فرانسسکا البانیز: غزہ کا ملبہ ہٹانے کے دوران اسرائیلی جرائم کے شواہد مٹائے جانے کا خطرہ

(بین الاقوامی تخمینوں کے مطابق غزا میں تباہ شدہ عمارتوں سے نکلنے والے ملبے کا حجم تقریباً 6.8 کروڑ (68 ملین) ٹن ہے — فرانسیسی خبر رساں ایجنسی)
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرانسسکا البانیزی (Francesca Albanese) نے پیر کے روز مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کنٹرول والے علاقوں میں ملبہ ہٹانے کے نام پرجنگی جرائم کے نشانات مٹانے کو روکنا ہو گا۔ البانیزی نے ایک بیان میں کہا کہ غزا میں ملبہ ہٹانے، اسے کرش (پیسنے) کرنے اور منتقل کرنے کی کارروائیاں بین الاقوامی جرائم کے شواہد کی تباہی کا باعث نہیں بننی چاہئیں، اور نہ ہی یہ انسانوں کی باقیات کو نکالنے اور ان کی شناخت کرنے کی راہ میں رکاوٹ بننی چاہئیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں موجود ملبے کے نیچے انسانی باقیات اور ایسے مادی شواہد موجود ہیں جو بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کے الزامات کی تحقیقات کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ نے اپریل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں غزا میں تباہ یا متاثرہ عمارتوں کے ملبے کا حجم 6.8 کروڑ (68 ملین) ٹن تخمینہ لگایا تھا۔فلسطینی حکام کے حوالے سے البانیزی نے اشارہ کیا کہ 10,000 سے زائد افراد کے بارے میں یہ ماننا ہے کہ وہ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ پٹی کے تقریباً 70 فیصد رقبے تک رسائی پر پابندیاں عائد ہیں اور وہ مختلف درجے کے اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے۔
خصوصی رپورٹر نے یاد دلایا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) نے جنوری 2024ء میں اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ 'نسل کشی کے روکتھام کے کنونشن' کی خلاف ورزی کے الزامات سے متعلق شواہد کو ختم ہونے سے روکنے کے لیے تدابیر اختیار کرے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
جرم کا منظرنامہ (Crime Scene)
البانیزے نے کہا کہ اگست میں انہیں متعدد معتبر ذرائع سے معلومات موصول ہوئی تھیں، جن میں "ملبے کو دانستہ اور وسیع پیمانے پر ہٹانے، پیسنے (Crushing) اور منتقل کرنے کے آپریشن" شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تباہ شدہ غزہ کا ملبہ "جرم کا ایک منظرنامہ (Crime Scene) اور ایک قبرستان ہے، اور یہ دو سال سے جاری وحشیانہ اور فضول بمباری کی مہم کے دوران رونما ہونے والے واقعات کا فزیکل ثبوت ہے۔"
انہوں نے انسانی باقیات کو عزت و احترام کے ساتھ نکالنے، ان کی شناخت کرنے، مقامات اور مواد کو باقاعدہ دستاویز کرنے اور ملبہ ہٹانے یا تلف کرنے سے پہلے شواہد کو محفوظ کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ ملبہ ہٹانے کے ان آپریشنز میں شامل قابض ادارے اور نجی کمپنیاں اگر بین الاقوامی جرائم کے شواہد مٹانے میں مددگار ثابت ہوئیں تو انہیں فوجداری جوابدہی (Criminal Liability) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ البانیزی کو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مقرر کیا ہے، تاہم وہ براہِ راست آرگنائزیشن کی ترجمان کے طور پر بات نہیں کرتیں؛ نیز فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیل کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی وجہ سے وہ امریکی پابندیوں کی زد میں بھی ہیں۔ 8 اکتوبر 2023ء سے اسرائیل، امریکی حمایت کے ساتھ، غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں 73,000 سے زائد شہداء اور 1,74,000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 90 فیصد بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure) تباہ ہو چکا ہے۔