اے غزہ والو! تم آج کا غزوہ اُحد لڑ رہے ہو!

اے روئے زمین کے پاکیزہ ترین لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے کہ جب دشمنوں کے ساتھ اپنے بھی مل کر اقصی اور فلسطین کو دفن کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے تو تم نے اس منصوبے کو ہی دفن کر دیا!
سلام تم پر ! خدا تمہاری جان مان کی قربانیوں کو قبولیت بخشے اور تمہارے دلوں میں قائم حوصلے اور صبر کے پہاڑ جنہیں محاصرہ اور تین سال کی نسل کشی بھی نہ جھکا سکے۔۔۔ وہی خدا تمہیں اس کا اجر عطا فرمائے۔
اہل غزہ! تم دشمن کے مقابل تین سال ثابت قدم رہے جہاں کتنی ہی فوجیں اور ریاستیں دو دن بھی کھڑی نہ رہ سکتیں۔
اہل غزہ! تم نے اپنے دشمن کا وہ نقصان کیا جو ستر سال میں کوئی نہ کر سکا۔۔تم نے مصیبت، سختی اور آزمائش کا وہ بوجھ اٹھایا جسے پہاڑ بھی شاید برداشت نہ کر سکیں۔
قریب والوں نے تمہارا ساتھ چھوڑ دیا، مگر اللہ تعالیٰ نے دور والوں کو تمہاری نصرت کا ذریعہ بنا دیا۔ عرب اور مسلمان کی آواز جب تمہاری حمایت میں دبائی جانے لگی تو اللہ قادر مطلق نے غیر مسلم اجنبیوں کی زبانیں اور قلم اور کی بورڈ تمہاری مدد کے لیے مسخر کر دیے۔
اہل غزہ! یہ سچ ہے کہ دشمن نے کوئی ہتھیار ایسا نہ چھوڑا جو تم پر نہ آزمایا ہو، کوئی چال ایسی نہ چھوڑی جو استعمال نہ کی ہو، اور کوئی حلیف ایسا نہ چھوڑا جس سے مدد نہ لی ہو۔۔۔۔لیکن تم نے بھی ہر شہید کا استقبال الحمدللہ رب العالمین اور حسبنا اللہ ونعم الوکیل علیھم سے کیا اور غزوہ احد کی یاد تازہ کر دی جب ساری دنیا اکٹھی ہو کر انہیں ڈرانے چلی تھی تو انہوں نے بھی حسبنا اللہ و نعم الوکیل کا نعرہ ہی بلند کیا تھا!
آج کا غزوہ احد گویا غزہ ہی لڑ رہا ہے!
ذرا دیکھو تو غزہ میں ہر دس میں سے ایک شخص شہید یا زخمی ہوا، اور اُحد میں بھی مسلمان ایسے ہی حال میں تھے، سات سو مجاہدین میں سے ستر صحابۂ کرامؓ شہید ہوئے اور اتنے ہی زخمی۔
تب ان کے رب نے ان کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا:
ولا تهنوا ولا تحزنوا وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين
نہ کمزور پڑو، نہ غم کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔
اے دنیا کے پاکیزہ ترین لوگو! ، اے روئے زمین کے سب سے زیادہ پاک اور متقی انسانو! اللہ کی قسم! آج کی اس جنگ احد میں بھی تم سربلند ہو!
علامہ اقبالؒ نے لگتا ہے تمہارے لیے ہی کہا تھا کہ
خرقۂ «لا تحزنوا» اندر برش
«انتم الاعلون» تاجی بر سرش
(رموز بیخودی)
اس کے جسم پر «لا تحزنوا» (غم نہ کرو) کا لباس ہے،
اور اس کے سر پر «انتم الاعلون» (تم ہی سب سے بلند ہو) کا تاج سجا ہوا ہے۔
یہ غلبہ 1400 سال پہلے بھی احد کا نتیجہ تھا اور اے اہل غزہ! آج بھی تم اہل احد کو یہ نتیجہ مل کر رہے گا!
اے یاسین کے بیٹو،
اے سنوار کے بھائیو،
اے ضیف کے سپاہیو! اللہ تمہارے بازوؤں اور فولادی عزم و ہمت میں برکت عطا فرمائے۔
اللہ کی قسم! اگر تمام لوگ ایک ہی صف میں تمہارے خلاف جمع ہو جائیں اور ہر مکروفریب آزما لیں، تب بھی کائنات کا رب ان کی ہر سٹریٹجی کو ناکام کرتے ہوئے تمہاری مدد کر رہا ہے۔
کیا یہ خدائے واحد کی مدد نہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسی زبردست عالمی بیداری پوری دنیا میں ابھر آئی، ظالم دشمن کی ناقابلِ شکست ہونے کی داستان کا ٹوٹ گیا اور دنیا کی کوئی بڑی سڑک "فری فلسطین" سے خالی نہ رہی!
ہمارے لوگو! پیارے لوگو! اگر تمہاری ان تمام قربانیوں کا حاصل صرف یہی ہوتا، تب بھی تم یقیناً کامیاب اور سرخرو ہی ہو لیکن تم نے اس امت کے اجتماعی گناہوں کا ایسا کفارہ ادا کیا ہے کہ اب تمہاری قربانیاں مسجد اقصی کی دیواروں تک پہنچا کر ہی چھوڑیں گی۔
اور تو اور اب قابض دشمن کے اندر بھی یہ خدشہ یقین کی صورت اختیار کر رہا ہے کہ اختتام قریب ہے!
اے اہل غزہ! ہر سال تمہارے طوفان اقصی کے لیے خیر و برکت کا سال ہو، اور ہم جلد وہ وقت دیکھیں جب اس طوفان کی لہروں پر سوار سب اہل ایمان بلکہ دنیا بھر کے تمام حریت پسند مسجد اقصی میں داخل ہوں!
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے!

خالد حمدی · مصنف
شیخ ڈاکٹر خالد حمدی دوحہ (قطر) میں مقیم ایک مصری اسلامی داعی، خطیب اور محقق ہیں جو دعوتِ دین، معاشرتی اصلاح، مسلمان خاندان کی تعمیر اور اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت جیسے موضوعات پر کام کرتے ہیں۔ وہ اپنے تربیتی دروس، خطبات اور مختلف مجلات و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والے علمی مضامین کے ذریعے دعوتی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جبکہ ان کی اصلاحی ویڈیوز ان کے یوٹیوب چینل "خالد حمدی" اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی بآسانی دستیاب ہیں۔
عبد الصمد بلال · مترجم