اوپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

بیروت میں اوکاموتو کا انتقال.. "لد ایئرپورٹ آپریشن" انجام دینے والے جاپانی حریت پسند

جاپان کے جنوب میں واقع اپنے آبائی علاقے "کوماموتو" سے ہزاروں کلومیٹر دور، بیروت کے جنوبی مضافات میں حریت پسند کوزو اوکاموتو (جنہیں "احمد جاپانی" بھی کہا جاتا تھا) 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے مسئلہ فلسطین کے دفاع میں جدوجہد کے ایک طویل اور شاندار سفر کا باب بند ہو گیا۔

پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین (PFLP) نے ایک بیان میں اوکاموتو کو خراج عقیدت پیش کیا، جو اس تنظیم میں شامل ہوئے تھے اور جن کا نام "لد ایئرپورٹ آپریشن" سے جڑا ہوا تھا۔ بیان میں مسئلہ فلسطین کی خاطر ان کی ان قربانیوں کا ذکر کیا گیا جو عشروں تک میدانِ جدوجہد میں جاری رہیں۔

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے بھی اس جاپانی حریت پسند کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے اس سفر کو سراہا جو انسانی اقدار، اصولوں، اور فلسطینی عوام کے حقوق اور کاز کی حمایت میں مخلصانہ اور انتھک محنت کا مظہر تھا۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ آزادی کی علامت اور ظلم و استبداد کی قوتوں کے خلاف مزاحمت کا نشان بنے رہیں گے۔

جمعہ کے روز بیروت کی خاشقجی مسجد سے اٹھنے والے ان کے جنازے میں سوگواروں کے ایک بڑے ہجوم نے شرکت کی اور انہیں آخری الوداع کہا۔

ایک دانشور جس نے بندوق کا انتخاب کیا

پاپولر فرنٹ نے اپنے بیان میں اس "عالمی حریت پسند" کی امتیازی شخصی خصوصیات اور زندگی کے اہم مراحل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی ذہین اور غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے علمِ نباتات (Botany) کی تعلیم حاصل کی تھی اور بہت کم وقت میں عربی، انگریزی، عبرانی، چینی اور روسی سمیت کئی زبانوں پر کمال مہارت حاصل کر لی تھی۔ انہوں نے اپنا یہ علمی اور فکری سرمایہ اس مقصد (مسئلہ فلسطین) کے لیے وقف کر دیا جس سے انہیں بے پناہ محبت تھی۔

تاہم، ان کی شاندار تعلیمی قابلیت ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنی، اور انہوں نے اپنی جوانی کے آغاز ہی میں 1966ء میں رضاکارانہ طور پر 'جاپانی ریڈ آرمی' میں شمولیت اختیار کر لی، جس میں مسئلہ فلسطین کے لیے کام کرنے والا ایک خصوصی ونگ موجود تھا۔ بعد ازاں وہ پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کا حصہ بن گئے۔

لد ایئرپورٹ.. وہ آپریشن جس نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا

30 مئی 1972ء کو "احمد جاپانی" فدائی کارروائیوں کے اس نئے انداز کی علامت بن کر ابھرے جو پاپولر فرنٹ نے اسرائیل کے خلاف اپنایا تھا۔ ان کی اس کارروائی کو مزاحمت کی جرات مندانہ ترین اور تخلیقی کارروائی قرار دیا جاتا ہے۔

اس دن، اوکاموتو تین جاپانیوں پر مشتمل ایک ٹیم کے ہمراہ اطالوی دارالحکومت روم سے فرانسیسی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے لد ایئرپورٹ (موجودہ بن گوریون ایئرپورٹ) کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ کارروائی جاپانی ریڈ آرمی کے نام پر پاپولر فرنٹ کے تعاون سے کی گئی، جس کا مقصد 1968ء میں بیروت ایئرپورٹ پر مڈل ایسٹ ایئرلائنز کے طیاروں کی تباہی کا بدلہ لینا تھا۔

طیارہ اترنے کے بعد، اوکاموتو اور ان کے ساتھی سامان وصول کرنے والے علاقے (Baggage claim) میں گئے، اپنی مشین گنیں اور ہینڈ گرنیڈ نکالے، اور مسافروں پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس واقعے میں 26 افراد ہلاک اور 71 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں اکثریت پورٹو ریکو سے تعلق رکھنے والے امریکی شہریت کے حامل عیسائیوں کی تھی۔

اسرائیلی جیلوں میں 13 سال

اس کارروائی میں ان کے دونوں ساتھی مارے گئے، جبکہ اوکاموتو نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن زخمی ہونے کی وجہ سے گرفتار کر لیے گئے۔ انہوں نے اسرائیلی جیلوں میں 13 سال گزارے، جن کا بیشتر حصہ قیدِ تنہائی میں گزرا، جس کا مقصد ان کے ارادے، ذہن اور جسم کو توڑنا تھا۔ رہائی کے بعد انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی انہیں کتوں کی طرح پیچھے سے ہاتھ باندھ کر منہ سے کھانا کھانے پر مجبور کرتے تھے۔

تفتیش کے دوران اسرائیلی تفتیشی افسران نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ پوچھ گچھ میں تعاون کریں تو انہیں خودکشی کے لیے ایک پستول دیا جائے گا۔ اوکاموتو راضی ہو گئے کیونکہ ان کی اور ان کی تنظیم کی مزاحمتی ثقافت میں قید پر موت کو ترجیح دی جاتی تھی، لیکن اسرائیلیوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور وہ جیل ہی میں رہے۔

20 مئی 1985ء کو، پاپولر فرنٹ اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت اس جاپانی حریت پسند کو رہائی ملی۔ یہ معاہدہ اس وقت "آپریشن گلیلی" کے نام سے مشہور ہوا، جس میں اوکاموتو کے ساتھ بڑی تعداد میں عرب اور فلسطینی قیدی بھی رہا کیے گئے۔

لبنان کا واحد سیاسی پناہ گزین

اپنی رہائی کے بعد وہ لبنان چلے گئے، جہاں انہیں 1997ء میں غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے، سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کرنے اور جعلی پاسپورٹ رکھنے کے الزام میں گرفتار کر کے 3 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سال 2000ء میں ان کی سزا پوری ہونے کے بعد، جاپانی حکومت نے لبنانی حکام سے ان کی حوالگی کا مطالبہ دوبارہ شروع کر دیا، جبکہ لبنانی عوام ان کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے، کیونکہ وہ مسئلہ فلسطین کے حامیوں میں سے تھے۔

اس وقت لبنانی عوام اور عرب انسانی حقوق کے کارکنوں کے احتجاج کے ساتھ ساتھ، فلسطینی تنظیموں اور لبنانی سیاسی جماعتوں کا دباؤ بھی بڑھ گیا۔ بالآخر اوکاموتو کو رہا کر دیا گیا اور انہیں ایک ایسے ملک (لبنان) میں سیاسی پناہ دے دی گئی جو عام طور پر اس حق کو تسلیم نہیں کرتا۔ البتہ ان پر یہ شرط عائد کی گئی کہ وہ کسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے اور نہ ہی میڈیا کے سامنے آئیں گے، جس کے بعد ان کی رہائش گاہ کی جگہ نامعلوم ہی رہی۔

عرفان كرم · مترجم