آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

حماس کے خلاف مہم: یو اے ای کی جانب سے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو بھاری رقم کی پیشکش

خصوصی رپورٹ / بین الاقوامی ڈیسک

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بااثر حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر حماس اور اخوان المسلمین کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیے امریکی انفلوئنسرز کو ڈالرز کی پیشکش کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

لیک ہونے والے نجی پیغامات (DMs) کے مطابق، معروف 'ابراہیم معاہدہ' (Abraham Accords) کے سرگرم کارکن لوئی الشریف (Loay Alshareef) نے ایک امریکی سوشل میڈیا مبصر کو پہلے سے تیار کردہ مواد پوسٹ کرنے کے عوض 1500 امریکی ڈالر کی باقاعدہ پیشکش کی۔

پیشکش کی تفصیلات

اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب اسرائیل کی حامی امریکی تبصرہ نگار اینجلا وان ڈیر پلوئم (Angela Van Der Pluym) نے سوشل میڈیا پر گفتگو کے اسکرین شاٹس شیئر کیے۔ ان شواہد کے مطابق، ابوظبی میں مقیم لوئی الشریف نے براہِ راست رابطہ کرکے اخوان المسلمین کو بدنام کرنے اور حماس کو اس کا عسکری بازو بنا کر پیش کرنے کی مہم میں شمولیت کی دعوت دی۔

اس معاہدے کے تحت مذکورہ انفلوئنسر کو دو مخصوص پوسٹس شیئر کرنے کے عوض 1500 ڈالر دیے جانے تھے۔ ان پوسٹس کے لیے تحریر کردہ مواد بھی فراہم کیا گیا تھا، جس میں خاص طور پر یورپی سلامتی کو درپیش نام نہاد "اسلام پسندوں کے خطرے" کو اجاگر کرنا اور یہ دعویٰ کرنا شامل تھا کہ اردن نے حال ہی میں ملک کو غیر مستحکم کرنے کی ایک مبینہ اخوانی سازش کو ناکام بنایا ہے۔

پیشکش کرنے والی شخصیت کون ہے؟

لوئی الشریف 'ابراہیم معاہدے' کے سرگرم حامی ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) پر ان کے 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔ سعودی عرب میں پیدا ہونے والے مصری نژاد لوئی الشریف اکثر مغربی جامعات اور یورپی پارلیمنٹ میں لیکچرز دیتے ہیں، جہاں وہ حماس کو اخوان المسلمین کا مسلح ونگ قرار دیتے ہوئے یو اے ای کی سخت گیر پالیسیوں کی کھل کر تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ انہیں باقاعدگی سے امریکی اور اسرائیلی حکام کے ساتھ دیکھا جاتا رہا ہے۔ 'جیوش انسائیڈر' کی 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق، لوئی الشریف ابوظبی میں ایک پبلک ریلیشنز (PR) کمپنی چلاتے ہیں جو نجی و حکومتی دونوں سطحوں کے کلائنٹس کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اسی پس منظر کے باعث ان کی طرف سے کی گئی اس مالی پیشکش کو محض کوئی ذاتی قدم نہیں بلکہ ایک باضابطہ منظم مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تنقید اور ماہرین کی رائے

اس انکشاف کے بعد دفاعی و سیاسی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم بین الاقوامی سطح پر اثر و رسوخ خریدنے اور بیرونی ڈیجیٹل آوازوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ایک واضح کڑی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس مہم کا بنیادی مقصد خطے کی سیاسی تحریکوں کو سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت کر کے عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک