آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

سب سے آخری واقعہ "شوفار" کا پھونکا جانا؛ باب الرحمہ کی شناخت بدلنے کے لیے اسرائیل کیا کر رہا ہے؟

القدس: کئی دنوں کے سنسرشپ کے بعد، اسرائیلی میڈیا رپورٹس نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ اتوار جو نام نہاد "عبرانی نئے سال" کا دوسرا دن اور طویل یہودی تہواروں کے سیزن میں دھاووں کا پہلا دن تھا مبارک اقصیٰ میں 30 سے زیادہ بار یہودی مذہبی باجا بوق پھونکا گیا۔11 ستمبر کے بعد سے مسجد اقصیٰ پر صہیونی یلغار ایک نئی مہم کی صورت میں شروع ہو چکی ہے۔ یہ یہودی عیدوں کے دن ہیں اور ہیکل سلیمانی بنانے کی دعوت دینے والی تنظیمیوں نے خصوصی طور پر مسجد اقصیٰ چلو کے نام سے مہم چلا رکھی ہے۔ اس دوران قابض حکومت مکمل میڈیا سینسشپ پر عمل کر رہی ہے۔ مسجد اقصیٰ کے دروازے باب الرحمہ اور مسجدِ اقصیٰ کے دیگر مقامات پر ایک ہی دن میں 30 بار یہودی مذہبی باجا ''شوفار'' بجایا گیا۔یہ اس بات کی تصدیق کے لیے کافی تھا کہ اقصیٰ کے خلاف اسرائیل کس حد تک جا چکا ہے۔ مسجدِ اقصیٰ کے مشرقی حصے میں واقع باب الرحمہ کو یہود کے قبضے میں لانے اور وہاں مختلف عبادات کے حوالے سے مسلسل وارننگ سانے آ رہی تھی کہ یہ ایسے اسرائیلی اقدامات ہیں جن کا نمونہ اس سے قبل یوارِ براق میں دیکھا جا چکا ہے۔یہ وہی دیوار ہے جسے دیوار گریہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چینل 7 کی شائع کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 'شافی شمرون' (مغربی کنارے میں نابلس کے شمال مغرب میں واقع سیٹلمنٹ) کے مذہبی مدرسے کے سربراہ رابطی آرییہ لیبو کو اقصیٰ کے اندر ایک اجتماعی دوپہر کی نماز کے دوران 30 بار بوق پھونکا گیا۔

settlers-in-aqsa (1).avif

موقع اور ہدف

باب الرحمہ، مسجدِ اقصیٰ کے 15 قدیم ترین ابواب (دروازوں) میں سے ایک ہے۔ ان میں سے 10 ابواب کھلے ہیں اور 5 بند ہیں، جن میں سے ایک 'باب الرحمہ' بھی ہے جو مسجدِ اقصیٰ کی مشرقی دیوار میں واقع ہے اور اس کی اونچائی 11.5 میٹر ہے۔ یہ دو دروازوں پر مشتمل ہے: جنوب میں الرحمہ اور شمال میں التوبہ۔ اس کا نام باہر سے اس سے متصل 'باب الرحمہ قبرستان' کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔ اسے گولڈن گیٹ (الباب الذهبي) بھی کہا جاتا ہے، اور اس کی وجہ اموی دور میں اقصیٰ کے اندر سے اس دروازے کو سونے سے ملمع کاری کرنا ہے، یا پھر اس عقیدے کی بنا پر کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبارک اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے۔

محققین اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ اس کی تعمیر اموی دور میں عبدالملک بن مروان کے عہد میں ہوئی تھی جس کا ثبوت اس کے تعمیری اور فنکارانہ اجزاء ہیں۔ مسجدِ اقصیٰ کی سمت سے اس دروازے کے اندر واقع عمارت کو نماز اور عبادت کے ہال کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

امام غزالیؒ نے جب بیت المقدس میں قیام فرمایا تو باب الرحمہ کے بالائی زاویے میں اعتکاف کیا تھا، اور وہیں اپنی مشہور کتاب "إحياء علوم الدين" تحریر کی تھی۔ اسی طرح اس دروازے اور اس کے ہال کو اسلامی ورثہ کمیٹی (لجنة التراث الإسلامي) نے آباد کیا اور 1992ء سے اسے اقصیٰ کے اندر اپنی دعوتی سرگرمیوں کا ہیڈکوارٹر بنایا، یہاں تک کہ اسرائیلی غاصب حکام نے 2003ء میں اس کمیٹی کو تحلیل کر دیا۔اس دروازے کا نام 'مقبرة باب الرحمة' سے ماخوذ ہے جس کی عمر 1,400 سال ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 42 دونم (1 دونم = 1,000 مربع میٹر) پر محیط ہے جو کہ مسجدِ اقصیٰ کی مشرقی دیوار کے متوازی، باب الاسباط سے لے کر جنوب میں اموی محلوں کے قریب اقصیٰ کی دیوار کے اختتام تک پھیلا ہوا ہے۔

اس کی دینی و اسلامی اہمیت اس بات میں ہے کہ اس میں صحابہ کرام اور مجاہدین کے مزارات شامل ہیں، بالخصوص دو جلیل القدر صحابیوں حضرت شداد بن اوسؓ اور حضرت عبادہ بن صامتؓ کی قبور، نیز اس میں مبارک اقصیٰ میں اسرائیلی غاصبانہ قتلِ عام کے شہداء کی قبور بھی ہیں۔ بہت سے مسلمانوں نے اسے قرآنِ پاک کی اس آیت سے جوڑا:

فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ

(پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندرونی حصے میں رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہوگا)۔

دورِ حاضر سے تاریخی پس منظر تک

فاتح صلاح الدین ایوبیؒ نے صلیبیوں سے مقدس شہر کی آزادی کے بعد عسکری اور سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر قبرستان کی سمت سے باب الرحمہ کو بند کر دیا تھا، جبکہ دوسری سمت یعنی اقصیٰ کے اندر سے یہ دروازہ کھلا رہا جس میں تقریباً 200 مربع میٹر کا ایک وسیع ہال موجود ہے۔

جہاں تک مسجدِ اقصیٰ کے اندر دیوار کے مغرب میں واقع 'مصلى باب الرحمة' کا تعلق ہے، تو وہ عباسی دور تک کھلا رہا، پھر صلیبیوں نے اس پر قبضہ کر کے ایسٹر (Easter) کے دنوں میں اسے کھولا۔ پھر اس کو نماز کی جگہ میں تبدیل کر دیا گیا، جو مملوک اور عثمانی ادوار تک قائم رہا۔ بعد میں برطانوی تسلط کے دور میں نمازیوں پرسختیوں کی وجہ سے اس مصلّیٰ کا استعمال کم ہو گیا۔ اس کے باوجود یہ اردنی دور تک کھلا رہا، اور 1967ء میں اسرائیل کے اقصیٰ پر قبضے کے بعد اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

1992ء میں 'اسلامی ورثہ کمیٹی' کی جانب سے اسے ہیڈکوارٹر بنائے جانے کے بعد اس مصلّیٰ میں 11 سال تک دینی سرگرمیاں جاری رہیں یہاں تک کہ 2003ء کے اوائل میں قابض فوج نے اس کمیٹی پر پابندی عائد کر دی اور اسے بہانا بنا کر مصلّیٰ کو مکمل طور پر سیل کر دیا۔

یہ بندش 2019ء تک جاری رہی، یہاں تک کہ فروری 2019ء میں اسرائیلی حکام نے اس لوہے کے دروازے پر تالے لگا دیے جو مصلى باب الرحمہ کی طرف جانے والی پتھریلی سیڑھیوں کی طرف جاتا ہے۔ اس وقت دسیوں ہزار نمازیوں نے القدس کی نمایاں دینی قیادت کی رہنمائی میں " باب الرحمة کمیٹی " (باب الرحمہ تحریک) کے نام سے قیام کیا، اور انہوں نے ان تالوں کو توڑ کر مصلّیٰ اور اس کے اطراف میں نماز ادا کی۔

bab-ur-rahma.webp

تلمودی رسومات کے پیچھے چھپے عزائم

باب الرحمہ کو یہودی رنگ میں رنگنے کی کی کوششیں کبھی نہیں رکیں، یہاں سیٹلرز کے دھاوے اور وہاں نیز 'باب الرحمہ قبرستان' میں مذہبی رسومات کی ادائیگی بار بار دہرائی جاتی رہی، تاکہ یہ علاقہ فلیش پوائنٹ بنا رہے جو کسی بھی وقت حالات کو بھڑکا سکتا ہے۔

اس کی مثال رابطی آرییہ لیبو کا عمل ہے؛ باوجود اس بات کی تصدیق کے کہ "وہ اکیلا شخص نہیں تھا جس نے بوق پھونکا" بلکہ دیگر سیٹلرز نے بھی "ہڈیوں اور چھوٹے دھاتی بوقوں سے بوق پھونکے"، لیکن "پولیس نے ان کے ساتھ کوئی جارحانہ رویہ نہیں اپنایا اور وہ ہمدرد نظر آئی"۔

پولیس نے پہلے بوق کے بعد رابطی کو گرفتار نہیں کیا اور ان کی اجتماعی نماز کے ختم ہونے کا انتظار کیا، پھر انہیں باہر نکلنے کو کہا اور بتایا کہ انہیں عدالت میں سماعت کے لیے بلایا جائے گا۔فلسطینی القدس گورنریٹ (محافظة القدس) نے گزشتہ پیر کو جاری کردہ اپنے بیان میں خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے پاس 'دیوارِ براق' کی طرز پر باب الرحمہ کو یہودی بنانے، اور خود ساختہ "ہیکل گروپس" کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے مقامِ معراج کے اردگرد ایک نیا یہودی مذہبی قدم جمانے کے منصوبے موجود ہیں۔

اب یہ تمام تر ہتھکنڈے صرف بوق پھونکنے، اجتماعی سجدے کرنے، اسرائیلی پرچم لہرانے، یا مخصوص مذہبی مناسبتوں پر رسومات ادا کرنے تک محدود نہیں رہے؛ بلکہ اب یہ ایک انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر رہے ہیں یعنی اس جگہ کو یہودیوں کی باقاعدہ اور مستقل عبادت گاہ میں تبدیل کرنے کی کوشش، جو مسجدِ اقصیٰ کے گرد ایک نئی مذہبی واقعاتی حقیقت قائم کرنے کا پیش خیمہ ہے۔

سورس: الجزیرہ

مانیٹرنگ ڈیسک