پتھر سے گھات تک: مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمت نے اپنے طریقۂ کار کیسے بدلے؟

ایک فوجی گاڑی کسی پناہ گزین کیمپ کی تنگ گلیوں کو بلڈوزر سے مسمار کر رہی ہے، کسی پہاڑی کی چوٹی پر اچانک ایک چرواہوں کا خیمہ نصب ہو جاتا ہے، مسلح آبادکار دور افتادہ دیہات پر حملہ آور ہوتے ہیں، ایک ڈرون کسی گھر کی چھت پر منڈلاتا ہوا مطلوب شخص کو نشانہ بناتا ہے، اور رات کے اندھیرے میں گرفتاریوں کی مہم جاری رہتی ہے۔ گزشتہ تقریباً ایک ہزار دنوں سے مغربی کنارے کا یہی روزمرہ منظر ہے۔ اب "کشیدگی" کا لفظ وہاں کی صورتحال بیان کرنے کے لیے کافی نہیں رہا، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ قابض قوت، جغرافیہ اور فلسطینی آبادی کے درمیان تصادم کے قواعد ہی ازسرِ نو مرتب کیے جا رہے ہیں۔
اس دوہری اسرائیلی مشینری (فوجی اور آبادکاری) کے مقابلے میں فلسطینیوں کے پاس بہت کم راستے باقی رہ گئے ہیں: یا وہ اپنے وجود کے تدریجی خاتمے کو قبول کریں، یا پھر اپنے دفاع کے لیے ایسے نئے ذرائع ایجاد کریں جو خطرے کی شدت کے مطابق ہوں، چاہے وہ منظم مسلح مزاحمت کے روایتی سانچوں سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔
عملاً آج یہی ہو رہا ہے۔ مزاحمت اب خفیہ چھوٹے سیلوں، نیم اعلانیہ گروہوں، پتھر، آتش گیر بوتلوں، مقامی طور پر تیار کردہ دھماکا خیز آلات، عوامی مزاحمت، اور ڈیجیٹل دستاویزات تک پھیل چکی ہے، جہاں ایک موبائل فون بھی بیانیے کی جنگ میں ایک مؤثر ہتھیار بن گیا ہے۔
جو بستیاں کبھی آبادکاروں کے حملے خاموشی سے برداشت کرتی تھیں، وہاں اب مختلف مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں؛ کبھی کوئی شخص ننگے ہاتھوں حملہ آور کا ہتھیار چھین لیتا ہے، تو کبھی زیتون کے باغات اور مویشیوں کے دفاع میں اجتماعی مزاحمت سامنے آتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جس طرح حملوں کے طریقے بدل رہے ہیں، اسی طرح دفاع کے انداز بھی مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمت کے ذرائع کیسے بدل گئے ہیں؟ کون سا ماحول اس تبدیلی کو جنم دے رہا ہے؟ اور اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی اور محصور فلسطینی معاشرے کے درمیان یہ مسلسل کشمکش مستقبل میں کس رخ جا سکتی ہے؟
یہ رپورٹ انہی سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے لیے فلسطینی اور بین الاقوامی محققین و ماہرین سے گفتگو، نیز مغربی کنارے کی صورتحال سے متعلق اعداد و شمار اور سابقہ تجزیوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مزاحمت کے نئے طریقے
فلسطینی قومی ادارۂ اطلاعات کے ڈائریکٹر ابراہیم المدهون کے مطابق مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض بے ترتیب سکیورٹی کارروائیاں نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ان کے بقول اسرائیل پہلے "جرم کا میدان" تیار کر رہا ہے تاکہ بعد میں پوری توجہ غزہ کی طرف مرکوز کی جا سکے۔
ان کے مطابق وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹریچ اور وزیر قومی سلامتی ایتمار بن غفیر کے منصوبے کے تحت تین لاکھ پچاس ہزار سے زائد آبادکاروں کو مسلح کر کے انہیں فوج کے متوازی ایک عملی بازو بنایا جا رہا ہے، تاکہ جہاں ممکن ہو فلسطینیوں کو بے دخل کیا جائے اور جہاں ممکن ہو انہیں قتل کیا جائے۔
یہ تبدیلی "آہنی دیوار" نامی فوجی کارروائی کے دوران جنین، طولکرم، طوباس اور نابلس میں واضح طور پر نظر آئی، جہاں صرف مسلح گروہوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ پانی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بلڈوزروں سے تباہ کیا گیا، جدید بکتر بند گاڑیاں اور ڈرون استعمال کیے گئے، اور اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔
سیاسی امور کے ماہر محمد غازی الجمل کے مطابق اسرائیلی سوچ میں ایک بنیادی تبدیلی آ چکی ہے۔ اب فلسطینی وجود کو محض ایک حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ ایک "وجودی خطرہ" سمجھا جا رہا ہے، جسے جلد از جلد ختم کرنا مقصود ہے۔ ایسی صورتحال میں فلسطینیوں کے لیے اپنے وجود کا دفاع ہر ممکن ذریعے سے کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
