آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

امن فورس یا اسرائیلی ایجنڈا؛ یوگنڈا کے دستے غزہ میں کیا کرنے آ رہے ہیں؟

کمپالا / یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)

مشرقی افریقی ملک یوگنڈا نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے نفاذ اور سکیورٹی انتظامات کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس (International Stability Force) کا حصہ بننے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت تقریباً 1,200 یوگنڈین فوجیوں کو تعینات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم یوگنڈا اور اسرائیل کے دیرینہ دفاعی و سفارتی تعلقات نے اس مشن کی غیر جانبداری اور کردار پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

یوگنڈا کی پارلیمنٹ نے 6 اگست کو اپنے فوجیوں کو غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ بنانے کی باقاعدہ منظوری دی ہے۔ یہ تجویز سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ "پیس کونسل" کے فریم ورک کے تحت غزہ میں مستقل جنگ بندی کے نفاذ کے لیے پیش کی گئی تھی۔یوگنڈا کے وزیر دفاع نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ امریکی نمائندوں نے صدر یوویری موسیوینی سے رابطہ کر کے اس بین الاقوامی مشن میں دستے فراہم کرنے کی باضابطہ درخواست کی تھی۔ اگرچہ سرکاری طور پر تعیناتی کی حتمی تاریخ اور دستوں کی کل تعداد کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم مصدقہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ کمپالا نے پارلیمانی منظوری کے بعد 1200 فوجی بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

بین الاقوامی فورس کا ڈھانچہ اور متوقع کردار

طرح کردہ خاکہ کے مطابق، غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی فورس کی مجموعی تعداد 20 ہزار اہلکاروں تک ہو سکتی ہے، جس کی قیادت امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز (Jasper Jeffers) کے سپرد کیے جانے کا امکان ہے۔

اس فورس کے بنیادی مقاصد درج ذیل بتائے گئے ہیں:

  • جنگ بندی کی براہ راست نگرانی کرنا
  • غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کے راستوں کو محفوظ بنانا
  • فلسطینی پولیس کو تربیت دینا اور علاقے کے داخلی سکیورٹی انتظامات میں معاونت فراہم کرنا

تاہم ماہرین کے مطابق، یہ مشن حماس کے ہتھیار ڈالنے، اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور غزہ کے انتظامی مستقبل جیسے پیچیدہ اور حساس معاملات سے جڑا ہوا ہے۔ اگر فریقین کے مابین کوآرڈینیشن ناکام ہوتا ہے تو اس فورس کا کردار محض امن کی نگرانی کے بجائے براہِ راست مسلح محاذ آرائی میں تبدیل ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

یوگنڈا کا نکتہ نظر اور پارلیمانی خدشات

یوگنڈا اپنے دفاعی دستوں کے صومالیہ، جنوبی سوڈان اور جمہوری جمہوریہ کانگو میں امن مشنز کے وسیع تجربے کو اس تعیناتی کا بنیادی جواز قرار دیتا ہے۔ یوگنڈا کی پارلیمنٹ میں ملٹری نمائندے ہنری ماتسیکو کا کہنا ہے کہ یوگنڈا کی پیپلز ڈیفنس فورسز کو علاقائی و عالمی بحرانوں میں "استحکام کا ستون" سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب، پارلیمنٹ کے اندر سے اس مشن کے دائرہ کار پر شدید تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ حسن کیرومیرا نے متنبہ کیا کہ اسرائیل-فلسطین تنازع دہائیوں پر محیط ہے اور یوگنڈا کے فوجیوں کی شمولیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تنازع کے بنیادی اسباب حل ہو جائیں گے یا جنگ مکمل طور پر رک جائے گی۔ ارکان نے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ کیا فوجیوں کا کام صرف فائر بندی کی مانیٹرنگ تک محدود رہے گا یا وہ کسی تصادم کی صورت میں طاقت کے استعمال پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ ڈیفنس پارٹنرشپ اور غیر جانبداری کا امتحان

جولائی 2016 اور فروری 2020 میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے یوگنڈا کے دورے کیے، جہاں صدر موسیوینی کے ساتھ قدس اور کمپالا میں سفارت خانوں کے قیام اور تعلقات کی مضبوطی پر بات چیت ہوئی۔

19 ستمبر 2022 کو دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کی باقاعدہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے، جس میں عسکری تربیت، دفاعی آلات کی فراہمی، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور انٹیلی جنس شیئرنگ شامل تھی۔

اگست کے دوران یوگنڈا اور برونڈی کے عسکری وفود نے غزہ میں دستوں کی ممکنہ تعیناتی کے تکنیکی امور پر مشاورت کے لیے اسرائیل کا دورہ بھی کیا۔

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک طرف کمپالا اس مشن کو بین الاقوامی امن میں پارٹنرشپ کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف تل ابیب کے ساتھ اس کے عسکری اور دفاعی معاہدات اس کی ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر ساکھ پر گہرے سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں یوگنڈا کے فوجیوں کی غزہ میں موجودگی محض ایک فوجی تعیناتی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر یوگنڈا کی سفارتی اور سٹریٹیجک حکمت عملی کا ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔

سورس: الجزیرہ