آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

ٹرمپ کے غزہ پلان کا ایک سال اور تلخ حقائق

ڈاکٹر محسن صالح

غزہ پر جنگ کی بندی اور اس کی دوبارہ تعمیر و بحالی سے متعلق ڈونلڈٹرمپ کے منصوبے کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی، غزہ کے 94 فیصد باسیوں کو ہنگامی بنیادوں پر چھت اور بنیادی گھریلو امداد کی شدید ضرورت ہے۔ غزہ میں اب بھی تقریباً 15 لاکھ فلسطینی بے گھر اور در بدر ہیں جو انتہائی بوسیدہ اور خستہ حال 2 لاکھ 70 ہزار خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے 1 لاکھ 62 ہزار خیمے بالکل نا قابلِ استعمال ہو چکے ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد اسکولوں جیسے پناہ گزین مراکز اور تباہ شدہ و گرنے کے قریب مکانات میں مقیم ہے۔ ترمب کے منصوبے اور "مجلس السلام" (Peace Council) کے تحت چھت فراہم کرنے کے میدان میں جو کچھ بھی دیا گیا ہے، وہ عوام کی فوری ضرورتوں کے صرف 3 سے 4 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔

اعداد و شمار کی زبان میں مزید تفصیل میں گئے بغیر، یہاں ایک شدید سوال ابھرتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور اس کے ساتھ "پیس کونسل" کے 27 رکن ممالک غزہ کے لوگوں کی کم از کم ضروریات پوری کرنے سے کیوں قاصر ہیں؟ حالانکہ اگر ایسا کوئی معاملہ امریکہ کی اپنی اندرونی سرحدوں کا ہوتا، یا ان رکن ممالک کا ہوتا، یا کسی دوست ملک کی مدد کا ہوتا تو یہ تمام تر ضروریات چند دنوں کے اندر پوری کی جا سکتی تھیں۔ ٹرمب اور نہ ہی پیس کونسل نے گزشتہ پورے عرصے میں اسرائیل پر ایسا کوئی دباؤ ڈالا جو اسے ان اداروں کو کام کرنے کا موقع دینے پر مجبور کرتا۔ یہی حال پیس کونسل کے باقی تمام فرائض کا بھی ہے،کہ اگر اس میں فلسطینیوں کا کوئی فائدہ تھا تو بھی اسے اس کے بنیادی مقصد سے بالکل خالی کر دیا گیا ہے۔

تباہ کن سیز فائر

29 ستمبر 2025ء کو سامنے آنے والاٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ جنگ اور نسل کشی کو روکنے، قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کرنے، فلسطینیوں کی جبری ہجرت کو روکنے، امداد اور امدادی سامان کی جزوی فراہمی، اور غزہ پر اسرائیل کا مکمل قبضہ روکنے میں کامیاب رہا تھا۔ تاہم، یہ منصوبہ اپنے دوسرے مرحلے میں شدید تعطل کا شکار ہو گیا۔ ری کنسٹرکشن تو دور کی بات ہے ، غزہ سخت بھوک،، مسلسل اسرائیلی جارحیت ، قبضے، امن و امان کی مکمل عدم فراہمی، تعلیم و صحت اور بنیادی ڈھانچے سے محرومی اور یہاں تک کہ بے گھر افراد کے لیے مناسب خیموں کی عدم دستیابی جیسے سنگین حالات میں مبتلا رہا۔ غزہ اب دنیا کے واقعات کا مرکز نہیں رہا اور نہ ہی یہ دنیا کی توجہ کا محور رہا ہے۔ لوگ اپنے مسائل اور نئے واقعات کی طرف لوٹ چکے ہیں؛ جبکہ اسرائیلی غاصبوں نے بغیر کسی شور شرابے کے اپنی جارحیت جاری رکھی۔ اور شاید یہی کچھ اسرائیلی اور امریکی چاہتے بھی تھے۔

ٹرمپ کا پلان سامنے آنے کے بعد جب 12 ستمبر 2026ء کو امریکی صدرٹرمپ سے غزہ کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: "ہم نے آگ بجھا دی ہے اور تمام یرغمالیوں کو واپس لے آئے ہیں... اور درحقیقت غزہ اب وہ جگہ نہیں رہی جس کے بارے میں لوگ بات کرتے ہیں"۔ مختصر یہ کہ تباہی مسلسل جاری ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اور تجزیہ نگار اسے دیکھنا بند کر چکے ہیں۔

پیس کونسل (Peace Council)

22 جنوری 2026ء کو "غزہ پیس کونسل " کے چارٹر اور اس کے اختیارات پر دستخط کیے گئے، جس کا ذکر ٹرمپ نے اپنے منصوبے میں کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ غزہ پر نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی ادارہ ہوگا۔ ٹرمپ نے خود اس کی صدارت سنبھالی اور انتہائی وسیع اختیارات حاصل کیے، جن میں ممبران کی شمولیت کی دعوت اور ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا بھی ان کا خصوصی حق شامل ہے۔