بلڈوزروں کے ساتھ ساتھ چرواہوں کی نئی آبادیاں بھی خاموشی سے فلسطینی زمین پر قبضے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ ایک آبادکار کا صرف ایک کیبن اور چند مویشی لے آنا آہستہ آہستہ پورے علاقے کو نئی آبادکاری میں بدل دیتا ہے، جس سے فلسطینی چرواہے اپنے ہی علاقوں سے بے دخل ہونے لگتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2023 میں آبادکاروں کے زیر قبضہ زرعى رقبہ تقریباً تین لاکھ دونم تھا، جو 2026 کے وسط تک بڑھ کر دس لاکھ دونم سے تجاوز کر گیا، یعنی مغربی کنارے کے تقریباً 18 فیصد حصے تک پھیل گیا۔ اسی طرح صرف اپریل 2026 میں آبادکاروں کے حملوں کی تعداد سولہ سو سے زیادہ رہی۔
المدہون کے مطابق یہ ایک "خاموش الحاق" ہے، جو سیاسی اعلانات کے بجائے زمینی حقائق کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس کی کوئی مؤثر قیمت ادا نہیں کرنا پڑ رہی۔
خفیہ سیلوں سے عوامی مزاحمت تک
کئی برسوں تک مغربی کنارے میں منظر یہی تھا کہ مسلح آبادکار حملہ کرتا اور نہتے فلسطینی اس کا نشانہ بنتے۔ لیکن نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ تل میں ایک فلسطینی نے ایک آبادکار کا ہتھیار چھین کر اس تاثر کو بدل دیا، اگرچہ اس واقعے میں وہ خود اور اس کے تین قریبی رشتہ دار شہید ہو گئے۔
ہیثم ابو الغزلان کے مطابق مزاحمت کے طریقے مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب چھوٹے اور غیر مرکزی مقامی گروہ تشکیل پا رہے ہیں، تاکہ گرفتاریوں اور انٹیلی جنس کارروائیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ان کے مطابق فلسطینی معلوماتی مرکز "معطیٰ" کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 25 سے 28 جولائی کے درمیان 48 گھنٹوں میں مغربی کنارے میں 17 مزاحمتی کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ ایک ہفتے میں عوامی مزاحمت کی مجموعی کارروائیاں 83 تک پہنچ گئیں۔
ابو الغزلان کا کہنا ہے کہ اب کارروائی کا وقت اور مقام مرکزی قیادت کے بجائے اکثر مقامی یا انفرادی سطح پر طے کیا جاتا ہے۔
اسی دوران مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے دھماکا خیز آلات بھی سامنے آئے، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ بعض اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں کو نقصان پہنچانے میں مؤثر ثابت ہوئے۔ اسی طرح گھات لگا کر حملہ کرنا، پھر فوری طور پر پیچھے ہٹ جانا، اور میڈیا و ڈیجیٹل دستاویزات کو بھی مزاحمت کا حصہ بنانا نئے رجحانات میں شامل ہے۔
تاہم وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ طاقت کا توازن واضح طور پر اسرائیل کے حق میں ہے، اور اس فرق کو کم کرنے کے لیے فلسطینی اتحاد اور حقیقی بین الاقوامی دباؤ ضروری ہے۔
دوسری جانب یوست ہیلٹرمان (انٹرنیشنل کرائسس گروپ) کے مطابق مغربی کنارہ اب جغرافیائی طور پر مسلسل علاقے کے بجائے الگ الگ حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے، جسے سکیورٹی کے لحاظ سے کنٹرول کرنا اسرائیل کے لیے آسان ہو گیا ہے۔
ان کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد پابندیوں میں اضافے سے "علاقہ ج" کے تقریباً 61 فیصد حصے تک فلسطینیوں کی رسائی محدود ہو گئی، جبکہ اسرائیل میں کام کرنے والے فلسطینی مزدوروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ترانوے ہزار سے کم ہو کر صرف چوالیس ہزار رہ گئی، جس کے معاشی اثرات تقریباً سات لاکھ پچاس ہزار افراد پر پڑے۔
ہیلٹرمان کے مطابق ان تمام پابندیوں کے باوجود آزادی کی خواہش ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے مقامی سطح پر مزاحمت کی نئی صورتیں پیدا کی ہیں۔
سیاسی پشت پناہی کے بغیر مزاحمت
المدہون کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نہ خود مزاحمت کرتی ہے اور نہ ہی اسے ہونے دیتی ہے، کیونکہ وہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف اسرائیل مالی وسائل روک کر خود فلسطینی اتھارٹی کو بھی کمزور کر رہا ہے۔
