آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

امریکہ فلسطین سے کب نکلے گا؟ جب وہ جنگ کی سرپرستی سے دستبردار ہوگا

امریکہ کی جنگی فورسز دسمبر 2011ء میں عراق سے واپس نکلی تھیں، جبکہ 'داعش' کے خلاف جنگ کے فریم ورک کے تحت امریکی فورسز بعد میں دوبارہ وہاں داخل ہو گئیں ۔ اسی طرح افغانستان سے وہ 20 سالہ طویل جنگ کے بعد 30 اگست 2021ء کو نکلنے پر مجبور ہوئے۔ان دونوں ممالک میں واشنگٹن نے بڑے بڑے نعروں کے تحت قدم رکھا تھا: سیکیورٹی، دہشت گردی کا خاتمہ اور خطے کی بحالی۔ لیکن پھر ایک ایسا دن آیا جب اس کی براہِ راست عسکری موجودگی کا ایک مرحلہ ختم ہو گیا، اور پیچھے یہ سوال باقی رہ گیا کہ ان قوموں نے اس کی کیا قیمت چکائی، اور ان جنگوں نے اپنے پیچھے تباہی اور عدم استحکام کا کتنا بڑا ملبہ چھوڑا؟لیکن فلسطین میں سوال بالکل مختلف ہے: امریکہ یہاں سے کب نکلے گا، جبکہ وہ اپنے ٹینکوں کے ساتھ غزہ پر قابض ہے اور نہ ہی اس کے شہروں کے اوپر اپنا پرچم لہراتا ہے؟

اس کا جواب خود امریکی موجودگی کی کیفیت کو سمجھنے سے شروع ہوتا ہے۔ واشنگٹن غزہ میں موجود کوئی مقیم فوج نہیں ہے، بلکہ وہ اسرائیل کا سب سے اہم عسکری اور سیاسی شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعلقات ادارہ جاتی اور انتہائی گہرے ہیں۔ 2019ء سے 2028ء کے لیے طے شدہ امریکی-اسرائیلی ایم او یو (MoU) کے تحت 38 ارب ڈالر کی عسکری امداد شامل ہے، جس میں سے 33 ارب ڈالر عسکری مالی اعانت اور 5 ارب ڈالر مائلز اینڈ میزائل ڈیفنس پروگراموں کے لیے مخصوص ہیں (جو کانگریس کی منظوری سے مشروط ہیں)۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ ”انخلاء“ یا ”واپسی“ کا مفہوم کسی ایک فوجی کے نکلنے یا کسی عسکری بیس کو خالی کرنے سے کہیں زیادہ وسیع ہو جاتا ہے۔ یہ اس لمحے کا سوال ہے جب امریکہ یہ فیصلہ کرے کہ اس کا اثر و رسوخ اسرائیل کے لیے کوئی "اوپن چیک" نہیں ہے، اور یہ کہ جب بات عام شہریوں کی زندگیوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی آئے تو اس کے فراہم کردہ اسلحے، سرمایہ کاری اور سیاسی چھتری کی حدود مقرر ہونی چاہئیں۔

غزہ کی جنگ اپنے تیسرے سال کی تکمیل کے قریب پہنچ چکی ہے، اور دنیا اب ان عارضی مناظر کے سامنے نہیں ہے جنہیں خبروں کے بلیٹن میں دفن کیا جا سکے۔ ہم ایک ایسے پورے معاشرے کے سامنے ہیں جس نے بمباری، نقل مکانی، اپنے گھروں اور پیاروں کے زیاں اور زندگی کے تمام بنیادی لوازمات سے محرومی کو بھگتا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کی 29 ستمبر 2026ء کو جاری کردہ شماریاتی رپورٹ کے مطابق، 7 اکتوبر 2023ء سے لے کر اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 74,023 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 175,111 ہو گئی ہے۔

یہ کسی سیاسی رجسٹر کے خالم خولی اعداد نہیں ہیں؛ یہ دسیوں ہزار وہ زندگیاں ہیں جو رک گئیں، بکھر جانے والے خاندان ہیں، اور وہ بچے ہیں جو خیموں میں پروان چڑھے یا پھر سرے سے بڑے ہی نہیں ہو سکے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اکتوبر 2025ء میں سیز فائر کے اعلان کے بعد بھی انسانی المیہ ختم نہیں ہوا ہے۔ ستمبر 2026ء میں بھی شہریوں کا جانی و مالی نقصان جاری رہا اور انسانی ضروریات انتہائی شدید رہیں۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کی ہم آہنگی کے دفتراوشا (OCHA) کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کے 94 فیصد رہائشیوں کو شیلٹر (پناہ گاہ) اور بنیادی گھریلو سامان کی عاجلانہ ضرورت ہے، جبکہ 65 فیصد خاندان اب بھی خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں جو انہیں گرمی، سردی اور بارش سے بچانے میں ناکافی ہیں۔

