آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

اسرائیل میں فوج سے فرار ہونے والوں کی تعداد 1 لاکھ 10 ہزار تک پہنچ گئی، جن میں 80 فیصد کا تعلق حریدی طبقے سے ہے

القدس

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے 'کان 11کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل میں لازمی فوجی خدمات سے گریز کرنے یا فرار ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر تقریباً 1 لاکھ 10 ہزار ہو گئی ہے، جن میں سے تقریباً 80 فیصد کا تعلق حریدی (تلمودی مذہبی) طبقے سے ہے۔ یاد رہے کہ سال 2026ء کے آغاز میں ایسے افراد کی تعداد تقریباً 75 ہزار تھی۔

نشریاتی ادارے کے مطابق، یہ بحران اس وقت مزید سنگین ہو چکا ہے جب گرفتاری کے احکامات پر عمل درآمد میں شدید تعطل پایا جا رہا ہے، دینی درسگاہوں کے طلباء کو فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کے معاملے پر تنازعہ عروج پر ہے اور قابض فوج کی جانب سے افرادی قوت کی شدید کمی کی وارننگز جاری کی جا رہی ہیں۔

قانون پر عمل درآمد میں رکاوٹیں اور محدود گرفتاریاں

سپریم کورٹ کی جانب سے قانون پر سختی سے عمل درآمد اور گریز کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کے فیصلوں کے باوجود، عملی اقدامات اب بھی انتہائی محدود ہیں۔ نشریاتی ادارے کے مطابق، رواں ماہ طے شدہ ایک مشترکہ کارروائی اس لیے منسوخ کر دی گئی کیونکہ پولیس اور فوج کے درمیان سکیورٹی اہلکاروں کی فراہمی پر اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔

موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، گرفتاریاں صرف محدود اور مخصوص کیسز تک ہی محدود رہی ہیں؛ جن میں بن گوریون ایئرپورٹ پر حراست میں لیے جانے والے افراد، اور مختلف چھاپوں کے دوران 14 حریدی اور 13 غیر حریدی افراد کی گرفتاریاں شامل ہیں۔

دوسری جانب، حریدی طبقے کی جانب سے دینی طلباء کی جبری بھرتی اور مفرور افراد کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ یہ تمام کشیدگی اس قانونی خلاء کے باعث ہے جہاں ایک طرف حریدی جماعتیں مکمل استثنیٰ کا مطالبہ کر رہی ہیں، تو دوسری طرف عسکری ادارے فوجیوں کی کمی کا رونا رو رہے ہیں۔

معاشی مراعات معطل کرنے میں حکومتی تاخیر

اس تنازعات کے دوران اسرائیلی حکومت نے فرار ہونے والے ان افراد کے خلاف پراپرٹی ٹیکس میں رعایت اور ترانسورٹ سبسڈی ختم کرنے سے متعلق فیصلے کو بدستور لٹکایا ہوا ہے۔

یہ تاخیر اپریل میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے باوجود ہو رہی ہے جس میں حکومت کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ان مراعات کو ختم کرنے کے امکانات پر غور کرے۔ حکومتی وزراء - بشمول وزیرِ نقل و حمل مری ریگیو اور وزیرِ مالیات بیزلئیل سموٹریچ کی جانب سے تکنیکی رپورٹس موجود ہونے کے باوجود تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اسی طرح پراپرٹی ٹیکس میں چھوٹ کے خاتمے کو اس بہانے روکا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ کا باقاعدہ وزیر موجود نہیں ہے، حالانکہ وزیراعظم بنیامین نتنياهو خود اس وزارت کے اختیارات سنبھالے ہوئے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ معاشی مراعات کا یہ خاتمہ نوجوان حریدیوں کو فوج میں بھرتی ہونے پر مجبور کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہے، تاہم سیاسی مصلحتیں اور اندرونی اختلافات اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