تاہم، بعد میں اس کا دائرہ وسیع کر کے اسے ایک بین الاقوامی تنظیم بنا دیا گیا تاکہ استحکام کو فروغ دیا جا سکے، قابلِ اعتماد اور قانونی حکمرانی قائم کی جا سکے اور دنیا کے کسی بھی تنازع سے متاثرہ علاقے میں "مستقل سیز فائر" کا ضامن بنایا جا سکے؛ یوں اس کا کام غزہ سے تجاوز کر کے دنیا کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔

اس کونسل کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسا بین الاقوامی ادارہ ہے جس نے اقوامِ متحدہ اور غزہ سے متعلق اس کے عالمی اصولوں کی جگہ لے لی ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو فلسطینی حق خود ارادیت کو بالکل ختم کر دیتا ہے اور موجودہ حالات (Fact on the ground) کے تحت ایک مستقل نظام میں بدل سکتا ہے—اور یہی کچھ غاصب دشمن چاہتا ہے۔

اس کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ فلسطین سے متعلق ایک "پیس کونسل " تو ہے، لیکن اس میں فلسطینیوں کو رکنیت سے محروم رکھا گیا ہے۔ دوسری طرف، نسل کشی کرنے والے غاصب دشمن کو اس کی رکنیت دے دی گئی، جہاں نتن یاہو بطور اسرائیلی نمائندہ اس کا ممبر بن گیا۔ یعنی جرم کرنے والا خود حل دینے بیٹھ گیا، جس نے عدل و انصاف کے تصور کو پوری طرح کھوکھلا کر دیا۔

اس عالمی ادارے کی چار تہوں میں فلسطینیوں نے خود کو نہ تو پیس کونسل، نہ ایگزیکٹو کونسل، اور نہ ہی عالمی پیس کیپنگ فورس میں پایا؛ بلکہ وہ محض کا انتظام چلانے کے لیے ایک 'ٹیکنوکریٹ کمیٹی' میں شامل کیے گئے اور اس میں بھی ایک ایک نام کی باقاعدہ منظوری اسرائیلیوں اور امریکیوں نے دی !اس کے باوجود، اسرائیلی حکام نے اس کمیٹی کو تشکیل کے بعد سے گزشتہ 9 ماہ سے زائد عرصے (14 جنوری 2026ء) سے غزہ میں داخل ہونے اور کام کرنے سے روک رکھا ہے۔

اس تمام عرصے میں نہ ٹرمپ نے اور نہ ہی پیس کونسل نے اسرائیلی فریق پر ایسا کوئی دباؤ ڈالا جو اسے اپنا کام کرنے پر مجبور کرتا۔ یہی حال کونسل کے باقی فرائض کا بھی ہے، جسے فلسطینیوں کے فائدے کے نقطۂ نظر سے مکمل طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔

غاصب دشمن کے مسائل کا حل، نہ کہ فلسطینی عوام کے مسائل کا

جب کوئی قوم کسی استعمار کے نیچے ہوتی ہے، تو بین الاقوامی برادری اور عالمی قانون کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے استعمار سے نجات دلانے اور قبضہ ختم کرنے میں مدد کرے؛ لیکنٹرمپ کا منصوبہ، پیس کونسل کے کام کا طریقہ کار، اور ایگزیکٹو کونسل کے ڈائریکٹر 'ملادینوف' کا پلان (جسے وہ گزشتہ مہینوں میں منظور کروانے کی کوشش کرتے رہے)، یہ تمام تر چیزیں ایک عبوری مرحلے کے فارمولے کے ذریعے غاصب دشمن کو ایک پارٹنر کے طور پر پیش کر کے "قبضے کو قانونی حیثیت" (Legitimizing the Occupation) دینے پر مرکوز ہیں۔

اس میں تمام تر فیصلوں کا اختیار غاصب دشمن کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے، جس کی کوئی متعین وقت کی حد نہیں، اور نہ ہی کوئی ایسا قانونی فریم ورک ہے جو مزاحمت اور عام شہریوں کے خلاف اس کے اقدامات سے اس کی "رضامندی" کی حد طے کر سکے۔ اس کے علاوہ غزہ سے مرحلہ وار طور پر فوج نکالنے کا وقت بھی اسی کی مرضی پر چھوڑا گیا ہے، تاکہ اس کے قبضے کو تحفظ ملے اور مقبوضہ قوم کی طرف سے اس کے خدشات کا خاتمہ ہو۔

