امریکہ عالمی عدالت پر پابندیاں کیوں لگا رہا ہے؟

ریاستہائے متحدہ امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام عدالت کی ایک سابق جج کو نوبل امن انعام سے نوازے جانے کے محض چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جسے نوبل کمیٹی کے بقول حملوں کا شکار عالمی اداروں کی حمایتی علامت قرار دیا گیا تھا۔
جنوبی افریقہ کی ناوَنیتھم (نیوی پلے (Navanethem "Navi" Pillay) کو جمعہ کے روز اس اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا۔وہ اس وقت دی ہیگ ہی میں قائم بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کی جج ہیں۔
چیئرمین یورگن واٹنے فریڈنس (Jørgen Watne Frydnes) نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کا پورا نظام "شدید ترین دباؤ" میں ہے اور اس کے ادارے "حملوں کی زد میں" ہیں۔
نوبل کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا: "رواں سال کا نوبل امن انعام دیتے ہوئے نارویجن نوبل کمیٹی دنیا کو یاد دلانا چاہتی ہے کہ قانون کی حکمرانی — ملکی اور بین الاقوامی — اس نظام کی بنیاد ہے جسے ہم نے امن کے قیام اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے تشکیل دیا تھا۔ امن، عدل و انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔"
امریکہ کا یہ حالیہ اقدام ICC کے ججوں اور دیگر اہلکاروں پر رواں سال کے دوران پہلے سے عائد کردہ پابندیوں کا تسلسل ہے۔
امریکہ نے کیا اعلان کیا ہے؟
جمعہ کے روز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے ICC کو نشانہ بنانے والی تازہ ترین پابندیوں کا اعلان کیا، جس کا اس بار براہِ راست ہدف خود یہ عدالت ہے جو 2002ء میں جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم پر مقدمہ چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں روبیو نے کہا:
"ہم اس 'سرکش عدالت' (Rogue Court) کے ساتھ تمام تر لین دین پر پابندی لگائیں گے، ان کے وسائل منقطع کریں گے اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو فلج کر دیں گے، کیونکہ ہمارا پیغام بالکل واضح ہے: ریاستہائے متحدہ امریکہ اور امریکی عوام اس مصنوعی ICC کے دائرہ اختیار کے تابع نہیں ہیں۔"
ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ICC نے غیر رکن ممالک کا تعاقب کر کے اپنے دائرہ کار سے تجاوز کیا ہے۔ 2024ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس وقت عدالت کی مذمت کی تھی جب اس نے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ اس سے قبل عدالت نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اقدامات کی تحقیقات بھی شروع کی تھیں۔
امریکہ اور اسرائیل اس روم سٹیٹیوٹ (Rome Statute) کا حصہ نہیں ہیں جس کے تحت اس عدالت کا دائرہ اختیار قائم ہوتا ہے۔ تاہم، غیر رکن ممالک کے شہریوں کی طرف سے ICC کے رکن ممالک یا ان کی سرزمین پر کیے جانے والے جرائم پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
روبیو نے اپنے بیان میں مزید کہا: "یا تو ICC اپنے دھمکانے کا سلسلہ بند کرے، یا پھر ہم ICC کو ختم کر دیں گے۔" انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر امریکی اتحادی اس عدالت کو نکیل ڈالنے میں ناکام رہے تو امریکہ "ICC کو تتر بتر کرنے کی مہم جاری رکھے گا"۔
امریکہ اس سے قبل ICC پر کیا پابندیاں لگا چکا ہے؟
یہ پابندیاں ICC کے خلاف امریکی مہم کی محض تازہ ترین کڑی ہیں۔ اس سے پہلے کے اقدامات میں ICC کے دسیوں ججوں اور پراسیکیوٹرز، فلسطین کے لیے اقوامِ متحدہ کی بالخصوص رپورٹر فرانسسکا البانیز اور ان فلسطینی حقوقِ انسانی کی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے اسرائیل کے جنگی جرائم کے شواہد عدالت کو فراہم کیے تھے۔
اگست 2026ء میں ICC کی صدر تومووکو اکانے اور سینئر وکیل عبداللہ سائے پر بھی امریکہ نے پابندیاں عائد کی تھیں، جسے روبیو نے "امریکیوں کو اس جعلی عدالت سے بچانے کا لازوال مشن" قرار دیا تھا۔ ان کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی کمپنیوں کو ان کے ساتھ لین دین سے روک دیا گیا ہے۔
عملی طور پر ان نئی پابندیوں کا کیا مطلب ہے؟
عدالت کو نشانہ بنانے والی ان پابندیوں کے نتیجے میں اسے خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ امریکہ میں موجود ICC کے کسی بھی اثاثے کو بھی منجمد کر دیں گی۔تاہم، ان پابندیوں کے تحت امریکی کمپنیوں کو عدالت کے ساتھ موجودہ کاروبار سمیٹنے کے لیے 6 ماہ کی رعایت (Grace Period) دی گئی ہے۔ بعض دیگر لین دین کے لیے بھی استثنیٰ دیا گیا ہے۔
لندن کی مڈل سیکس یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ولیم شوباس (William Schabas) نے الجزیرہ کو بتایا کہ عدالت ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک سال سے زائد عرصے سے "پلان بی پر کام کر رہی ہے۔ اس میں امریکی سافٹ ویئر کے بجائے یورپی متبادل پر منتقل ہونا، اور بیمہ کمپنی 'ایکسا' (Axa) سے تعلقات ختم کرنا شامل ہے جو امریکہ میں کاروبار کرتی ہے۔
انہوں نے کہا: "یہ کتنا مؤثر ثابت ہوگا، یہ دیکھنا باقی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایک ادارے کے طور پر اس کے لیے امور انتہائی پیچیدہ ہو جائیں گے۔"
عالمی ردِعمل کیا رہا؟
ہیومن رائٹس واچ کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ییل یونیورسٹی کے سینئر فیلو کینتھ روٹھ (Kenneth Roth) نے الجزیرہ کو بتایا:
"ٹرمپ جو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دنیا کو امریکی اور اسرائیلی جنگی مجرموں کے لیے محفوظ بنانا ہے۔"
خود ICC نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی اقدام کی شدید مذمت کی، اور اسے "انصاف کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے" اور عدالت کے ساتھ کام یا تعاون کرنے والوں کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا۔
عدالت نے کہا: "یہ قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں پر حملہ ہے، جو اس سادہ سے اصول کو نشانہ بناتا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔" عدالت نے اپنے 125 رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس کے کام کو جاری رکھنے کے لیے اقدام کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا: "تاریخ اس لمحے کا فیصلہ کرے گی۔ آنے والی نسلیں اور بالخصوص مظالم کا شکار ہونے والے افراد پوچھیں گے کہ جب ان کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ادارے پر حملہ ہوا تو ہم نے کیا ردِعمل دیا تھا۔"
ریاستہائے متحدہ امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام عدالت کی ایک سابق جج کو نوبل امن انعام سے نوازے جانے کے محض چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جسے نوبل کمیٹی کے بقول حملوں کا شکار عالمی اداروں کی حمایتی علامت قرار دیا گیا تھا۔ جنوبی افریقہ کی ناوَنیتھم (نیوی پلے (Navanethem "Navi" Pillay) کو جمعہ کے روز اس اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا۔وہ اس وقت دی ہیگ ہی میں قائم بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کی جج ہیں۔ نوبل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فریڈنس (Jørgen Watne Frydnes) نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کا پورا نظام "شدید ترین دباؤ" میں ہے اور اس کے ادارے "حملوں کی زد میں" ہیں۔ نوبل کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا: "رواں سال کا نوبل امن انعام دیتے ہوئے نارویجن نوبل کمیٹی دنیا کو یاد دلانا چاہتی ہے کہ قانون کی حکمرانی ملکی اور بین الاقوامی اس نظام کی بنیاد ہے جسے ہم نے امن کے قیام اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے تشکیل دیا تھا۔ امن، عدل و انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔"
امریکہ کا یہ حالیہ اقدام ICC کے ججوں اور دیگر اہلکاروں پر رواں سال کے دوران پہلے سے عائد کردہ پابندیوں کا تسلسل ہے۔
امریکہ نے کیا اعلان کیا ہے؟
