برطانوی فیصلہ ناکافی؛ مکمل فوجی و اقتصادی بائیکاٹ کا مطالبہ" بائیکات تحریک (BDS) کے بانی عمر البرغوثی

لندن / بین الاقوامی ڈیسک (میڈیا رپورٹس):
فلسطینیوں پر مظالم اور غیر قانونی قبضہ ختم کروانے کے لیے کام کرنے والی عالمی تحریک "بی ڈی ایس" (Boycott, Divestment, Sanctions) کے شریک بانی عمر البرغوثی نے برطانیہ کی جانب سے ناجائز اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کو "غیر عملی اور محض نمائش" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں عمر البرغوثی نے کہا کہ برطانیہ کا یہ فیصلہ بین الاقوامی برادری اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کے فیصلے کے تحت اس کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتا۔
علامتی اقدامات پر تحفظات اور تجزیہ:
عمر البرغوثی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی معیشت ایک یونٹ کی طرح کام کرتی ہے، جس میں مقبوضہ بستیوں کی مصنوعات اور خود اسرائیل کے اندر تیار ہونے والی اشیاء میں فرق کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔
بی ڈی ایس کے مطالبات کیا ہیں؟
انوسٹمنٹ نکالی جائے: انہوں نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ صرف چند اشیاء پر پابندی لگانے کے بجائے ان تمام بین الاقوامی کمپنیوں کو سرکاری ٹھیکوں سے محروم کرے جو مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
عسکری و تعلیمی بائیکاٹ: انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کے خلاف مکمل عسکری و دفاعی پابندیاں (Military Embargo) عائد کی جائیں اور تمام تر تجارتی، تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو اس وقت تک معطل کیا جائے جب تک وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کرتا۔
عالمی تعاون کا تنقید کے ساتھ جائزہ:بی ڈی ایس رہنما نے امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی جیسی مغربی طاقتوں پر سخت تنقید کی کہ وہ ایک طرف علامتی پابندیوں کا مظاہرہ کرتی ہیں جبکہ دوسری طرف اسرائیل کو انٹیلی جنس معلومات، اسلحہ، سفارتی تحفظ اور تجارتی مراعات کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں، جو کہ ان کے بقول انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی میں براہِ راست شراکت داری ہے۔
بی ڈی ایس تحریک کی کامیابیاں:
انٹرویو کے دوران البرغوثی نے تحریکی پیش رفت کے درج ذیل اہم نکات پیش کیے:
- عالمی وسعت: تحریک اس وقت دنیا کے 120 سے زائد ممالک میں فعال ہے اور اس کے دباؤ کے باعث کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو عرب و یورپی مارکیٹوں سے اربوں ڈالر کے نقصان کے بعد اسرائیل سے سمیٹنا پڑا۔
- کامیاب اقدامات: ملائشیا کی جانب سے 2023 میں اسرائیلی جہازوں کی لنگراندازی پر پابندی، اور اسپین کی طرف سے فوجی سامان کی تجارت کی بندش اس دباؤ کا نتیجہ ہے۔
- ثقافتی و تعلیمی بائیکاٹ: نیدرلینڈز اور بیلجیم کے 750 سے زائد ثقافتی اداروں اور 5,500 سے زائد فنکاروں، سنیمائی شخصیات، مختلف ٹریڈ یونینز اور بہت سے چرچ بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات توڑ چکے ہیں۔
عمر البرغوثی نے زور دے کر کہا کہ تحریک کے تین بنیادی مطالبات—یعنی 1967 کے قبضے کا خاتمہ، نسلی پرست نظام (Apartheid) کا اختتام، اور فلسطینی مہاجرین کے واپسی کے حق —پر تمام فلسطینیوں کا مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