جہاں تک فلسطینی عوام کا تعلق ہے، تو ان کے سامنے قبضہ ختم ہونے، حصار ختم ہونے، راستے کھلنے، دوبارہ تعمیر شروع ہونے یا صحت و تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کی کوئی واضح اور متعین امید نظر نہیں آتی۔ یعنی یہ منصوبہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے بالکل برعکس اور الٹا چلایا گیا۔

ایک طرفہ سیز فائر

10 اکتوبر 2025ء کو شروع ہونے والی سیز فائر کو تقریباً ایک سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی، اسرائیلی فورسز نے بمباری، قتل و غارت گری اور تباہی کا سلسلہ نہیں روکا—گویا سیز فائر کی پابندی صرف حماس اور مزاحمتی فورسز سے درکار تھی۔

28 ستمبر 2026ء تک اسرائیلی فورسز نے سیز فائر کی 5,147 بار خلاف ورزیاں کیں، جن کے نتیجے میں 1,421 فلسطینی شہید اور 4,983 زخمی ہوئے (یعنی روزانہ اوسطاً 4 شہداء اور 14 زخمی)؛ جبکہ حماس اور مزاحمتی فورسز عمومی طور پر سیز فائر پر سختی سے کاربند رہیں۔

اسی دوران، اسرائیلی فورسز نے سیز فائر کے جوہر کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ کے اندر اپنے زیرِ قبضہ رقبے کو 52 فیصد سے بڑھا کر تقریباً 70 فیصد کر دیا، اور پورے قطاع پر دوبارہ قبضے کی دھمکیاں دیں—جس کا سیدھا مطلب سیز فائر اور پیس کونسل کے تصور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

یہ تمام تر خلاف ورزیاں پیس کونسل اور اس کی ایگزیکٹو باڈی کی آنکھوں کے سامنے ہوتی رہیں اور انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ٹرمپ کے لیے ان خلاف ورزیوں کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی جب تک کہ ان کا اسٹریٹجک اتحادی (اسرائیل) سب رولز آف گیم پر قابض ہے۔

فوج کا نکلنا اور اسلحہ سے پاک کرنا

ترمب کے پلان میں غزہ سے تدریجی طور پر اسرائیلی فوج کے نکلنے اور مزاحمت کا اسلحہ واپس لینے کی بات کی گئی تھی۔ قطعِ نظر اس سے کہ ہمارا اس پر کیا موقف ہے، اس پلان نے اسلحہ کی واپسی کو فوج کے نکلنے کی پیشگی شرط نہیں بنایا تھا، اور نہ ہی اس کی تفصیلات، وقت کی حد یا اسلحہ جمع کرنے والے ادارے کی وضاحت کی تھی۔

تاہم، اسرائیلی فورسز نے اپنی مرضی کی تشریح مسلط کرنے کی کوشش کی، اور اپنے فوجیوں کے نکلنے کے تمام مراحل کو حماس اور مزاحمت کی طرف سے اسلحہ تسلیم کرنے کے ساتھ مشروط کر دیا۔ اسی دوران، انہوں نے اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے غزہ پر حملے اور مزاحمت کاروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔

پیس کونسل اور ملادینوف نے اپنے 15 نکاتی منصوبے میں زیادہ تر اسرائیلی بیانیے کو ہی اپنایا۔ 30 جولائی 2026ء کو حماس کی طرف سے پیش کردہ روڈ میپ کی قبولیت اور امریکیوں کی طرف سے اس کے خیرمقدم کے باوجود، اسرائیلی حکام نے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا کیونکہ وہ ان کی فرعونیت اور تکبر سے میل نہیں کھاتا تھا؛ یوں پیس کونسل خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ اسرائیلی جارحیت جاری رہی۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹرمپ پلان پر عملدرآمد سے پہلے دنیا اسرائیل پر دباؤ ڈالنے، اس پر پابندیاں عائد کرنے، حملے بند کرنے، راستے کھولنے اور فوج نکالنے پر مرکوز تھی؛ لیکن امریکہ کی چھتری اورٹرمپ پلان کی من مانی تشریح کے ذریعے اسرائیلی فورسز دنیا کو اس بات پر لگانے میں کامیاب ہو گئیں کہ حماس اور مزاحمت پر اسلحہ چھوڑنے کا دباؤ ڈالا جائے—جس سے اسرائیلی جارحیت، اس کی خلاف ورزیوں، حصار، قتل و غارت اور مقبوضہ رقبے کی توسيع جیسے سنگین جرائم سے دنیا کی توجہ بالکل ہٹ گئی۔