جمعہ کے روز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے ICC کو نشانہ بنانے والی تازہ ترین پابندیوں کا اعلان کیا، جس کا اس بار براہِ راست ہدف خود یہ عدالت ہے جو 2002ء میں جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم پر مقدمہ چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں روبیو نے کہا: "ہم اس 'سرکش عدالت' (Rogue Court) کے ساتھ تمام تر لین دین پر پابندی لگائیں گے، ان کے وسائل منقطع کریں گے اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو فلج کر دیں گے، کیونکہ ہمارا پیغام بالکل واضح ہے: ریاستہائے متحدہ امریکہ اور امریکی عوام اس مصنوعی ICC کے دائرہ اختیار کے تابع نہیں ہیں۔" ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ICC نے غیر رکن ممالک کا تعاقب کر کے اپنے دائرہ کار سے تجاوز کیا ہے۔ 2024ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس وقت عدالت کی مذمت کی تھی جب اس نے غزہ میں مبینہ جنگی جرائم پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ اس سے قبل عدالت نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اقدامات کی تحقیقات بھی شروع کی تھیں۔ امریکہ اور اسرائیل اس روم سٹیٹیوٹ (Rome Statute) کا حصہ نہیں ہیں جس کے تحت اس عدالت کا دائرہ اختیار قائم ہوتا ہے۔ تاہم، غیر رکن ممالک کے شہریوں کی طرف سے ICC کے رکن ممالک یا ان کی سرزمین پر کیے جانے والے جرائم پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ روبیو نے اپنے بیان میں مزید کہا: "یا تو ICC اپنے دھمکانے کا سلسلہ بند کرے، یا پھر ہم ICC کو ختم کر دیں گے۔" انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر امریکی اتحادی اس عدالت کو نکیل ڈالنے میں ناکام رہے تو امریکہ "ICC کو تتر بتر کرنے کی مہم جاری رکھے گا"۔
امریکہ اس سے قبل ICC پر کیا پابندیاں لگا چکا ہے؟
یہ پابندیاں ICC کے خلاف امریکی مہم کی محض تازہ ترین کڑی ہیں۔ اس سے پہلے کے اقدامات میں ICC کے دسیوں ججوں اور پراسیکیوٹرز، فلسطین کے لیے اقوامِ متحدہ کی بالخصوص رپورٹر فرانسسکا البانیز اور ان فلسطینی حقوقِ انسانی کی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے اسرائیل کے جنگی جرائم کے شواہد عدالت کو فراہم کیے تھے۔ اگست 2026ء میں ICC کی صدر تومووکو اکانے اور سینئر وکیل عبداللہ سائے پر بھی امریکہ نے پابندیاں عائد کی تھیں، جسے روبیو نے "امریکیوں کو اس جعلی عدالت سے بچانے کا لازوال مشن" قرار دیا تھا۔ ان کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی کمپنیوں کو ان کے ساتھ لین دین سے روک دیا گیا ہے۔
عملی طور پر ان نئی پابندیوں کا کیا مطلب ہے؟
عدالت کو نشانہ بنانے والی ان پابندیوں کے نتیجے میں اسے خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ امریکہ میں موجود ICC کے کسی بھی اثاثے کو بھی منجمد کر دیں گی۔تاہم، ان پابندیوں کے تحت امریکی کمپنیوں کو عدالت کے ساتھ موجودہ کاروبار سمیٹنے کے لیے 6 ماہ کی رعایت (Grace Period) دی گئی ہے۔ بعض دیگر لین دین کے لیے بھی استثنیٰ دیا گیا ہے۔
لندن کی مڈل سیکس یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ولیم شوباس (William Schabas) نے الجزیرہ کو بتایا کہ عدالت ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک سال سے زائد عرصے سے "پلان بی پر کام کر رہی ہے۔ اس میں امریکی سافٹ ویئر کے بجائے یورپی متبادل پر منتقل ہونا، اور بیمہ کمپنی 'ایکسا' (Axa) سے تعلقات ختم کرنا شامل ہے جو امریکہ میں کاروبار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا: "یہ کتنا مؤثر ثابت ہوگا، یہ دیکھنا باقی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایک ادارے کے طور پر اس کے لیے امور انتہائی پیچیدہ ہو جائیں گے۔"
عالمی ردِعمل کیا رہا؟
ہیومن رائٹس واچ کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ییل یونیورسٹی کے سینئر فیلو کینتھ روٹھ (Kenneth Roth) نے الجزیرہ کو بتایا:
