غزہ میں طبی صورتحال انتہائی ابتر: 50 فیصد سے زائد ادویات ختم، 28 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کا نتیجہ

غزہ کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے علاقے میں صحت اور ماحولیات کی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہسپتالوں میں 53 فیصد ادویات کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے ادویات، طبی سامان اور ایندھن کی فراہمی پر پابندی کی وجہ سے ہسپتال مفلوج ہو رہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ غزہ میں پھیلنے والی 28 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے ہیں، کیونکہ پناہ گزین کیمپوں میں پینے کے پانی میں سیوریج کا پانی شامل ہو رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بیرونِ ملک علاج کی سرکاری منظوری رکھنے والے 1500 سے زائد مریض بارڈر کھلنے کے انتظار میں دم توڑ چکے ہیں۔ انہوں نے اسے ایک عظیم انسانی المیہ (Tragedy) قرار دیا۔
سورس: وزارتِ صحت غزہ