اسرائیل کی جانب سے 9 فلسطینی قیدیوں کی تشدد کے بعد رہائی

غزہ: اسرائیلی حکام نے نسل کشی کی جاری جنگ کے دوران حراست میں لیے گئے 9 فلسطینی قیدیوں کو بدھ کے روز رہا کر دیا۔ رہائی پانے والے فلسطینیوں نے دورانِ حراست شدید تشدد اور غیر انسانی سلوک کے دلخراش انکشافات کیے ہیں۔
ان نو فلسطینیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس (ICRC) کی ٹیموں نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں واقع ناصر میڈیکل کمپلیکس پہنچایا۔غزہ میں وزارتِ امورِ اسرا و محرارین نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے رہا کیے جانے والے یہ افراد کرم ابو سالم (کرم شالوم) گزرگاہ کے راستے غزہ پہنچے، جہاں سے ریڈ کراس کی گاڑیوں میں انہیں فوری طبی امداد کے لیے ناصر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
وزارت کے مطابق، رہا ہونے والے افراد کا تعلق غزہ کے مختلف علاقوں سے ہے:
- 5 افراد کا تعلق غزہ شہر سے ہے
- 1 کا تعلق شمالی غزہ کے علاقے جبالیا سے ہے
- 1 کا تعلق وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح سے ہے
- جبکہ 2 کا تعلق جنوبی علاقوں خان یونس اور رفح سے ہے
رہا ہونے والے قیدیوں نے اسرائیلی عقوبت خانوں میں روا رکھے جانے والے بدترین تشدد اور لرزہ خیز حالات کی تفصیلات بتائیں۔ فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اس وقت بھی اسرائیلی جیلوں میں تقریباً 9,350 فلسطینی مقید ہیں، جن میں 350 بچے اور 90 خواتین شامل ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو وحشیانہ تشدد، فاقہ کشی اور طبی لاپرواہی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث اب تک درجنوں قیدی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