آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

بسملہ کی کہانی کیا ہے؟ جس کے لیے فلسطینیوں نے چند دنوں میں لاکھوں ڈالرز جمع کر لیے

اس کی عمر محض 13 ماہ سے زیادہ نہیں ہے، لیکن اس نے اپنی زندگی کا بیشتر پہلا سال انتہائی نگہداشت کی مشینری کے درمیان گزارا ہے، جہاں وہ ایک نایاب جینیاتی بیماری سے لڑ رہی ہے جس نے اس کی زندگی کو لاکھوں ڈالرز کی لاگت والے علاج سے جوڑ دیا ہے۔ یہ ہے بسملہ طولکرم سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی بچی جو 'اسپائنل مسکولر ایٹروفی ٹائپ نامی نایاب بیماری میں مبتلا ہے، اور الجزیرہ کے پروگرام 'شبکات' کے مطابق اس نے اپنا تقریباً ایک سال طولکرم کے 'الشهيد ثابت الحكومي' اسپتال کے آئی سی یو میں گزارا ہے۔

یہ بیماری ایک جینیاتی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے جو مسلز کی حرکت کو کنٹرول کرنے والے اعصابی خلیوں کے لیے ضروری پروٹین کی کمی کا باعث بنتی ہے، اور ان خلیوں کے متاثر ہونے سے مسلز تک پہنچنے والے اعصابی سگنل کمزور ہو جاتے ہیں۔ رپورٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق بسملہ کو "زولگنسما" (Zolgensma) نامی جینیٹک تھراپی کی ضرورت ہے جو ڈرپ کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد جسم کے خلیوں میں جینز کی ایک صحیح کاپی داخل کرنا ہے تاکہ پروٹین بنانے، اعصابی خلیوں کی حفاظت اور مسلز کے افعال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔ تاہم اس علاج کی انتہائی بھاری قیمت نے بسملہ کے خاندان کو ایک ایسے چیلنج کے سامنے کھڑا کر دیا جو ان کی استطاعت سے باہر تھا، کیونکہ اس علاج کی لاگت تقریباً 2.4 ملین ڈالرز (24 لاکھ ڈالرز) ہے۔

عوامی مہم: "لبّيكِ يا بسملة" (ہم حاضر ہیں اے بسملہ!)

تقریباً ایک سال پہلے بسملہ کے والد علی الزین نے علاج کے اخراجات جمع کرنے کے لیے اپیلیں کرنا شروع کیں، جس کے بعد یہ اپیلیں طولکرم میں "لبّيكِ يا بسملة" کے نعرے کے تحت ایک وسیع عوامی مہم کی شکل اختیار کر گئیں۔ اس مہم میں میڈیا کے نمائندوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے حصہ لیا، اور جلد ہی یہ مہم فلسطین کے دیگر شہروں تک پھیل گئی۔ عطیہ دہندگان نقدی رقم، سونا، گاڑیاں اور یہاں تک کہ گھوڑے تک لے کر طولکرم پہنچے تاکہ جس حد تک ممکن ہو اپنا حصہ ڈال سکیں۔

رپورٹ کے مطابق، طولکرم ڈسٹرکٹ سے منسلک ایک مالیاتی کمیٹی کی نگرانی میں رقم کی منظم جمع آوری کے صرف 4 دنوں کے اندر مطلوبہ رقم مکمل ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ پہلے دن مہم کے ذریعے تقریباً 8 لاکھ ڈالرز کے علاوہ غیر نقد عطیات جمع کیے گئے، اور اس کے تقریباً ایک دن بعد ہی علاج کے لیے مطلوبہ رقم کی تکمیل کا اعلان کر دیا گیا۔ مہم انتظامیہ کے مطابق، کل عطیات کی رقم تقریباً 80 لاکھ شیکل (تقریباً 2.2 ملین ڈالرز) تک پہنچ گئی۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردِعمل اور التماس

بچی کی کہانی جلد ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جہاں صارفین نے اس مہم کو فلسطینی اتحاد اور باہمی تعاون کی ایک بے مثال مثال قرار دیا۔

اسماعیل نے لکھا:

فلسطینیوں نے شہروں یا سیاسی وابستگیوں کو دیکھے بغیر بسملہ کی جان بچانے کے لیے لبیک کہا، اس مہم نے ثابت کیا کہ وہ ایک انسانی مقصد پر اکٹھے ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

بیسان نے کہا:

بچی کی حالت دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں، لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اور بھی بہت سے فلسطینی بچے ہیں جنہیں علاج کی ضرورت ہے۔ میری خواہش ہے کہ ایسی مہات کو مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی مدد کے لیے مستقل مہمات میں تبدیل کیا جائے۔

محمد نے تبصرہ کیا:

عطیات صرف پیسے تک محدود نہیں تھے بلکہ سونا، گاڑیاں اور دیگر چیزیں بھی شامل تھیں، کیونکہ اس بچی کی زندگی انمول ہے۔

صارفین کا ردِعمل صرف رقم کی تکمیل پر خوشی منانے تک محدود نہیں رہا، بلکہ بعض نے عطیات کی انتظامی شفافیت اور علاج کے سفر کی مسلسل نگرانی پر زور دیا۔

دینا نے کہا:

تصاویر، ویڈیوز اور ثبوتوں کے ساتھ شفاف اور مستند مہم ایک انتہائی مثبت چیز تھی۔ میں ہر اس شخص کا شکریہ ادا کرتی ہوں جس نے اس کے عوامی کردار کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

محمود نے اپیل کی:

عطیہ دہندگان کا یہ حق ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ ان کا پیسہ صحیح جگہ پہنچا ہے، اور مہم کے حتمی نتیجے کی آگاہی کے عمل کو جاری رکھا جائے۔

'شبکات' پروگرام کی وضاحت کے مطابق، یہ عطیات طولکرم ڈسٹرکٹ کے خیراتی تکافل فنڈ میں جمع کرائے گئے ہیں، جبکہ ایک مالیاتی کمیٹی ان فنڈز کی دیکھ بھال کرے گی یہاں تک کہ انہیں ہلال احمر کے ذریعے اس ادارے کو منتقل کر دیا جائے جو بسملہ کے علاج کی ذمہ داری اٹھائے گا۔

اگلا مرحلہ: علاج کا تعین

اگرچہ مہم نے سب سے بڑی رکاوٹ کو عبور کر لیا ہے، لیکن خاندان کے سامنے ابھی ایک اہم مرحلہ باقی ہے: اس جگہ، ادارے اور تاریخ کا تعین جہاں بسملہ کو یہ علاج دیا جائے گا۔الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے بسملہ کے والد نے کہا کہ اس کا تمام تر کریڈٹ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کو جاتا ہے، اور انہوں نے مہم میں حصہ لینے والے ہر شخص کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ابھی تک علاج فراہم کرنے والے ادارے اور تاریخ کا حتمی تعین نہیں ہوا ہے، تاہم فلسطینی ہلال احمر کے ساتھ مل کر علاج کے لیے مناسب جگہ اور طریقہ کار کا تعین کیا جائے گا۔

سورس: الجزیرہ

مانیٹرنگ ڈیسک