آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

مسجد اقصیٰ:یہودی عیدوں کی آمد، فلسطینیوں کے داخلے پر پابندیاں بڑھنے لگیں

القدس / میڈیا رپورٹس

اسرائیلی حکام نے ماہ ستمبر اور اکتوبر میں آنے والی یہودی عیدوں کے پیش نظر قبلہ اول مسجد اقصی سے فلسطینی نماز یوں اور عملے کے داخلے پر پابندی لگانے کا عمل در تیز کر دیا ہے۔

فلسطینی حکام اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ستمبر کے ابتدائی چھ دنوں میں ہی مسجد اقصی 15 فلسطینیوں پر مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد مسجد کے صحنوں میں فلسطینیوں کی موجودگی کو کم سے کم کرنا ہے تاکہ قابض یہودی آباد کاروں کو بلاروک ٹوک داخلے کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

اہم شخصیات کو نوٹس جاری

فلسطینی ذرائع اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق بے دخل کیے جانے والوں میں قدس کے شرعی قاضی ڈاکٹر ایاد العباسی بھی شامل ہیں، جنہیں ایک ہفتے کے لیے مسجد اقصی میں داخلے سے روک دیا گیا ہے اور اس مدت میں توسیع کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مسجد کے متعدد نگراں اور سابق قیدیوں کو بھی 1 ماہ سے 6 ماہ تک کے پابندی کے نوٹس تھما دیے گئے ہیں۔

اعداد و شمار کا جائزہ

فلسطینی گورنریٹ اور مقامی صحافتی رپورٹس کے مطابق جولائی اور اگست دو ماہ کے دوران مجموعی طور پر 23 افراد کو بے دخل کیا گیا تھا، جبکہ صرف ستمبر کے پہلے ہفتے میں یہ تعداد 15 تک پہنچ چکی ہے۔

سال 2026 کے مجموعی اعداد و شمار: رواں سال کی شروعات سے اب تک اسرائیلی انتظامیہ نے داخلے پر پابندی کے 800 سے زائد احکامات جاری کیے ہیں، جن میں سے اکثریت کا تعلق مسجد اقصی سے ہے۔آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کو دیکھا جائے تو یہ تاریخ میں اس سال سب سے زیادہ ہے۔ اگست کے اختتام تک 40,600 سے زائد یہودی آباد کار پولیس کی سخت سیکورٹی میں مسجد اقصی کے احاطے میں داخل ہو چکے ہیں۔

یہودی عیدوں کے دوران کشیدگی کا خدشہ

مقبوضہ بیت المقدس کے مذہبی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات 12 ستمبر سے شروع ہونے والے نئے عبرانی سال ، یوم کپور اور دیگر یہودی عیدوں کے موقع پر سخت سیکورٹی پابندیاں عائد کرنے کا پیش خیمہ ہیں۔ القدس ڈسٹرکٹ اور اسلامی اوقاف کے حکام نے واضح کیا ہے کہ 144ہیکٹر پر پھیلا ہوئےمسجد ِاقصى کمپاؤنڈ مسلمانوں کا خالص مذہبی اور قانونی حق ہے اور اسرائیل کے ایسے تمام انتظامی و سیکیورٹی اقدامات اس کے تاریخی اور قانونی حیثیت (Status Quo) کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

سورس: الجزیرہ