اس منظرنامے کے سامنے، واشنگٹن سے پوچھا جانے والا سوال بالکل بجا اور مشروع ہو جاتا ہے:

آخر کب تک اس پیمانے پر عسکری اور سیاسی تعاون جاری رہے گا ؟؟

اور کب امریکی اثر و رسوخ انسانوں کے تحفظ، ظلم کے خاتمے اور خوراک، ادویات، پانی و پناہ گاہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکے؟

امریکہ کی مختلف انتظامیہ یہ کہتی رہی ہیں کہ اسرائیل کی حمایت اس کی سلامتی اور طویل المدتی اسٹریٹجک وابستگیوں سے جڑی ہے اور یہ سرکاری امریکی بیانیہ ہے۔ لیکن امریکی پالیسی کے ناقدین سوال اٹھاتے ہیں: بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی بات کرنے کی کیا قیمت رہ جاتی ہے اگر شہریوں کے اس پیمانے پر قتل عام کے باوجود اس کی کوئی سیاسی قیمت وصول نہ کی جائے؟ اور واشنگٹن کے پاس غیر معمولی اثر و رسوخ ہونے کا کیا مقصد اگر اسے مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے؟

لہٰذا، معاملہ امریکی عوام سے کسی دشمنی کا ہے اور نہ ہی ایک ظلم کو دوسرے ظلم سے بدلنے کی دعوت ہے؛ بلکہ یہ طاقت کی ذمہ داری کے بارے میں ایک اخلاقی اور سیاسی سوال ہے۔ جو ریاست وسیع پیمانے پر اسلحہ سازی، مالی اعانت اور سفارتی اثر و رسوخ کی حامل ہے، وہ اسی طرح شرائط بھی عائد کر سکتی ہےاور شہریوں کے تحفظ کے لیے دباؤ بھی ڈال سکتی ہے، پھر کیا وجہ ہے؟ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے وہ اصل ذمہ داری شروع ہوتی ہے جسے تشویش اور افسوس کے بیانات کے پیچھے نہیں چھپایا جا سکتا۔ امریکہ عراق سے تب نکلا جب اس کی عسکری موجودگی کی ایک خاص شکل ختم ہو گئی، اور وہ افغانستان سے تب نکلا جب اس نے دیکھ لیا کہ وہ 20 سالہ جنگ ہمیشہ جاری نہیں رکھ سکتے اور وہ افغان قوم کے عزم کے سامنے مزید نہیں ٹھہر سکتا۔

جہاں تک فلسطین کا تعلق ہے، تو وہاں حقیقی انخلاء آخری فوجی کو لے جانے والے کسی طیارے سے نہیں ہوگا؛ کیونکہ وہاں سرے سے کوئی براہِ راست امریکی غاصب فورس موجود ہی نہیں ہے۔ حقیقی انخلاء تب ہوگا جب واشنگٹن غیر مشروط حمایت سے پیچھے ہٹے گا، اور جب کسی فلسطینی کی زندگی اور حقوق کا احترام امریکی فیصلوں میں ایک بنیادی معیار بنے گا نہ کہ نمبر دو پر آنے والا ایک جملہ جوہمیشہ اسرائیل کی سلامتی کے ذکر کے بعد آتا ہے!

صرف تب ہی اس سوال کا جواب مل سکے گا کہ امریکہ فلسطین سے کب نکلے گا؟اور اس کا جواب یہ ہے:

”جب امریکہ احتساب سے فرار کی سرپرستی سے دستبردار ہوگا، اور جب امریکہ انسانی نتائج کو سنبھالنے پر اکتفا کرنے کے بجائے شہریوں کی شہادتوں کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا، اور جب امریکہ ایک فلسطینی کو کسی بیان کے آخر میں درج محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک ایسا انسان سمجھے گا جسے زندگی، سلامتی، آزادی اور وقار کا وہی یکساں حق حاصل ہے!“

مانیٹرنگ ڈیسک