غزہ میں آٹے کی شدید قلت امداد میں کمی: قحط کا خطرہ بڑھ گیا

غزہ: محصور غزہ کی پٹی پر عائد پابندیوں، تجارتی گزرگاہوں کی بندش اور اقوام متحدہ کی امداد میں یکدم بڑی کٹوتی کے باعث روٹی اور اشیائے خوردونوش کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کے بعد لاکھوں بے گھر شہریوں کے سر پر ایک بار پھر بدترین قحط کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔
بیکریوں کی بندش اور آٹے کی ترسیل پر قدغن:
غزہ میں بیکرز ایسوسی ایشن کے مطابق، اسرائیلی حکام کی جانب سے کراسنگز کی مسلسل بندش کی وجہ سے آٹے کی سپلائی مکمل معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ 5 روزہ تعطل کے بعد کراسنگز جزوی کھولی بھی گئیں تو آٹے سے لدے ٹرکوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے بیکریوں کے محدود ذخائر ختم ہو گئے۔ آٹے کی عدم دستیابی کے باعث اب تک مختلف علاقوں میں 11 بیکریاں مکمل بند ہو چکی ہیں جبکہ مزید 7 بیکریاں بندش کے دہانے پر ہیں۔
ایسوسی ایشن نے قحط سے نمٹنے کے لیے ماہانہ 7,500 ٹن آٹا منگوانے کی اجازت مانگی تھی، لیکن کراسنگز بند ہونے کی وجہ سے ایک بوری بھی اندر نہ پہنچ سکی۔
امدادی راشن میں 45 فیصد کٹوتی:
یہ بحران ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے فنڈز کی قلت کا جواز بنا کر امداد میں غیر معمولی کٹوتی کر دی ہے۔ اکتوبر کے آغاز سے ہی رعایتی بیکریوں کے آٹے کے کوٹے میں 45 فیصد کمی کر دی گئی، جبکہ ستمبر میں 16 لاکھ افراد کو ملنے والا راشن اکتوبر میں گھٹا کر 11 لاکھ کر دیا گیا، جس سے 5 لاکھ ضرورت مند خوراک سے یکسر محروم ہو گئے۔
اس کے علاوہ فی خاندان غذائی پیکٹس دو سے کم کر کے ایک کر دیا گیا ہے، اور روزانہ تقسیم ہونے والے گرم کھانے 2 لاکھ 50 ہزار سے کم کر کے ڈیڑھ لاکھ کر دیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے (OCHA) کے اعداد و شمار کے مطابق، روزانہ سستی روٹیوں کی پیداوار 1 لاکھ 70 ہزار سے گر کر صرف ایک لاکھ رہ گئی ہے، جو محصور آبادی کی مجموعی ضروریات کے بمشکل 34 فیصد حصے کو پورا کر پاتی ہے۔
اوپن مارکیٹ میں مہنگائی:
سستی اور امدادی روٹی نہ ملنے کے باعث شہری کھلے بازار کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جہاں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مارکیٹ میں اشیاء کی صورتحال کچھ یوں ہے:
- سفید آٹے کا 25 کلو کا تھیلا 70 شیکل سے بڑھ کر 150 شیکل (تقریباً 48 ڈالر) تک پہنچ چکا ہے۔
- عام مارکیٹ میں روٹی کی قیمت 9 شیکل (تقریباً 3 ڈالر) فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔
- انڈوں کی ٹرے 28 شیکل سے بڑھ کر 55 شیکل اور چینی 4 سے 7 شیکل فی کلو ہو چکی ہے۔
- سبزیوں کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جہاں پیاز 4 سے بڑھ کر 15 شیکل، آلو 5 سے 22 شیکل، جبکہ ٹماٹر 8 سے 25 شیکل فی کلو تک جا پہنچے ہیں۔
خیمہ بستیوں کے دلخراش احوال:
عارضی خیموں میں موسم کے رحم و کرم پر پڑے 18 لاکھ بے گھر افراد اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بدحال کیمپوں میں مقیم کینسر، بلڈ پریشر اور شوگر کے دائمی مریض فاقہ کشی کے باعث زندگی کی بازی ہارنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے سالوں کے اس بھیانک دور کی طرف واپس دھکیلے جا رہے ہیں جب لوگ دن بھر میں صرف ایک وقت ابلی ہوئی دال یا سوپ پر گزارا کرتے تھے اور آٹے کے حصول کے لیے چیک پوسٹوں پر گولیاں کھاتے تھے۔
یونیسیف اور عالمی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خوراک کی فوری فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو غذائی قلت سے نمٹنے کی تمام کوششیں دم توڑ جائیں گی اور غزہ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر انسانی المیے اور اموات کا شکار ہو جائے گا۔