آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

برطانیہ: ٹریڈ یونین اتحاد کا اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ، سرمایہ کاری نکالنے اور پابندیوں کی مکمل حمایت کا اعلان

ایک غیر روایتی فیصلے میں برطانیہ کی 'ٹریڈ یونین کانگریس' (TUC) نے اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے انخلاء اور پابندیوں (BDS) کی تحریک کی حمایت میں متفقہ طور پر ووٹ دے دیا۔

بنیادی مطالبات:

مکمل بائیکاٹ: اسرائیل کے ساتھ معاشی، تعلیمی، ثقافتی اور کھیلوں کے تمام روابط اور بائیکاٹ کی حمایت تاکہ اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پابندی پر مجبور کیا جا سکے۔

اسلحے اور تجارت پر پابندی: برطانوی حکومت سے اسرائیل کے ساتھ تمام تر فوجی تعاون، ہتھیاروں کی خرید و فروخت اور آزادانہ تجارتی معاہدوں (Free Trade Agreements) کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ۔

سرمایہ کاری کا انخلاء (Divestment):

برطانوی یونینز اور پینشن فنڈز کو ان تمام کمپنیوں اور بینکوں سے اپنے فنڈز نکالنے کی ہدایت جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی پالیسیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔

سیاسی اہمیت:

اس فیصلے کو برطانوی لیبر موومنٹ میں ایک بڑا بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے، جو برطانوی حکومت پر اسرائیل کے ساتھ تمام تر تجارتی و فوجی تعلقات ختم کرنے کے حوالے سے دباؤ میں شدید اضافہ کرے گا۔

برطانیہ کی ٹریڈ یونین کانگریس (Trades Union Congress - TUC)—جو 48 سے زائد یونینز اور 50 لاکھ سے زائد محنت کشوں کی نمائندہ مظلہ (Umbrella Organization) ہے—کی جانب سے BDS (بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے انخلاء اور پابندیوں) کی مکمل اور متفقہ حمایت کا فیصلہ راتوں رات نہیں ہوا، بلکہ یہ 20 سال سے زائد عرصے پر محیط مسلسل جدوجہد، سیاسی تبدیلیوں اور زمین پر غاصبانہ مظالم کے ردِعمل کا نتیجہ ہے۔

یہ کیسے ممکن ہوا؟ پس منظر اور جدوجہد

اس تاریخی فیصلے کے ممکن ہونے کی بنیادی وجوہات، اس کے پسِ منظر اور اندرونی حرکیات کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے:

1. زمینی حقائق اور غزہ کی نسل کشی (Genocide) کا دباؤ

اس فیصلے کی سب سے بڑی محرک فورس 2023ء کے بعد غزہ میں جاری طویل اسرائیلی نسل کشی، بمباری اور فلسطینی عمال و یونینز پر حملے بنے:

فلسطینی یونینز کی اپیل: اکتوبر 2023ء میں تمام فلسطینی ٹریڈ یونینز نے دنیا بھر کے محنت کشوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں اور اقتصادی سہولیات کی فراہمی روکیں۔ برطانوی یونینز نے اس اپیل کو بنیادی بنیاد بنایا۔بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کے فیصلوں کا اثر: ICJ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ قابلِ سماعت قرار دینے اور مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دینے کے واضح فیصلوں نے یونینز کو قانونی اور اخلاقی بنیاد فراہم کی کہ وہ اب خاموش نہیں رہ سکتی تھیں۔

2. برطانوی محنت کشوں اور عوامی تحریکوں (Public Coalitions) کا جوڑ

برطانیہ میں فلسطین یکجہتی تحریک (Palestine Solidarity Campaign - PSC) نے دہائیوں سے برطانوی ٹریڈ یونینز کے ساتھ مل کر کام کیا:

بڑے مظاہرے: لندن میں ہونے والے تاریخی اور ملین مارچوں نے یہ ثابت کیا کہ برطانوی عوام اور محنت کش طبقات کی رائے عامہ اسرائیل کی فوجی اور معاشی حمایت کے خلاف ہو چکی ہے۔یونینز کے اندر نچلی سطح (Grassroots) کی محنت: لندن اور دیگر بڑے شہروں میں یونین کے مقامی اراکین (Rank-and-file members) نے اپنے اپنے پلیٹ فارمز پر قرار دادیں منظور کروا کر مرکزی قیادت کو آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔

3. بڑی یونینز (Major Unions) کا گٹھ جوڑ اور متفقہ حمایت

TUC میں صرف ایک یا دو یونینز کے چاہنے سے قرار داد پاس نہیں ہو سکتی تھی؛ اس کے لیے برطانیہ کی طاقتور ترین یونینز کا اکٹھا ہونا ضروری تھا۔

ان بڑی یونینز کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے کی وجہ سے ستمبر 2026ء کے اجلاس میں قرار داد بغیر کسی اہم مخالفت کے متفقہ طور پر (Unanimously) منظور ہو گئی۔

4. 'لیبر پارٹی' اور برطانوی حکومت سے مایوسی

روایتی طور پر برطانوی ٹریڈ یونینز 'لیبر پارٹی' کی سیاسی حامی رہی ہیں۔ لیکن حکومت قائم ہونے کے بعد لیبر پارٹی کی طرف سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی مکمل برآمد پر پابندی نہ لگانے اور واضح موقف نہ اپنانے کی وجہ سے یونینز میں شدید مایوسی پھیلی:

  • حکومت کو الٹی میٹم: اس قرار داد کا مقصد برطانوی حکومت کو یہ بتانا ہے کہ ملک کے 50 لاکھ محنت کش اپنے لیڈران سے کہیں زیادہ آگے بڑھ کر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت کو اپنا موقف بدلنا پڑے گا۔

5. فیصلے کی عملی اہمیت اور آئندہ کے اثرات

یہ فیصلہ صرف کاغذ پر لکھا ہوا ایک بیان نہیں ہے، بلکہ اس کے بہت وسیع عملی اثرات مرتب ہوں گے:

1. پینشن فنڈز سے سرمایہ کاری کا انخلاء (Divestment):

برطانوی ٹریڈ یونینز اربوں پاؤنڈز کے پینشن فنڈز کنٹرول کرتی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد یونینز اب ایسے تمام بینکوں، ہتھیار بنانے والی کمپنیوں (جیسے ایلبٹ سسٹمز اور دیگر کارپوریشنز سے اپنے فنڈز نکالنے کے لیے قانونی و انتظامی کارروائیاں کریں گی جو اسرائیلی قبضے میں معاون ہیں۔

2. اسرائیلی مصنوعات اور بحری جہازوں کا بائیکاٹ:

پورٹ ورکرز، ترسیلی اداروں اور لاجسٹکس یونینز کو قانونی ڈھال ملے گی کہ وہ اسرائیلی ہتھیاروں یا سامان سے بھرے جہازوں اور کنٹینرز کی ہینڈلنگ سے انکار کر سکیں۔

3.عالمی سطح پر 'ڈومینو اثر' (Domino Effect):

برطانیہ کی TUC کی جانب سے اس قدم کے بعد یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا اور امریکہ کی بڑی یونینز پر بھی بائیکاٹ اور BDS کی حمایت کے لیے اخلاقی اور سیاسی دباؤ شدید ہو جائے گا۔

مانیٹرنگ ڈیسک