معاشی اور انسانی بلیک میلنگ

جنگ کے دوران اسرائیلی فورسز نے غزہ کے 90 فیصد سے زائد اثاثے اور بنیادی ڈھانچے بشمول یونیورسٹیاں، اسکول، ہسپتال، کلینکس، مساجد، گرجا گھر، پانی کے کنویں، زرعی زمینیں، سڑکیں، بجلی کا نظام اور 6 کروڑ ٹن ملبہ وغیرہ تباہ کر دیا... لیکن اس کے باوجود، سیز فائر کے پورے ایک سال میں انہوں نے تعمیراتی سامان اور مشینری لانے پر مکمل پابندی عائد رکھی، اور اب تک حقیقی بحالی کا کام شروع نہیں ہو سکا۔

پیس کونسل کے بحالی کے تمام منصوبے محض کاغذی کارروائی رہے۔ مئی 2026ء میں کونسل 17 ارب ڈالر کی عطیات کی بات کر رہی تھی، لیکن چار ماہ بعد (ستمبر 2026ء) وہ ابھی تک 66 منصوبوں کے لیے 2.45 ارب ڈالر کے "ابتدائی منصوبے" کی باتیں ہی کر رہی تھی۔

ان سخت حالات میں ٹرمپ پلان کے تحت روزانہ 600 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہونے کی ضرورت تھی تاکہ بنیادی ضرورتیں پوری ہو سکیں؛ لیکن اسرائیلی حکام نے شہریوں کی انسانی ضروریات پر بلیک میلنگ جاری رکھی۔ سیز فائر کے ایک سال بعد بھی درکار کم از کم حد کا صرف 35 فیصد یعنی روزانہ اوسطاً 206 ٹرک داخل ہونے دیے گئے (28 ستمبر 2026ء تک درکار 2,10,600 ٹرکوں کے مقابلے میں صرف 72,826 ٹرک)۔ ان روکی جانے والی چیزوں میں طبی و تعلیمی سامان، تعمیراتی مواد، خیمے، الیکٹریکل آلات، پانی اور سیوریج کے پائپ وغیرہ شامل ہیں۔

اس دوران پیس کونسل نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا اور اسرائیلی حکام کو کم از کم انسانی ہمدردی کے پہلوؤں پرٹرمپ پلان پر عملدرآمد کے لیے مجبور کرنے کی کوئی حقیقی کوشش نہیں کی۔

کرائے کی ملیشیاز

سیز فائر کے پورے عرصے میں اسرائیلی فورسز نے اپنے خریدے ہوئے مسلح گروہوں کی سرپرستی جاری رکھی جو لوٹ مار اور چوریوں میں ملوث ہیں، عام شہریوں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور مزاحمت کاروں کو نشانہ بنانے میں اسرائیل سے تعاون کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، اسرائیلی فورسز نے فلسطینی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے کئی قائدین اور اہلکاروں کو قتل کیا تاکہ ان مسلح گروہوں کا کام آسان بنایا جا سکے، انتشار پھیلایا جا سکے اور غزہ کے سماجی تانے بانے کو تار تار کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ گروہ بہت چھوٹے ہیں، لیکن اسرائیلی اسلحے اور تحفظ نے انہیں شہریوں کے خلاف بلیک میلنگ کا بڑا ہتھیار بنا دیا ہے۔

جبری ہجرت کے ماحول کو قائم رکھنا

ترمب نے غزہ کے لوگوں کی جبری ہجرت نہ ہونے کا وعدہ کیا تھا؛ لیکن سیز فائر کے پورے ایک سال کا حاصل یہ رہا کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ کے ماحول کو ایسا بنا دیا ہے جہاں جینا ناممکن ہو جائے (Environment encouraging migration)—نہ تباہ شدہ 3 لاکھ 70 ہزار مکانات کی تعمیر ہو رہی ہے، نہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کے لیے سامان مل رہا ہے، نہ بجلی، پانی، صحت اور تعلیم کی سہولیات ہیں؛ اور ساتھ ہی مسلسل حملوں، بے امنی اور انتشار کا ماحول قائم ہے۔

ٹرمپ کے منصوبے کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی اس کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ اسرائیلی فورسزٹرمپ پلان اور پیس کونسل کو مکمل نظر انداز کر کے صرف اپنے فائدے کی چیزیں چن رہی ہیں؛ جبکہ غزہ کے باسی ایک نام نہاد سیز فائر کے سائے میں مسلسل تباہی جھیل رہے ہیں جس کی روزانہ اوسطاً 14 بار اسرائیل کی طرف سے خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

اسی کے ساتھ پیس کونسل ایک انتہائی کمزور اور غیر فعال ادارے کے طور پر سامنے آئی ہے جو اسرائیل کو اس کی ذمہ داریوں کا پابند بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی—جسے امریکی سرپرستی حاصل ہے اور جس کا مقصد صرف غاصب دشمن کو تحفظ فراہم کرنا اور مظلوم فلسطینی عوام کو سزا دے کر ان کے حقوق کو تلف کرنا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک