الخلیل: مسجدِ ابراہیمی میں چار ماہ سے اذان پر پابندی

الخلیل میں 'محکمہ اوقافِ اسلامی' نے تاریخی ابراہیمی مسجدپر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور اس کی تاریخی و مذہبی حیثیت کو بدلنے کے لیے اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے پر شدید وارننگ جاری کی ہے۔ یہ وارننگ مسلسل چار ماہ سے مسجد میں اذان پر پابندی، نمازیوں اور اوقاف کے عملے پر سخت پابندیوں، اور حرم کے ڈائریکٹر کی 8 روز کی غیر قانونی حراست کے بعددی گئی ہے۔
محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر اور الحرم الابراہیمی کے نگران منجد زید الجعبری نے بتایا کہ قابض اسرائیلی حکام نے 21 جون سے سلب شدہ حصے میں اذان کے کمرے اور میناروں سے اذان پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کے لیے صحنِ حرم کی چھت کی مرمت کا من گھڑت بہانہ تراشا گیا ہے۔
جعبری نے وضاحت کی کہ اسرائیلی فورسز نے 7 اکتوبر سے مسجد کے تمام انتظامی امور پر مکمل قبضہ جما رکھا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اذان کو نشانہ بنانے کے سلسلہ وار عمل کا آغاز 1994ء میں الحرم الابراہیمی کے المناک سانحے کے بعد سے ہوا تھا، جب پہلی بار مغرب کی اذان پر پابندی لگائی گئی تھی، جس کے بعد مسلسل پابندیوں کے احکامات جاری ہوتے رہے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان جابرانہ اقدامات کا مقصد ابراہیمی مسجد کو نمازیوں اور مذہبی عملے سے خالی کروانا ہے تاکہ اس کے اسلامک تشخص کو مسخ کر کے مکمل قبضہ جمایا جا سکے۔ جعبری نے واضح کیا کہ ابراہیمی مسجد خالصتاً مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے" اور اس کے مختلف حصوں پراسرائیلی قبضہ کوئی جواز نہیں رکھتا۔
باب السوق کی بندش اور انتظامی عملے کی گرفتاری
منجد الجعبری نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فورسز نے ابراہیمی مسجد کے ڈائریکٹر کو 8 دن کی حراست کے بعد رہا کر دیا ہے۔ ان دونوں ذمہ داران کو 8 اکتوبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ دوسرے حصے میں واقع مقبروں کی روایتی صفائی اور دیکھ بھال انجام دے رہے تھے۔ بعد میں انہیں کسی بھی باضابطہ الزام کے بغیر بذریعہ ڈاک بھاری مچلکے جمع کروانے پر رہا کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسرائیلی پابندیوں میں "باب السوق" کی بندش بھی شامل ہے، جوابراہیمی مسجد تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔ اس راستے کو روزانہ کئی گھنٹوں کے لیے نمازی اور اوقاف کے عملے کے لیے بند کر دیا جاتا ہے، اور اسے رابطہ کمیٹی کی مداخلت کے بعد ہی دوبارہ کھولا جاتا ہے۔
محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر نے مقامی باشندوں اور بین الاقوامی اداروں سے اپریل کی ہے کہ وہ ابراہیمی مسجد میں اپنی موجودگی، رباط اور آمدورفت کو بڑھائیں، جبکہ عالمی حقوقِ انسان کی تنظیموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ابراہیمی مسجد کے مذہبی، تاریخی اور اسلامی تشخص کا تحفظ کیا جا سکے۔