اسرائیل انتخابات: مقبوضہ مغربی کنارے میں مارشل لاء قائم کرنے کے ممنکہ آپشن

مقبوضہ بیت المقدس / رام اللہ (بین الاقوامی مانیٹرنگ ڈیسک)
مقبوضہ مغربی کنارے کو ایک مارشل لاء کے طریقے پر لایا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2026 میں متوقع اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیست) انتخابات کے تناظر میں اسرائیلی دائیں بازو کے دباؤ کے تحت مغربی کنارے پر کنٹرول کے نظام کو یکسر تبدیل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
ویسے تو 1967 سے اب تک حقیقت میں قابض حکومت ایک فوجی حکومت ہی ہے لیکن 1996 کے 'اوسلو معاہدے' کے تحت معمولی سے اختیارات فلسطینی اتھارٹی کو دیے گئے تھے۔
طوفان الاقصی کے بعد اس وقت مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی تقریباً 26 بٹالینز کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی دستوں میں شامل ہزاروں صہیونی آبادکار موجود ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ اوسلو معاہدے سے قبل کے سخت فوجی کرفیو، مکمل ناکہ بندیوں اور آمدورفت پر کڑی پابندیوں والے ماحول کی واپسی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آئندہ ممکنہ سیناریو کیا ہیں؟
رپورٹ میں عبرانی میڈیا اور تجزیاتی حلقوں کے حوالوں سے انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت آئندہ انتخابات سے قبل مغربی کنارے میں پانچ میں سے کوئی آپشن ایک اختیار کر سکتی ہے:
غیر اعلانیہ فوجی حکومت:
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ "زمان یسرائیل" (Zman Yisrael) کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ امکان یہ ہے کہ اوسلو معاہدے کو ختم کرنے کا سیاسی اعلان کیے بغیر زمین پر اختیارات فوج کو دیتے چلے جائیں۔ اس کے تحت فلسطینی علاقوں میں چھاپوں، نئی فوجی چوکیوں، بلڈوزنگ اور آمدورفت و تعمیرات پر سخت پابندیوں کے ذریعے فوجی کنٹرول نافذ کیا جائے گا۔
قابض ریاست کی وزارتوں کو اختیار فرام کرنا:
اسرائیلی اخبار "ہارٹز" (Haaretz) کی رپورٹ کے مطابق، حکومت مغربی کنارے کے انتظامی و سیکیورٹی اختیارات فوج کے بجائے براہِ راست اسرائیلی وزارتوں کو منتقل کر رہی ہے۔ یوں اب تک جو ظلم فوج کے ہاتھوں ہوتا تھا اب وہ اختیار اب قابض ریاست کے ادارے پریکٹس کریں گے گویا مغربی کنارہ اسرائیل کا باقاعدہ حصہ ہے۔
ایریا 'بی' (Area B) میں کنٹرول کی توسیع:
اسرائیلی امن تنظیم "پیس ناؤ" (Peace Now) کے تخمینے کے مطابق، اوسلو معاہدے کے تحت سویلین لحاظ سے فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام 'ایریا بی' پر اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے کنٹرول بڑھایا جا سکتا ہے، جس سے اس زون کی باقاعدہ حیثیت بدلے بغیر فلسطینی اتھارٹی کا دائرہ اختیار غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گا۔
شمالی مغربی کنارے میں مستقل فوجی ڈھانچہ:
اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" (Yedioth Ahronoth) کے مطابق، فوج سیکیورٹی خطرات کا جواز بنا کر جنین اور طولکرم سمیت شمالی مغربی کنارے میں اپنی مستقل انسٹالیشنز اور چیک پوسٹوں میں غیر معمولی اضافہ کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں عارضی کارروائیاں ایک مستقل فوجی بندوبست میں تبدیل ہو رہی ہیں۔
باقاعدہ قانونی و سیاسی الحاق کا سخت ترین قدم:
اسرائیلی نیوز پورٹل "سیحا میکومیت" (Local Call / Sichah Mekomit) کے مطابق، سب سے خطرناک اور متنازع منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی ردعمل کی پروا کیے بغیر چند مخصوص علاقوں یا معاملات پر اپنی سویلین خود مختاری کا باضابطہ اعلان کر دے، جو عملاً مقبوضہ علاقوں کو ضم کرنے کے مترادف ہوگا۔
سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا نقطہ نظر
عبرانی امور کے محقق اور سیاسی تجزیہ کار 'الطيب غنايم':
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ آبادکاری اب کوئی ذیلی معاملہ نہیں رہا بلکہ اسرائیلی پالیسی سازی کا بنیادی محور بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICC) کو مطلوب وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کا دارومدار انتہا پسند دائیں بازو پر ہے، جو مغربی کنارے کو ضم کر کے نام نہاد "یہودا پروجیکٹ" کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ غنایم کے مطابق، اسرائیل میں 7 اکتوبر کے بعد انتہا پسندی کا رجحان مزید گہرا ہوا ہے، اور انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے مغربی کنارے کو ایک سیکیورٹی کارڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
تحقیقی اسکالر اور تجزیہ کار 'ساحر غزاوی':
ساحر غزاوی کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی فوجی کنٹرول کی واپسی کسی ایک دن کے باضابطہ اعلان سے نہیں، بلکہ روزمرہ کے انتظامی اور فوجی اقدامات کے ذریعے تدریجی طور پر مسلط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سب سے سنگین پہلو فلسطینی اتھارٹی کو مکمل طور پر بے بس کر دینا ہے۔ اگر اتھارٹی کی سویلین صلاحیتیں ماند پڑ گئیں تو اسرائیل سیکیورٹی خلا کا بہانہ بنا کر مغربی کنارے کو مکمل اور براہِ راست اپنے سویلین و ملٹری شکنجے میں لے لے گا، جس سے فلسطینی ریاست کا تصور عملی سطح پر ختم ہو جائے گا۔