اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ مغربی کنارے میں صورتحال پر کنٹرول کھو چکی ہے :عبرانی میڈیا

مقبوضہ مغربی کنارے میں سیکیورٹی کی صورتحال مکمل طور پر بگڑ چکی ہے اور اسرائیلی فوج، داخلی سیکیورٹی ایجنسی ’شن بیٹ‘ اور پولیس وہاں امن و امان قائم رکھنے میں مکمل طور پر بے بس ہو چکے ہیں۔ یہ انکشاف اسرائیلی اخبار ’ہآرٹز‘ نے اپنے عسکری و سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ سیکیورٹی اہلکار نے اعتراف کیا ہے کہ زمین پر حالات اب کسی کے قابو میں نہیں رہے، اور "جو شخص بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ صورتحال کنٹرول میں ہے، وہ درحقیقت سفید جھوٹ بول رہا ہے۔" سیکیورٹی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے انتخابات کے بعد آبادکاروں کے پرتشدد حملوں میں مزید ہولناک اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر حکومت میں کسی بھی تبدیلی کو قبول کرنے کے بجائے پرتشدد کارروائیوں اور غیر قانونی چوکیوں کے قیام میں تیزی لائیں گے۔
اقوام متحدہ کا فوری عملی اقدامات پر زور:
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے عالمی برادری اور بین الاقوامی ڈونرز پر زور دیا ہے کہ وہ محض مذمتی بیانات کے بجائے فلسطینی علاقوں کے تحفظ کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔ نیویارک میں پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے نشاندہی کی کہ نقل و حرکت پر عائد سخت پابندیوں کے سبب ہزاروں فلسطینی کسان زیتون کی فصل کی چنائی سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ انتہا پسند آبادکار ان کی زرعی اراضی پر قابض ہونے کے لیے آئے روز پرتشدد حملے کر رہے ہیں۔
12 گھنٹوں میں 23 پرتشدد حملے:
زمین پر پیش رفت کا جائزہ لینے والے فلسطینی ادارے 'وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن' کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، بدھ کے روز محض 12 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے 7 اضلاع میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی جانب سے 23 سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔
کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ان کارروائیوں میں:
- نابلس: 10 حملے
- رام اللہ اور البیرہ: 6 حملے
- سلفیت اور الخلیل: 2، 2 حملے
- قلقلیہ، جنین اور بیت لحم: ایک، ایک حملہ درج کیا گیا۔
ان خلاف ورزیوں میں فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ، بدترین تشدد، غیر قانونی گرفتاریاں، زیتون کی چنائی میں رکاوٹیں ڈالنے، فصلیں اور زرعی آلات لوٹنے سمیت باغات کو نذرِ آتش کرنا اور بلڈوزروں سے تباہ کرنا شامل ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر سے شروع ہونے والا زیتون کا سیزن ہزاروں فلسطینی خاندانوں کا واحد ذریعہ معاش ہے، جس کے دوران آبادکاروں کی دراندازی خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔
بین الاقوامی قوانین کی کھلی پامالی:
فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ یہودی آبادکار 194 بستیوں اور تقریباً 400 غیر قانونی چوکیوں (آؤٹ پوسٹس) میں مقیم ہیں۔ بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں کے تحت مقبوضہ علاقوں میں قائم یہ تمام بستیاں سرے سے غیر قانونی ہیں۔
انسانی حقوق کی ملکی و بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیلی حکام کو ان حملوں کا مساوی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسندوں کو ریاستی پشت پناہی حاصل ہے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے، جس کے باعث فلسطینی شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