اوپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

سبتہ بحران: اسرائیل کی مداخلت اور نوآبادیاتی تاریخ کا سہارا

سبتہ شہر (ceuta-spain) میں تارکینِ وطن کی آمد سے شروع ہونے والا بحران اب بین الاقوامی صورت اختیار کر گیا ہے۔ چند ہی دنوں کے اندر 49 ہزار سے زائد مراکشی شہری سرحد پار کر کے داخل ہوئے، جس کا فائدہ انتہائی دائیں بازو کے قوم پرستوں، اسرائیل اور وائٹ ہاؤس نے اٹھاتے ہوئے میڈرڈ میں پیڈرو سانچیز کی حکومت کو قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کی۔

اسرائیل بھی اس بحران میں کود پڑا ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے ہسپانوی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ ہسپانوی اخبار "اوکے ڈیاریو" کے مطابق اسرائیلی سفیر نے نہ صرف موجودہ بحران پر بات کی، بلکہ یہ مطالبہ بھی کر ڈالا کہ اسپین واضح کرے کہ وہ افریقہ میں سبتہ اور ملیلیہ جیسے نوآبادیاتی علاقوں پر اب تک اپنا قبضہ کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیل کے اس موقف کو فلسطینی معاملے پر ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے سخت اور اصولی موقف کا ردِعمل مانا جا رہا ہے۔

سورس: القدس العربی