آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی تحریک (BDS) نے کیا حاصل کیا؟ جنرل کوآرڈینیٹر کا تفصیلی جواب

غزہ پر مسلط اسرائیلی نسل کشی کی جنگ کے 3 سال مکمل ہونے کے باوجود، اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے، اس پر پابندیاں عائد کرنے اور دنیا بھر میں اس کی پشت پناہی کرنے والی کمپنیوں، ریستورانوں اور مختلف عسکری و معاشی اداروں کا بائیکاٹ کرنے کی فلسطینی جدوجہد مدہم نہیں ہوئی۔ اسرائیل مخالف بائیکاٹ تحریک 'BDS' (Boycott, Divestment, Sanctions) اپنی طویل جدوجہد کے دوران اور بالخصوص غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک، مقامی اور عالمی سطح پر بائیکاٹ کے میدان میں نمایاں اور نظر آنے والے نتائج حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

حقیقی اور نمایاں تبدیلی

اسرائیلی بائیکاٹ تحریک (BDS) کے جنرل کوآرڈینیٹر محمود نواجعة نے 'الجزیرہ' سے بات کرتے ہوئے تاکید کی کہ عوام کا منظم دباؤ خصوصاً بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے انخلاء (Divestment) اور پابندیوں کے نفاذ کی کمپینز اس طرح بی ڈی ایس پہلے سے کہیں زیادہ realistic اورتبدیلی لانے کی صلاحیت ثابت کر چکا ہے۔

نواجعة کے مطابق، بائیکاٹ تحریک اپنے عالمی شرکاء کے ساتھ مل کر گزشتہ سالوں میں ظالم نظام سے تعاون کرنے والی بڑی عالمی کمپنیوں کو تھکا دینے اور "اسرائیلی جرائم میں ملوث ہونے کی بھاری قیمت وصول کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے ترکی کے علاقے 'اسکودار' (Üsküdar) کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ عوامی دباؤ کے سامنے ترکی حکام نے حال ہی میں علاقے میں موجود 'میک ڈونلڈز' (McDonald's) کی برانچ کو بند کر دیا۔

عالمگیر تنہائی میں اضافہ

'الجزیرہ' سے گفتگو میں نواجعة نے زور دیا کہ نسل کشی کی فنانسنگ اور اسرائیلی فوج کو فوڈ پارسلز بھیجنے میں ملوث کمپنیوں پر دباؤ ڈالنے کے علاوہ، بائیکاٹ تحریک اور اس کے عالمی اتحادی آج اسرائیلی استعماری و نسل کش نظام اور اس کے جرائم کی معاونت کرنے والے اداروں کی تاریخی اور بے مثال عالمگیر تنہائی (Isolation) میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں جو تمام شعبوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے:

  • عسکری سامان کا راستے میں روکا جانا۔
  • بڑے انویسٹمنٹ فنڈز کا اسرائیل سے سرمایہ نکالنا (Divestment)۔
  • متعدد حکومتوں کی جانب سے پابندیوں کا نفاذ۔
  • عالمی یونیورسٹیوں کا اسرائیلی اداروں سے تعلیمی روابط کا قطعِ تعلق۔
  • ہالی ووڈ سمیت دسیوں ہزار فنکاروں کا ثقافتی بائیکاٹ میں شمولیت۔
  • اسرائیل کا سائیکلنگ کے عالمی کھیلوں سے اخراج۔
  • 4 عرب ممالک سے 'کارفور' (Carrefour) سٹورز کا مکمل خاتمہ ، اور دیگر بے شمار کامیابیاں

اہداف کی تقسیم

نواجعة نے مزید بتایا کہ بائیکاٹ تحریک نے اپنے ٹارگٹس کو تین بنیادی درجوں میں تقسیم کر رکھا ہے:

1. انتہائی ترجیحی اہداف (Top Priority Targets): یہ مخصوص کمپنیوں کا وہ گروپ ہے جس کا تمام لوگوں سے بائیکاٹ کرنے اور ان سے سرمایہ واپس نکالنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ اس میں تمام اسرائیلی بینک یا کمپنیاں شامل نہیں ہیں، بلکہ وہ عالمی برانڈز ہیں جو اسرائیلی نوآبادیاتی اور نسل پرست نظام (Apartheid) میں گہرے ملوث ہیں۔

2. مختلف اقسام کے دباؤ کے اہداف (Targets for Pressure): یہ وہ اہداف ہیں جن کے ساتھ مکمل بائیکاٹ فی الوقت مشکل ہے، لیکن ان سے معاہدے ختم کرنے، سرمایے کے انخلاء اور قانونی چارہ جوئی کا دباؤ بڑھایا جاتا ہے۔

3. آرگینک کمپینز (Organic Campaigns): یہ وہ مہمات ہیں جو بائیکاٹ تحریک نے خود شروع نہیں کیں، بلکہ دنیا بھر کے عوام نے ازخود اور خود بخود شروع کیں۔ بی ڈی ایس تحریک ان کی مکمل حمایت کرتی ہے، کیونکہ عوامی غیض و غضب ایک حقیقی قوت بنتا ہے جیسا کہ میک ڈونلڈز کے معاملے میں دیکھا گیا۔

bds-.webp

دباؤ میں شدت لانے کی اپیل

نواجعة نے دنیا کے تمام آزاد منش انسانوں اور فلسطینی عوام کے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی جرائم میں شریک تمام کمپنیوں، بالخصوص ٹاپ پرارٹی ٹارگٹس کے خلاف اجتماعی بائیکاٹ کے دباؤ کو تیز کریں۔ انہوں نے پرامن و قانونی تحرک، سرمایہ کاری کے انخلاء، اور آرگینک مہمات کی نشر و اشاعت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام شعبوں میں نارملائزیشن کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ "اسرائیلی نسل کش نظام کی تصویر کی بحالی اور اس کے مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے"۔

واضح رہے کہ غزہ کی فلسطینی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، نسل کشی کی جنگ کے ان 3 سالوں کے دوران 74,237 سے زائد فلسطینی شہید اور 1,75,267 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

سورس: الجزیرہ

مانیٹرنگ ڈیسک