اور 2012ء کی جنگ جسے اسرائیل نے پلر آف ڈیفنس اور مقاومت نے 'حجارۃ السجیل' کا نام دیا میں بھی بٹالین کے امور سنبھالے۔

معرکہ 'طوفان الاقصىٰ' میں کردار اور شہادت

اپنے قائدانہ امور کے تحت، البيك نے ناردرن بریگیڈ میں ملٹری انٹیلی جنس کی ذمہ داریوں کا عہدہ سنبھالا اور وہ اسرائیلی عسکری اہداف کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے ذمہ دار تھے۔ انہوں نے 7 اکتوبر 2023ء کے آپریشن کی منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس ڈیٹا کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کیا۔

شهادت:

29 ستمبر 2026ء کو اسرائیلی فضائی فورسز کے ایک ڈرون حملے میں عز الدین البيك شہید ہو گئے، جب غزة شہر کے مغربی حصے کے ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اور وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹس نے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا کہ ہدف بنائے گئے القسام رہنما ”اسرائیلی فورسز کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور حماس میں نئے مجاہدین کو بھرتی کرنے میں ملوث تھے“

الجزیرہ کے نامہ نگار نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی ڈرون نے مغربی غزہ شہر کے محلے النصر میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر بمباری کی۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیلی ڈرونز نے اللبابیدی اور النصر چوک کے قریب 'عمارۃ البتول' (البتول بلڈنگ) کے ایک اپارٹمنٹ پر 3 فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں عز الدین البيك شہید ہو گئے۔

سورس: الجزیرہ

مانیٹرنگ ڈیسک