اٹلی کی کمپنی مقبوضہ القدس میں اسرائیلی 'کیبل کار' (تلفريك) منصوبے سے الگ ہو گئی

القدس
اطالیہ (اٹلی) کی ایک ممتاز انجینئرنگ کمپنی نے مقبوضہ القدس کی اولڈ سٹی (البلدۃ القدیمۃ) کے ارد گرد اسرائیل کی جانب سے زیرِ منصوبہ متنازع 'کیبل کار' (تلفريك) پروجیکٹ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اس غیر قانونی سیٹلمنٹ پروجیکٹ سے دستبردار ہونے والی بین الاقوامی کمپنیوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اس منصوبے کو سلوان کے علاقے میں اس کے سیاسی، تاریخی اور جغرافیائی اثرات کے باعث شدید عالمی مخالفت کا سامنا ہے۔
اسرائیلی اخبار 'ہاآرتس' کے مطابق، قابض حکومت کے تحت کام کرنے والی 'یروشلم ڈویلپمنٹ اتھارٹی' نے کیبل کار پروجیکٹس کی منصوبہ بندی میں مہارت رکھنے والی اطالوی انجینئرنگ کنسلٹنسی کمپنی Engineering Ropeway ROPES سے معاہدے کا اعلان کیا تھا، تاہم کمپنی نے اطالوی میڈیا کے سامنے منصوبے سے مکمل علیحدگی کی تصدیق کر دی ہے۔
تقریباً ایک ماہ قبل یروشلم ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ٹینڈر کمیٹی نے اس کمپنی کے ساتھ بغیر ٹینڈر معاہدے کی منظوری کا اشتہار جاری کیا تھا، جس کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ اسرائیل کے اندر کوئی بھی مقامی ادارہ اس کیبل کار پروجیکٹ کے لیے مطلوبہ انجینئرنگ خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
اطالوی اخبار 'لا ریپبلیکا' (La Repubblica) سے گفتگو کرتے ہوئے کمپنی کے مالک نے بتایا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر اسرائیلی اتھارٹی کو مشاورتی خدمات فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، لیکن بعد میں اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ انہوں نے واضح کیا: "اب ہم اس منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔" دریں اثنا، کمپنی کے جنرل ڈائریکٹر نے ایک اور اطالوی اخبار 'ال فاٹو کوٹیڈیانو' (Il Fatto Quotidiano) کو بتایا کہ انخلا کا سبب کام کی کثرت ہے، تاہم انہوں نے کسی سیاسی وجہ کا ذکر نہیں کیا۔