آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

سیز فائر خلاف ورزیوں کے دوران ہتھیار نہیں چھوڑیں گے: حماس

لاہور (اوپ واچ رپورٹ)

مجلسِ سلام نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ حماس کے ساتھ اس کا اسلحہ غیر مسلح کرنے کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اخبار 'ہارٹز' (Haaretz) نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی حکام غزہ میں پیس کونسل کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور انہوں نے اس بارے میں واشنگٹن کو آگاہ کر دیا ہے۔ جبکہ جمعہ کی شام 'ٹائمز آف اسرائیل' (Times of Israel) نے بتایا کہ حماس نے ثالثوں کو مطلع کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی عسکری کارروائیوں کے پیشِ نظر وہ اپنا اسلحہ حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

غزہ میں وقفہِ جنگ سیز فائر معاہدے کے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے اسرائیلی اخبار نے نقل کیا ہے کہ امریکی مبعوث جیرڈ کُشنر (Jared Kushner) کی اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو سے ملاقات کے بعد مایوس ہے ، فی الحال اسرائیلی حملے نہ رکنے کی صورت میں امداد روکنے کی دھمکی میں تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

ایک سفارت کار کے مطابق—جس کا نام 'ٹائمز آف اسرائیل' نے ظاہر نہیں کیا امریکہ نے پیس کونسل کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی دوبارہ کوششیں شروع کرنے سے پہلے، اگلے اکتوبر کے آخر میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات کے بعد تک انتظار کرنے کے خیال کو تسلیم کر لیا ہے۔

جبکہ دوسری طرف اخبار نے ایک باخبر ذریعہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پیس کونسل کی کوششوں کو اسرائیلی انتخابات کے بعد تک ملتوی کرنے کی کوئی باضابطہ ہدایات موجود نہیں ہیں۔

اسرائیلی انکار

دوسری جانب، اخبار 'ہارٹز' نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکام اور غزہ امن کونسل کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے، کیونکہ اسرائیلی فوجی و شہری قیادت نے کونسل کے ساتھ تعاون سے انکار کر دیا ہے اور واشنگٹن کو مطلع کیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے انہیں "تنہا چھوڑ دیا" ہے۔ ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کا بھی یہی خیال ہے۔اخبار نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان تعلقات "خراب" ہو چکے ہیں اور ان کے درمیان پہلے سے موجود اچھے تعلقات کا اب بہت کم حصہ باقی بچا ہے، جس کی وجہ غزہ کے انتظام پر اندرونی اختلافات ہیں۔

ذرائع کے مطابق، شاباک (Shin Bet) کے سربراہ ڈیوڈ زینی اورقابض ملٹری انٹیلی جنس (آمان) کے سربراہ شلومی بائنڈر نے کُشنر، ملادینوف اور ٹونی بلیئر کے سامنے ایسی معلومات پیش کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس اپنا اسلحہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، اور ساتھ ہی یہ الزامات بھی لگائے کہ ترکی نے تحریک سے مالی معاونت کی ہے۔

ہارٹز نے ایک باخبر ذریعہ کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے کہ پیس کونسل کے نزدیک اسرائیلی حکام کا اس کے ساتھ تعاون سے انکار انتخابات کے قریب آنے سے مربوط ہے، اور اسے اعلیٰ ترین سطح یعنی نتن یاہو کی حمایت حاصل ہے۔امن کونسل کے نمائندے، نکولائی ملادینوف نے گزشتہ ماہ کے آخر میں الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ غزہ کی پٹی کے بارے میں امریکی منصوبے کی ناکامی پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف لے جائے گی، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اس پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ دوبارہ جنگ کی صورت میں ہو گا جس کے غزہ، اسرائیل اور خطے پر اثرات شدید ہوں گے۔

ملادینوف نے کہا تھا کہ غزہ کے کچھ حصوں پر اسرائیلی کنٹرول برقرار رہے اور دیگر حصوں میں آبادی کا اژدھام ہو—ایسی حالت میں غزہ کو چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ یا تویہ آئندہ فلسطینی ریاست کے نقشے سے غائب ہوجائے گا یا پھر ایسی شدید جنگ ہو گی جس سے بچنا مشکل ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ جولائی کے مہینے میں اعلان کیا تھا کہ 'مجلسِ سلام' نے حماس کے ساتھ اس کے اسلحہ کی دستبرداری کے حوالے سے ایک معاہدہ طے کر لیا ہے، جس میں اس معاہدے کے تحت اسرائیل کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا تھا، اور جس نے اسرائیلی حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