ان کے مطابق صدر محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی عوامی مزاحمت کی بھی حمایت نہیں کرتے، جس کے نتیجے میں فلسطینی عوام روزانہ کے حملوں کا سامنا کسی مشترکہ سیاسی پشت پناہی کے بغیر کر رہے ہیں۔
محمد غازی الجمل بھی اس تجزیے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق فلسطینی مزاحمتی قوتیں ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی کی خواہش رکھتی ہیں، لیکن اندرونی سیاسی اختلافات اور انتخابی تنازعات اس راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ادھر ہیثم ابو الغزلان کا کہنا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ دونوں ایک ہی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق غزہ کی جنگ نے مغربی کنارے میں مزاحمت کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے مزید تقویت دی ہے۔
المدہون مزید کہتے ہیں کہ غزہ میں ہونے والی وسیع تباہی نے فلسطینی معاشرے پر گہرے نفسیاتی اثرات چھوڑے ہیں، جبکہ تقریباً دس ہزار فلسطینی قیدی، جن میں اکثریت مغربی کنارے سے تعلق رکھتی ہے، سخت حالات میں قید ہیں، اس لیے وسیع تصادم کے فیصلے مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
آئندہ کے ممکنہ منظرنامے
ابو الغزلان کے مطابق قریب المستقبل میں سب سے زیادہ امکان ایک ایسے "کم شدت کے مسلسل استنزاف" کا ہے، جس میں انفرادی کارروائیاں، مقامی گھاتیں اور عوامی مزاحمت جاری رہے گی، اور اسرائیلی فوج کو مسلسل بڑی تعداد میں تعینات رہنا پڑے گا۔
اس کے برعکس المدهون کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی، کیونکہ اسرائیل میں مزید سخت گیر دائیں بازو کی سیاست مغربی کنارے کو ایک بڑے دھماکے کے قریب لے جا رہی ہے، خاص طور پر جب علاقائی اور عالمی سطح پر مؤثر ردعمل موجود نہیں۔
ہیلٹرمان کے مطابق اسرائیلی حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تضاد موجود ہے۔ جب بھی کسی ایک مسلح گروہ کو ختم کیا جاتا ہے یا نئی پابندیاں لگائی جاتی ہیں، تو اسی کے نتیجے میں نئے فلسطینی مختلف انداز کی مزاحمت اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، جس سے "گھاس کاٹنے" کی اسرائیلی حکمتِ عملی مستقل کامیابی حاصل نہیں کر پاتی۔
خلاصہ
تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی کنارہ ایک طویل اور مسلسل استنزاف کی کیفیت میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ایک طرف فوجی اور آبادکاری کی طاقت ہے، اور دوسری طرف ایسا فلسطینی معاشرہ ہے جو ہر روز اپنے دفاع کے نئے طریقے ایجاد کر رہا ہے؛ پتھر سے لے کر مقامی ہتھیاروں تک، خفیہ سیلوں سے لے کر موبائل فون کیمرے اور ڈیجیٹل دستاویزات تک۔
اور جب تک کوئی مشترکہ فلسطینی سیاسی حکمتِ عملی سامنے نہیں آتی اور فلسطینی اتھارٹی کا کردار کمزور رہتا ہے، تب تک منظرنامہ دو امکانات کے درمیان معلق دکھائی دیتا ہے: یا تو ایک طویل اور سست رفتار استنزاف جاری رہے گا، یا پھر کسی ایک واقعے سے ایک وسیع تر تصادم بھڑک اٹھے گا، جس کا امکان پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

عرفان كرم
موصوف نے ابتدائی دینی تعلیم کے بعد مرکز الدعوة السلفیة، ستیانہ بنگلہ (نزد فیصل آباد) سے ثانویہ عامہ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے بی اے اصول الدین، اور ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان سے بیچلر آف کمپیوٹر سائنس مکمل کیا، جبکہ فی الوقت وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بی اے عربی کے طالبِ علم ہیں۔ عملی زندگی میں وہ 10 سال سے زائد عرصے سے دبئی اور شارجہ میں travel & tourism کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ عربی ادب کے تراجم میں انہوں نے معروف اردنی ناول نگار ایمن العتوم کے شہرۂ آفاق ناول "الرعب" کا اردو ترجمہ "خوف" کے عنوان سے کیا، نیز ان کے ناول "یسمعون حسیسها" کا ترجمہ مکمل کر چکے ہیں جبکہ "أنا يوسف" فی الوقت زیرِ ترجمہ ہے؛ مزید برآں انہوں نے لبنان میں مقیم فلسطینی نژاد مصنف ادہم شرقاوی کی ایک کتاب اور چند تحاریر کے بھی اردو تراجم کیے ہیں۔