آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

بن گویر: ہم غزہ اور مغربی کنارے کو خالی کروا دیں گے اور طاقت کے ذریعے دنیا کو اپنے احترام پر مجبور کریں گے

ایتمار بن گویر نے جمعرات کے روز امریکی مجلے "ٹائم" (Time) کو دیے گئے اپنے بیانات میں مغربی کنارے اور غزہ دونوں کو فلسطینیوں سے خالی کرنے کا عزم دہرایا ہے۔ یہ بیانات متوقع انتخابات سے ایک ہفتے سے بھی کم وقت پہلے سامنے آئے ہیں، جن کے بعد انتہاپسند وزیر بن گویر قومی سلامتی کے وزیر کے عہدے سے سیکیورٹی اور دفاعی امور کی وزارت کے عہدے پر 'ترقی' پانے کی خواہش رکھتا ہے۔

ایتمار بن گویر نے کہا: "ہم نے اسرائیل کو مضبوط بنایا ہے۔ جب اسرائیل مضبوط ہوتا ہے تو دنیا اس کا احترام کرتی ہے۔ اسرائیل صرف اس وقت تنہا ہوتا ہے جب وہ کمزور ہو۔" انہوں نے مزید کہا: "اگر اسرائیل باقی رہنا چاہتا ہے اور تباہ نہیں ہونا چاہتا، تو ہمیں پورے غزہ پر کنٹرول حاصل کرنا ہوگا اور رضاکارانہ ہجرت کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔"

انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا: "غزہ ہمیشہ سے ہمارا رہا ہے۔ اسرائیل ایک بہت چھوٹا ملک ہے، ہمیں وسعت اختیار کرنی ہوگی اور اپنی زمین کو بڑا کرنا ہوگا۔"

مغربی کنارے کے حوالے سے بن گویر نے فلسطینی اتھارٹی کو نہتا کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اریحا (Jericho) میں فلسطینی سیکیورٹی اہلکاروں کی تربیت ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے نہیں، بلکہ 7 اکتوبر جیسے ایک اور حملے کی تیاری کے لیے کی جا رہی تھی۔

بن گویر نے زور دے کر کہا کہ وہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور اس پر اسرائیلی کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا: "ہم رضاکارانہ ہجرت چاہتے ہیں، کسی کی زبردستی بے دخلی نہیں۔ لوگ خود جانے کے اختیار کو منتخب کریں گے۔"

حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور شخصیات کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اختیار کی جانے والی پالیسیاں—خصوصاً غزہ میں بھوک کو ہتھیار بنانا، بازآبادکاری کو روکنا، معیشت کو تباہ کرنا، آبادکاروں کے مسلح گروہوں کو چھوٹ دینا، اور مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضہ کرنا—ظاہر ہے یہ سب فلسطینیوں کے لیے ایک استعماری ماحول پیدا کرتی ہیں۔ یہ صورتحال رضاکارانہ ہجرت کے دعوے کی نفی کرتی ہے اور زبردستی بیدخلی کے عمل کی تصدیق کرتی ہے۔

بن گویر نے کہا: "ماضی میں میرا خیال تھا کہ ہمیں اسرائیل کی سرزمین سے تمام عربوں کو نکال دینا چاہیے۔ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے کچھ رہ سکتے ہیں۔ مجھے ان عربوں کی موجودگی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے جو اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور اس سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔"

الاقصی مسجد میں موجودہ کیفیات اور حالات کی خلاف ورزی کرنے اور آبادکاروں کو اس کے اندر علانیہ عبادت کی اجازت دینے سے متعلق بن گویر نے کہا: "وہاں کی صورتحال نسل پرستانہ ہو چکی تھی کیونکہ یہودیوں کو عبادت کی اجازت نہیں تھی۔ کسی بھی عام ملک میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ میں نے ٹیمپل ماؤنٹ (حرم الشریف) پر انصاف بحال کیا ہے۔"

حالیہ دنوں میں بن گویر نے نئی حکومت میں وزارتِ دفاع کا پورٹ فولیو باضابطہ طور پر مانگا تھا، لیکن نیتن یاہو نے یہ کہہ کر جواب دیا کہ یہ پورٹ فولیو اور حتیٰ کہ قومی سلامتی کی وہ وزارت بھی جو بن گویر کے پاس ہے لیکوڈ پارٹی کے پاس ہی رہے گی۔ جس کے بعد بن گویر نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے یورپی ممالک سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں آئندہ کسی حکومت میں شامل نہیں کریں گے۔

اس کے باوجود بن گویر نے زور دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو ہی وزیراعظم بنیں اور وہ انہیں گیڈی آئزنکوٹ (Gadi Eisenkot) پر "لاکھ گنا" فوقیت دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: "جو چیز واقعی نیتن یاہو کو مکمل دائیں بازو کے موقف پر قائم رہنے میں مدد دے گی، وہ یہ ہے کہ میں (بن گویر) ایک سینئر وزیر بنوں اور حکومت مکمل طور پر دائیں بازو کی ہو“

نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے درمیان ممکنہ قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہونے کے بارے میں بن گویر نے انکار کرتے ہوئے کہا: "ایسی حکومتیں کبھی اچھی نہیں ہوتیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک وقت میں دو شادیوں میں ناچنا۔ اور اس کے علاوہ، یہ میرے خوابوں کو بھی پورا نہیں کرے گی۔"

ٹائمز مجلے نے نوٹ کیا کہ بن گویر ان خدشات کو رد کرتے ہیں کہ بیدخلی، الحاق اور بھوک سے مجبور کرنے کی پالیسیاں اسرائیل کو دنیا میں تنہا یا ناپسندیدہ ریاست بنا دیں گی۔ انہوں نے کہا: "ہم نے اسرائیل کو مضبوط بنایا ہے، اور جب اسرائیل مضبوط ہوتا ہے تو دنیا اس کا احترام کرتی ہے۔ اسرائیل تبھی الگ تھلگ ہوتا ہے جب وہ کمزور ہوتا ہے۔"

سورس: الٹرا فلسطین