آپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

اسرائیلی فوج کی الخلیل حملے کی تصاویر پر فرانسیسی فوٹوگرافر سے تفتیش

اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" کی جمعہ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کے فوٹوگرافر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں الخلیل حملے اور تعاقب کے دوران پہلے سے موقع پر موجود ہونے کا کیا مطلب ہے؟ قابض حکومت تحقیقات کر رہی ہے کہ اس رپورٹر کو اس کارروائی کی پہلے سے اطلاع تو نہیں تھی؟

فرانسیسی ایجنسی کی جانب سے شائع کی گئی تصاویر میں حملہ آوروں کو حملے کے وقت واضح طور پر دکھایا گیا؛ جن میں سے ایک شخص پستول اٹھائے ہوئے تھا اور فوجی چوکی پر تعینات اسرائیلی اہلکاروں پر نشانہ باندھ رہا تھا، جبکہ دوسرا حملہ آور ایم 4 (M4) رائفل لیے ہوئے تھا۔ دیگر تصاویر میں فائرنگ کے دوران مسلح افراد کی نقل و حرکت اور جھڑپ کے مناظر کو بہت قریب سے دکھایا گیا۔ان اسرائیلی دعووں پر فوٹوگرافر یا فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کی جانب سے ابھی تک کوئی ردِعمل یا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعہ کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں 20 منٹ سے زائد جاری رہنے والی مسلح جھڑپ کے بعد دو فلسطینیوں کی شہادت اور چھ اسرائیلی اہلکاروں کے زخمی ہونے کا اعلان کیا تھا، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فوج نے وضاحت کی کہ حملہ آوروں کی شناخت الخلیل کے رہائشی حمودہ اور فراس الجعبہ کے نام سے ہوئی ہے جو جھڑپ کے دوران شہید ہو گئے، نیز فوجی دستوں نے شہر میں ان کے مکانات اور دیگر مشتبہ افراد کے گھروں پر چھاپے مارے۔

سورس: الجزیرہ