"ٹرمپ جو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دنیا کو امریکی اور اسرائیلی جنگی مجرموں کے لیے محفوظ بنانا ہے۔" خود ICC نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی اقدام کی شدید مذمت کی، اور اسے "انصاف کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے" اور عدالت کے ساتھ کام یا تعاون کرنے والوں کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا۔ عدالت نے کہا: "یہ قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں پر حملہ ہے، جو اس سادہ سے اصول کو نشانہ بناتا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔" عدالت نے اپنے 125 رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس کے کام کو جاری رکھنے کے لیے اقدام کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا: "تاریخ اس لمحے کا فیصلہ کرے گی۔ آنے والی نسلیں اور بالخصوص مظالم کا شکار ہونے والے افراد پوچھیں گے کہ جب ان کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ادارے پر حملہ ہوا تو ہم نے کیا ردِعمل دیا تھا۔"
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے "شدید سراسیمہ" ہیں، اور یہ "بین الاقوامی مجرمانہ انصاف کی ہماری اجتماعى کوششوں کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے"۔ برطانیہ، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، کینیڈا اور جاپان کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ ان پابندیوں سے "شدید اختلاف" کرتے ہیں اور انہوں نے خبردار کیا کہ اس کا عدالت کے کام پر انتہائی منفی اثر پڑے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور ICC پر الزام لگایا کہ وہ "ایک سیاسی ادارہ ہے جو دنیا بھر کی قانون پسند جمہوریتوں کے لیے مہلک خطرہ ہے"۔
کیا امریکہ بین الاقوامی قانون کے نظام کو تباہ کر رہا ہے؟
امریکہ کی طرف سے ICC کو نشانہ بنانا قانون کی حکمرانی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ بین الاقوامی عدالتوں اور محاکم کو پابندیوں کی دھمکی کے بغیر کام کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے خود بارہا بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کیا ہے۔ فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر مشترکہ حملہ کرنے پر مبصرین نے تنقید کی تھی کہ یہ امریکی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی ہے۔ جبکہ جنوری میں کاراکاس سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے امریکی فوجی اغواء کو بھی غیر قانونی قرار دے کر شدید مذمت کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ، ٹرمپ انتظامیہ نے بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالہاہل میں منشیات کی سمگلنگ کی مبینہ کشتیوں پر فضائی حملے کیے جن میں 200 سے زائد افراد مارے گئے، جسے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے "ماورائے عدالت اور غیر قانونی قتلِ عام" قرار دیا۔ ٹرمپ کے تحت امریکہ بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں سے نکل چکا ہے ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران ایران نیوکلیئر ڈیل (JCPOA) اور پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ سے انخلاء سے لے کر حال ہی میں عالمی ادارہ صحت (WHO) اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کونسل (UNHRC) سے علیحدگی تک۔
کینتھ روٹھ نے ICC پابندیوں کے بارے میں کہا: "ٹرمپ جو کر رہے ہیں وہ انصاف میں رکاوٹ ہے۔ اگر آپ 'روم سٹیٹیوٹ' کے آرٹیکل 70 کو دیکھیں، تو یہ عدالتی حکام کو ان کے سرکاری فرائض کی وجہ سے دھمکانا یا ہراساں کرنا جرم قرار دیتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "لیکن عدالت مضبوط ہے، وہ اپنا کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یوکرین، سوڈان، میانمار، افغانستان اور فلپائن جیسی جگہوں پر مظلوموں کے تحفظ کے لیے عدالت کے پاس اہم کام موجود ہے، اور یہ کام جاری رہنا چاہیے اور جاری رہے گا۔"
مانیٹرنگ ڈیسک