مجھے زبان سے جیل کا فرش چاٹنے پر مجبور کیا گیا؛ اسرائیلی قید سے لوٹنے والے غزہ کے مزدوروں پر وحشیانہ مظالم

تقریباً تین سال تک غزہ کے رہائشی احمد الشخریتی اپنے 8 بچوں سے ملنے کا خواب دیکھتے رہے، لیکن انہیں اسرائیلی قید میں پہنچا دیا گیا۔ 7 اکتوبر 2023 کو جنگ کے آغاز پر اسرائیل میں موجود ان کا ورک پرمٹ ان کے لیے اذیت ناک قید کا سبب بن گیا۔
40 سالہ احمد غزہ کی ابتر معاشی حالت کی وجہ سے اسرائیل میں مزدوری کرتے تھے۔ جنگ شروع ہوتے ہی وہ اریحا پہنچے جہاں انہوں نے فلسطینی قومی سلامتی کے مرکز میں پناہ لی، بعد ازاں غزہ جانے کی امید میں اسرائیلی چیک پوسٹ پر پہنچے۔
وحشیانہ تشدد
12 جولائی کو احمد اپنے 15 ساتھیوں کے ساتھ قلقلیہ کی اسرائیلی چیک پوسٹ پر پہنچے۔ الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا: ”وہاں 25 دیگر مزدور پہلے سے موجود تھے۔ ہم سب کو تپتی دھوپ میں تین گھنٹے کھڑا رکھا گیا۔“ انہوں نے مزید بتایا کہ فوجیوں نے تمام مزدوروں کے کپڑے اتروائے، تلاشی لی اور پھر فون کے ذریعے ایک ملٹری جج کے حکم پر انہیں ”عوفر جیل“ بھیج دیا گیا۔
مزدوروں نے پہلی رات ہاتھ پاؤں اور آنکھوں پر پٹیاں بندھے حالت میں گزاری۔ اگلے دن جیل منتقل کر کے ان کے فون اور ذاتی سامان چھین لیے گئے۔
پہلی گرفتاری اور ہولناک تذلیل
زندگی میں پہلی بار گرفتار ہونے والے احمد کو لوہے کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ وہ بتاتے ہیں: ”مجھ سے ایک فوجی نے چار منٹ تک زبان سے سیل کا گندا فرش چٹوایا۔ میرا ایک پھیپھڑا کام نہیں کرتا اس لیے میرا دم گھٹنے لگا۔ اس کے بعد ہمیں کڑی دھوپ میں خاردار تاروں کے صحن میں کھڑا رکھا گیا، اور پانی مانگنے پر مجھے سر اور سینے پر مارا گیا۔“

قبر نما جیل
30 مربع میٹر کے ایک چھوٹے سے سیل میں 16 یرغمالیوں کو ٹھونس دیا گیا، جہاں صرف 8 میٹرس اور ٹوٹے ہوئے بیڈز تھے۔ ایک بیڈ پر دو قیدی سوتے تھے۔ بیڈز پر 7 اکتوبر 2023 کی تاریخ درج تھی اور ان پر باریک گدے پڑے تھے جو لوہے کے ساتھ مل کر شدید تپش پیدا کرتے تھے۔
صبح 5 بجے دن کا آغاز ”گنتی“ سے ہوتا تھا جو دن میں چار بار دہرائی جاتی۔ احمد کے مطابق، اس گنتی کے دوران مار پیٹ، تذلیل اور منہ پر تھوکنا معمول تھا۔
دن کی سزا اور سخت ضوابط
احمد نے بتایا کہ دن کے وقت انتظامیہ گدے اور کمبل سمیٹ لیتی تھی تاکہ قیدی بیٹھ یا لیٹ نہ سکیں۔ نہانے کے لیے 16 قیدیوں کو صرف 20 منٹ دیے جاتے تھے، یعنی ہر شخص کے حصے میں بمشکل ڈیڑھ منٹ آتا تھا، جس میں نہانا، کپڑے پہننا اور واپس سیل میں جانا شامل تھا۔ خوراک بھی انتہائی ناقص اور برائے نام تھی، جیسے ایک چمچ دہی اور آدھا کھیرا۔
رہائی کا دن بھی اذیت ناک
احمد نے بتایا کہ رہائی کی رات بھی فوجیوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، سر دیوار سے مارا اور اگلے دن کرم ابو سالم بارڈر تک کے 4 گھنٹے کے سفر میں بھی مار پیٹ جاری رکھی۔ احمد کو 60 دیگر مزدوروں کے ساتھ خان یونس کے ناصر ہسپتال کے قریب رہا کیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردِعمل
'ضمیر فاؤنڈیشن برائے انسانی حقوق' کے ڈائریکٹر علاء اسکافی نے بتایا کہ رہا ہونے والے قیدیوں کے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں تشدد، بھوک اور طبی سہولیات سے محرومی ایک باقاعدہ ریاستی پالیسی بن چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیدیوں کی اس طرح کی رہائی کسی سیاسی معاہدے یا تبادلے کا حصہ نہیں ہے، بلکہ تحویل کی مدت ختم ہونے پر انہیں بغیر کسی عدالت اور اطلاع کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
حنین عبید · مترجم